Saturday , November 18 2017
Home / مضامین / اسلامی ممالک کا فوجی اتحاد راحیل شریف کے دورہ سعودی عرب پر قیاس آرائیاں

اسلامی ممالک کا فوجی اتحاد راحیل شریف کے دورہ سعودی عرب پر قیاس آرائیاں

امتیاز متین ، کراچی
اگر سوچا جائے تو سپریم کورٹ میں ان دنوں جو باتیں ہو رہی ہیں اور پانامہ پیپرز کے حوالے سے جو قانونی بحث چل رہی ہے وہ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کے لیے ہر روز نئی شرمندگیوں کا سامان لے کر آتا ہے۔ یوں تو نواز شریف ملک کے وزیر اعظم ہیں اور آئے دن کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی پروجیکٹ کے سنگ بنیاد کی نقاب کشائی بھی کر رہے ہیں اور تقریریں بھی کر رہے ہیںاور پیکیجز کا اعلان بھی کر رہے ہیں لیکن لگ یہ رہا ہے کہ اب وہ پاکستان کی سیاست میں قصۂ پارینہ بننے والے ہیں۔ سپریم کورٹ میں وزیر اعظم کی نا اہلی کے بارے میں بات ہونا شروع ہو گئی ہے، ممکن ہے کہ عدالت کوئی تحقیقاتی کمیشن بنا کر کیس کو کچھ مہینے اور کھینچ دے لیکن کمیشن کی رپورٹ بھی نواز شریف کے لیے کوئی اچھا پیغام لے کر نہیں آئے گی۔ مسلم لیگ ن کے رہنمائوں نے ہر سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے باہر یا پریس کانفرنسوں میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے خلاف کزشتہ کئی ماہ سے جس قسم کی بیہودہ زبان استعمال کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہوا اس کے بھی عوامی سطح پر کوئی مثبت نتائج برآمد نہیں ہو سکے ہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ جب گزشتہ دنوں بی بی سی نے ان کے لندن میںقیمتی  فلیٹوں کی آف شور کمپنیوں سے متعلق رپورٹ شائع کی توحکومت کی جانب ملک کے تمام اخبارات اور میڈیا میں یہ خبر چلوائی گئی کہ بی بی سی جھوٹی خبر شائع کرنے پر اپنے رپورٹر کے خلاف تفتیش کر رہا ہے لیکن اگلے روز بی بی سی نے کہا کہ وہ اپنی خبر پر قائم ہے۔اگر کوئی سمجھے تو نواز شریف اور ان کے اہل خانہ ہر گزرتے دن کے ساتھ انتہائی شرمندگی اور بدعنوانی کے الزامات کی بے عزتی کے ساتھ اپنے سیاسی کیرئیر کے اختتام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ان تمام حالات کے پیش نظر کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ انتخابات سے پہلے الیکشن کمیشن کو آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی سختی سے جانچ پڑتال کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا، کیونکہ اگر اس نے اپنی ذمہ داری پوری کی ہوتی تو آج وزیر اعظم کے حوالے سے سپریم کورٹ میں کیس نہ چل رہا ہوتا اورنہ ہی وزیر اعظم کے جھوٹ بولنے پر اسمبلی میں تحریک استحقاق جمع ہو تی۔
یہ پاکستانی سیاست کا المیہ ہے کہ جمہوریت کی علمبرداری کا دعویٰ کرنے والی سیاسی جماعتیں اور ان کی حکومتیں ،  بادشاہتوں کی طرح چلائی جاتی رہی ہیں۔ نواز شریف پارٹی کے سربراہ ہیں اور اپنی بیٹی مریم نواز کو اگلا وزیر اعظم بنانے کا ارادہ کر رہے تھے لیکن اب وہ پانامہ پیپرز اسکینڈل میں بری طرح گھری ہوئی ہیں اور اپنی تمام تر دولت اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے طویل اقتدار کی تاریخ کے باوجود شاید سیاست کے لیے نا اہل ہو جائیں گی۔ دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف ہیں جو ان شاید بگڑتے ہوئے سیاسی حالات یا خاندانی اختلافات کے باعث خاموش ہیں اور اپنے بڑے بھائی کے سیاسی منظر سے غائب ہونے کا انتظار کر رہے ہیں ، یہ بھی اپنے بیٹے حمزہ شہباز کو پنجاب کا اگلا وزیر اعلیٰ بنوانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ادھر پیپلز پارٹی میں سیاسی وراثت بھٹو خاندان سے نکل کر زرداری خاندان میں جا چکی ہے  بدعنوانی کے الزامات میں گھرے ہوئے پارٹی کے کو چیئر مین آصف علی زرداری اپنے نوجوان بیٹے اور بے نظیر بھٹو کی وراثت میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بننے والے بلاول زرداری کو آگے لانے پر مجبور نظر آ رہے ہیں جبکہ ان کے انتخاب لڑنے کا معاملہ بھی ڈانواں ڈول ہی ہوتا نظر آ رہا ہے۔
آئندہ انتخابات کے حوالے سے یہ ایک بڑا سوال یہ ہے کہ 2018ء میں کون سی سیاسی جماعتیں قومی افق پر ابھر کر سامنے آئیں گی؟ گزشتہ انتخابات میں پی ٹی آئی نے کراچی میںاچھے خاصے ووٹ حاصل کیے تھے اور ایم کیو ایم کو ملک کی دوسری سیاسی جماعتوں کی طرح اپنے حلقۂ اثر میں انتخابی دھاندلی اور جعلی ووٹنگ کا کھل کر سہارا لینا پڑا تھا۔ تاہم عمران خان نے مسلم لیگ ن پر پنجاب میں انتخابی دھاندلی کا الزام لگا کر چار حلقوں کو کھولنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن میاں صاحب نے حسب عادت اس معاملے کو اتنا کھینچا تھا کہ 2014ء میں اسلام آباد میں طویل دھرنے تک نوبت پہنچی تھی اور ان کے ساتھ پاکستان عوامی تحریک کے کارکن بھی جا کر دھرنے پر بیٹھے تھے کہ ان کے 14 کارکنوں کو پولیس نے قتل کیا تھا۔ اس مقدمے میں شریف برادران وزیر داخلہ پنجاب کے خلاف ایف آئی آر کاٹی جا چکی ہے، یہ ایک ایسا مقدمہ ہے جو شریف برادران کو اگر پھانسی گھاٹ تک نہ بھی لے گیا تو بھی جیل تک تو لے جا سکتا ہے۔
جنرل راحیل شریف آرمی چیف کے عہدے سے ریٹائر تو ہو گئے ہیں لیکن وہ اب بھی خبروں میں موجود ہیں، گزشتہ دنوں جب وہ سعودی بادشاہ سلمان کی دعوت پر سعودی عرب گئے تو بہت سے لوگوں نے ان خبروں کو درست سمجھ لیا کہ وہ وہاں سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے 39 ملکوں کے عسکری اتحاد Islamic Military Alliance to Fight Terrorism (IMAFT) کی فوج کی قیادت سنبھالنے گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ یہ خبریں گردش کر رہی تھیں لیکن کسی مصدقہ ذریعے سے اس بارے میں کوئی خبر نہیں آئی تھی جبکہ یہ خبر بھی پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کے انٹرویو میں بولے گئے ایک جملے سے پھیلی تھی لیکن جب چیئرمین سینیٹ نے ان سے اس خبر کا ماخذ پوچھا تو ان کے پاس کوئی معقول جواب نہیں تھا۔ تاہم اس دوران ٹی وی چینلوں پر خوب گرما گرمی ہوئی اور بغض معاویہ میں بولنے نے کہا کہ جنرل (ریٹائرڈ) راحیل شریف کو یہ پیشکش ٹھکرا دینی چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ ابھی سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے اس فوجی اتحاد کے خد وخال واضح نہیں ہیں۔ دوسری بات یہ کہ اگر جنرل (ریٹائرڈ) راحیل شریف کو نیٹو جیسی اس فوج کا پہلا سپہ سالار اعظم بنانے پر اتفاق کر لیا گیا تو اس کے لیے حکومت اور فوج کی اجازت لینا ضروری ہوگا۔ اگر جنرل (ریٹائرڈ) راحیل شریف اس فوج کے کمانڈر انچیف بن گئے تو یہ یقیناً پاکستان کے لیے عزت اور فخر کی بات ہوگی۔
بین الاقوامی منظر نامے میں جنرل (ریٹائرڈ) راحیل شریف کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ دنوں ڈیوس اکنامک فورم میں انہیں انسداد دہشت گردی کے بارے لیکچر دینے کے لیے خاص طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ انہوں نے آپریشن ضرب عضب، پاک افغان سرحد کی حقیقی اور معاشرتی صورتحال اور انسداد دہشت گردی کے لیے پاکستان کے کردار اور درپیش مسائل پر نکتہ نظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالتوں سے دہشت گردی کے خلاف تیز انصاف فراہم کرنے میں مدد ملی۔ ’’ڈیجیٹل دور میں دہشت گردی‘‘ کے عنوان سے ہونے والے اس مباحثے میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آرمی پبلک اسکول میں ایک سو سے زیادہ بچوں کی شہادت نے قومی سوچ پیدا کی اور ہم نے کامیابی سے 150 سے زیادہ دہشت گردی کے نیٹ ورک توڑے اور 8 ہزار کلومیٹر کا علاقہ دہشت گردوں کے قبضے سے کلیئر کروایا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں دہشت گرد تیزی سے ارتکاب جرم کے قابل ہو گئے ہیں اور ان کے ہمدرد اور فنانسر ڈجیٹل پلیٹ فارمز کا موثر استعمال کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے تمام ملکوں کو انٹیلی جنس شیئرنگ کرنا ہوگی اور اس کے ساتھ ہی کشمیر اور فلسطین جیسے مسئلوں کا حل تلاش کرنا بھی پوری دنیا امن کے لیے فائدہ مند ہو گا۔
دوسرا کیس ایک کمسن گھریلو ملازمہ پر تشدد کا ہے۔ طیبہ نامی کمسن لڑکی ایک ایڈیشنل سیشن جج راجہ ظفر خان کے گھر میں کام کرتی تھی جسے کی جج کی اہلیہ ماہین ظفر عرف مانو باجی نے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا جبکہ اس کے ساتھ ویسے بھی جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا تھا۔ جب اس بچی کو زخمی حالت میں اسلام آباد کے بڑے سرکاری ہسپتال میں لایا گیا تو وہاں سے اس معاملے کی خبر میڈیا میں چل گئی، لکین روایتی سرکاری طریقہ کار کے مطابق ابتدائی پولیس تفتیش میں بچی کے گھر کی سیڑھیوں سے گر کر زخمی ہونے کا دعویٰ کر کے اور پھر بچی کے مبینہ والدین سے راضی نامہ کرکے معاملہ دبانے کی کوشش کی گئی لیکن چیف جسٹس جناب جسٹس ثاقب نثار نے ان خبروں کا از خود نوٹس لیتے ہوئے اس کیس کی تحقیقات کرنے کا حکم دے دیا۔ اس کیس نے ایک بات تو ثابت کر دی ہے کہ پاکستان میں غربت کی چکی میں پسنے والے بہت سے لوگ غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ غربت اور چند ہزار روپے کے لا متناہی قرضوں میں ڈوبے ہوئے لوگ کبھی اپنے بچوں کا سودا اینٹوں کے بھٹّوں پر کرتے ہیں تو کبھی یہ کہانیاں سامنے آتی ہیں کہ کمسن لڑکے ریس کے اونٹ دوڑانے کے لیے خلیج کی ریاستوں میں بھیج دیے گئے ہیں۔ کبھی یہ غربت کے مارے لوگ اپنی کمسن بچیوں کو گھروں میں کام کرنے بھیج دیتے ہیں اور کمسنی کے دنوں میں وہ گھروں میں جھاڑو پوچھے کرتے اور برتن دھوتے اور مار کھاتے گزار دیتی ہیں۔ ایسی کمسن بچیوں کی اکثر راتیں آنسو بہاتے اور اپنے والدین کو برا بھلا کہتے ہوئے گزرتی ہیں جنہوں نے چند روپے کے عوض انہیں گھروں سے دوربحیج  دیا ہے، ماضی میں ایسے کیس بھی سامنے آئے ہیں جن میں گھریلو ملازمائوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا تھا ۔ادھر اندرون سندھ سے بھی کبھی کبھار نجی جیلوں خبریں آ جاتی ہیں، ممکن ہے آج بھی وڈیروں کی نجی جیلوں میں قیدی موجود ہوں اور ملک بھر میں نہ جانے کتنے غریب مقروض خاندان ایسے ہیں جو اپنے کبھی نہ ختم ہونے والے قرضوں کی معمولی رقوم کی وجہ سے اپنے خاندانوں سمیت غلامی کی زنجیروںمیں جکڑے ہوئے ہیں؟
ان دنوں پاکستان میں بائیں بازو کے پانچ بلاگرز کی چند دنوں میں گمشدگی ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ غائب ہونے والوں میں سلمان حیدر، احمد وقاص گورایا، عاصم سعید ، احمد رضا نصیر اور ثمر عباس شامل ہیں۔ یہ پانچوں لوگ حکومت، پاکستان میں سرگرم مذہبی عسکریت پسند گروہوں اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کھل کر لکھا کرتے تھے۔ ان پانچوں کے لاپتہ ہونے کے بعد کچھ لوگوں نے حسب عادت اپنا اشارہ ملک کے خفیہ اداروں کی طرف ہی کیا ہے جس طرح اپریل 2015ء میں سبین محمود کے قتل کے بعد کیا تھا جو کراچی کے پوش علاقے میں ٹی شاپ چلاتی تھیں جہاں اہم موضوعات پر گفتگو ہوتی تھی لیکن جلد ہی سبین محمود کے قاتل پکڑے گئے تھے جو ایک اسلامی شدت پسند تنظیم سے تعلق رکھتے تھے اور اس ٹی شاپ کی نشستوں میں باقاعدگی سے شرکت کرتے تھے۔ اس وقت سوشل میڈیا اور دوسرے میڈیا میں یہ بحث جاری ہے کہ یہ گمشدہ بلاگز اپنے فیس بک پیجز پر لبرل سوچ کے پرچار میں توہین رسالت کے مرتکب ہو رہے تھے یا نہیں؟ یا ان کے پس پردہ مقاصد کچھ اور تھے؟ یہ تو آئندہ دنوں میں ہی معلوم ہو سکے گا کہ انہیں کون اٹھا کر کہاں اور کیوں لے گیا تھا ؟

TOPPOPULARRECENT