Friday , June 22 2018
Home / Top Stories / اسلام آباد میں طاقتور بم دھماکہ، 23 ہلاک

اسلام آباد میں طاقتور بم دھماکہ، 23 ہلاک

اسلام آبا ۔ 9 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع فروٹ اور ویجیٹیبل مارکٹ میں آج ایک طاقتور بم دھماکہ ہوا، جس میں کم از کم 23 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے۔ دارالحکومت کے مضافات میں واقع سیکٹر I-11 میں یہ حملہ کیا گیا جو فوجی شہر راولپنڈی سے متصل واقع ہے۔ یہ حملہ ایسے وقت ہوا جبکہ حکومت نے طالبان کے ساتھ

اسلام آبا ۔ 9 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع فروٹ اور ویجیٹیبل مارکٹ میں آج ایک طاقتور بم دھماکہ ہوا، جس میں کم از کم 23 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے۔ دارالحکومت کے مضافات میں واقع سیکٹر I-11 میں یہ حملہ کیا گیا جو فوجی شہر راولپنڈی سے متصل واقع ہے۔ یہ حملہ ایسے وقت ہوا جبکہ حکومت نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے تاکہ ایک دہے سے جاری تشدد کو ختم کیا جاسکے، جس نے اب تک 40 ہزار سے زائد افراد کی جانیں لے لی ہیں۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسیس کے وائس چانسلر پروفیسر جاوید اکرم نے بتایا کہ ہمیں 20 نعشیں موصول ہوئی ہیں اور مزید 3 نعشیں ہولی فیملی ہاسپٹل میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 54 زخمیوں کو یہاں شریک کیا گیا ہے جن میں اکثر کی حالت نازک ہے۔ بتایا جاتا ہیکہ تقریباً 5 کیلو وزنی بم امرود کے ڈھیر میں رکھا گیا تھا جو مارکٹ لایا جانے والا تھا۔ یہ دھماکہ صبح اولین وقت میں ہوا جبکہ لوگ روزمرہ کے ہراج میں حصہ لینے کیلئے یہاں جمع تھے۔ اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس سلطان اعظم تیموری نے یہ بات بتائی۔ انہوں نے کہا کہ حملہ میں 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان دھماکوں کے بعد دونوں ہاسپٹلس میں ایمرجنسی کا اعلان کردیا گیا۔ بلوچستان یونائیٹیڈ آرمی نے اس دھماکہ کی ذمہ داری قبول کی ہے جو ایک غیرمعروف علحدگی پسند تنظیم ہے اور یہ جنوب مغربی صوبہ میں سرگرم ہے۔ اس گروپ نے کہا کہ بلوچستان میں جاریہ ہفتہ فوجی کارروائی کے انتقام کے طور پر یہ حملہ کیا گیا جس میں 30 دہشت گرد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس گروپ نے کل ٹرین میں ہوئے دھماکوں کی بھی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے دھماکہ کی مذمت کی اور حملہ میں عام شہریوں کی موت پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایسے حملوں کو جن میں بے قصور شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، غیراسلامی قرار دیا۔ واضح رہے کہ طالبان نے 10 اپریل تک جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔ سیکوریٹی عہدیداروں اور پولیس نے سارے علاقہ کا محاصرہ کرلیا اور تلاشی مہم میں شدت پیدا کردی۔ انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد خالد کھٹک کے مطابق دھماکہ کے وقت مارکٹ میں 1500 تا 2000 افراد موجود تھے۔ دھماکہ کے مقام پر انسانی نعشیں بکھری دکھائی دے رہی تھیں اور ہر طرف خون آلود کپڑے اور میوؤں کے باکسیس پڑے ہوئے تھے۔ یہ دھماکہ ایسے وقت ہوا جبکہ ایک ماہ قبل عدالت کے احاطہ کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں 11 افراد بشمول ایک جج ہلاک ہوگئے تھے۔ پاکستانی شہروں میں بم دھماکے اکثر ہوتے ہیں لیکن دارالحکومت اسلام آباد میں شاذونادر ایسا دیکھا جاسکتا ہے۔ صدر ممنون حسین اور وزیراعظم نواز شریف نے ان دھماکوں کی مذمت کی۔ وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے مقام دھماکہ کا دورہ کیا اور فوری تحقیقاتی رپورٹ طلب کی۔

TOPPOPULARRECENT