Wednesday , September 26 2018
Home / Top Stories / اسلام آباد جھڑپوں میں شدت ۔ سکیوریٹی فوج کے حوالے

اسلام آباد جھڑپوں میں شدت ۔ سکیوریٹی فوج کے حوالے

احتجاجیوں اور پولیس تصادم میں 8 ہلاک ، 200 زخمی ، تحریک ختم نبوت و تحریک لبیک یا رسول اللہ کے قائدین سے مذاکرات کیلئے حکومت تیار
اسلام آباد ۔ /26 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کی حکومت نے پولیس اور احتجاجیوں کے درمیان تصادم کے بعد امن بحال کرنے کیلئے فوج کو طلب کیا ہے ۔ اسلام آباد میں ان دھرنوں کے ساتھ پھوٹ پڑنے والی جھڑپوں میں اب تک 8 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے ہیں ۔ یہ احتجاجی پاکستان کے سخت گیر مذہبی گروپس سے تعلق رکھتے ہیں ۔ یہ مذہبی گروپس حکومت کے خلاف احتجاج کررہے ہیں جس نے اس سال اکٹوبر کے اوائل میں الیکشن ایکٹ 2017 ء میں چند ترامیم شامل کی تھیں ۔ اس کے بعد تنازعہ کھڑا ہوا ۔ حکومت نے ان ترامیم کو محض ’’غلطی ‘‘ قرار دے کر پرانی شکل کو بحال کردیا تھا یہ ترامیم احمدیہ جماعت سے متعلق تھیں جنہیں حکومت پاکستان نے 1974 ء میں ایک آئینی ترمیم کے تحت غیر مسلم قرار دیا تھا مگر وزیراعظم نواز شریف کی بیدخلی کے بعد انہیں پارٹی کا دوبارہ صدر بنانے کا جواز پیدا کرنے کے لئے الیکشن قوانین میں ردوبدل کردیا گیا جس پر پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں نے احتجاج کیا اور ذمہ دار افراد کے خلاف عدالتی تحقیقات و مطالبہ کیا۔ بعد ازاں تحریک ختم نبوت ، تحریک لبیک یا رسول اللہ اور سنی تحریک پاکستان نے سڑکوں پر نکل کر راستے روک دیئے ۔ گزشتہ 3 ہفتوں سے اسلام آباد جانے والی قومی شاہراہ پر رکاوٹیں کھڑی کرکے دھرنا دیا جارہا ہے ۔ عدالت کے حکم پر وزیر داخلہ نے کل ان دھرنا دینے والوں کو طاقت کے ذریعہ منتشر کرنے کی کوشش کی تو حالات مزید خراب ہوگئے ۔ پولیس اور نیم فوجی دستوں نے اسلام آباد جانے والی قومی شاہراہ پر دھرنا دینے والوں کے خلاف آنسو گیاس شیل برسائے اور ربر کی گولیاں بھی چلائی ۔ تاہم جب یہ کارروائی ہلاکت خیز بن گئی تو سکیوریٹی فورس کو واپس طلب کرلیا گیا ۔ دھرنوں کیخلاف آپریشن معطل کردیا گیا ۔ کل جھڑپوں میں کم از کم 8 افراد ہلاک ہوئے تھے ۔ اخبار ڈان نے لکھا ہے کہ اس جھڑپ میں کوئی بھی سکیوریٹی جوان ہلاک نہیں ہوا ہے جبکہ کم از کم 9 سینئر پولیس عہدیدار زخمی ہوئے ہیں ۔ جن میں راؤلپنڈی سٹی پولیس کے سربراہ اسرار عباس شامل ہیں ۔ محکمہ صحت کے مطابق زائد از 200 افراد زخمی ہیں ۔ وزارت داخلہ نے کل رات قانونی قواعد پر مبنی حکم جاری کیا تھا اور دارالحکومت میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال پر قابو پانے فوج کی تعیناتی کا اختیار دیا تھا ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ توقع ہے کہ ایک ہنگامی اجلاس منعقد کرکے صورتحال پر غور و خوص کریں گے ۔ جنرل باجوہ متحدہ عرب امارات کے دورہ پر تھے ۔ وہ اپنا سفر مختصر کرکے کل رات ہی وطن واپس ہوئے ہیں ۔ فوج کو فیض آباد کے اطراف پوزیشن پر تعینات کئے جانے کا امکان ہے ۔ رینجرس کو پوزیشن لینے کا حکم دیا گیا ہے ۔ اس صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے چیف منسٹر پنجاب شہباز شریف نے وزیراعظم عباسی سے ملاقات کی۔ حکومت دھرنے پر بیٹھے مذہبی گروپس کے قائدین سے دوبارہ مذاکرات شروع کرنا چاہتی ہے ۔ راؤلپنڈی اسلام آباد کو ملانے والی فیض آباد انٹر چینج سڑک پر دھرنا جاری ہے ۔ ایکسپریس ہائی وے اور لاہور جانے کے لئے موٹر وے کو مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے ۔ دھرنا کرنے والوں نے پولیس پر سنگباری کی ہے اور کئی موٹر گاڑیوں کو آگ لگادی ۔ 10 سے زائد پولیس کی گاڑیوں کو نذر آتش کیا جاچکا ہے۔ خانگی ٹیلی ویژن چیانلوں اور سوشیل میڈیا پر اب بھی پابندی ہے ۔ یہ دھرنے پاکستان کے دیگر شہروں تک پھیل گئے ہیں ۔ یہ احتجاجی حکومت کی ناکامیوں پر برہم ہیں اور حکومت سے استعفیٰ کا مطالبہ کررہے ہیں ۔

لاہور میں تعلیمی ادارے 2 دن بند
لاہور ۔ /26 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کی پنجاب حکومت نے آج فیصلہ کیا کہ صوبہ میں بگڑتی لا اینڈ آرڈر کی صورتحال کے باعث دو دن کے لئے تمام تعلیمی اداروں کو بند کردیا جائے ۔ سخت گیر مذہبی گروپس کی جانب سے بڑے پیمانہ پر تشدد کے باعث حکومت تعلیمی اداروں کو بند رکھنا چاہتی ہے ۔ تحریک ختم نبوت ، تحریک لبیک یا رسول اللہ اور سنی تحریک پاکستان کی جانب سے گزشتہ 3 ہفتوں سے اسلام آباد اور دیگر بڑے شہروں کو جانے والی سڑکوں کو بند کردیا ہے اور ریلوے ٹریفک کے ساتھ روڈ ٹریفک میں خلل پیدا کیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT