Friday , October 19 2018
Home / Top Stories / اسلام آباد میں پولیس و احتجاجیوں میں جھڑپ ، ایک ہلاک ، 150 زخمی

اسلام آباد میں پولیس و احتجاجیوں میں جھڑپ ، ایک ہلاک ، 150 زخمی

قومی شاہراہ پر سکیورٹی فورسیس کی کارروائی ، 2000 احتجاجیوں کیخلاف 4000 پولیس آفیسر سرگرم ، سوشیل میڈیا بند

اسلام آباد ۔ 25 نومبر۔(سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد جانے والی اصل قومی شاہراہ پر راستہ روک کر احتجاج کرنے والے سینکڑوں افراد کو منتشر کرنے کیلئے پولیس اور نیم فوجی دستوں نے کارروائی شروع کی ۔ اس دوران دونوں جانب جھڑپوں میں ایک سکیورٹی جوان ہلاک اور دیگر 150 زخمی ہوئے ۔ یہ آپریشن اس وقت شروع کیا گیا جب اسلام آباد ہائیکورٹ نے کل وزیرداخلہ احسان اقبال کے خلاف تحقیر عدالت کی نوٹس جاری کی تھی جو سڑکوں کو صاف کرنے کے احکامات پر عمل آوری میں ناکام ہوئے تھے ۔ حکومت پاکستان نے مقبول عام سوشیل میڈیا سائیٹس جیسے فیس بک ، ٹوئیٹر اور یوٹیوب کو بند کردیا ہے ۔ احتجاجیوں کے خلاف جاری کارروائی کے دوران سوشیل میڈیا کو بند رکھا گیا یہ فیصلہ تقریباً تمام نیوز چیانلوں کو معطل کردینے کے بعد کیا گیا ۔ فوجی ترجمان نے کہاکہ فوجی سربراہ قمر جاوید باجوہ نے وزیراعظم شاہد خاخان سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور اس مسئلہ کا پرامن حل تلاش کرنے پر زور دیا ۔ اب تک پولیس فیض آباد سے احتجاجیوں کو ہٹانے میں ناکام رہی تھی ۔ یہ احتجاجی تقریباً 3 ہفتوں سے اس شاہرہ پر قبضہ کرکے راستہ روک رکھے تھے ۔ تقریباً 2000 تحریک ختم نبوت ، تحریک لبیک رسول اللہ اور سنی تحریک پاکستان کے کارکنوں نے دو ہفتوں سے احتجاج کرتے ہوئے اسلام آباد اکسپریس وے کو روک دیا تھا ۔ پولیس نے دھرنا کرنے والوں کو ہفتہ کی صبح 7 بجے تک دھرنا ختم کرنے کی مہلت دی تھی ۔ پولیس اور ایف سی کے 8 ہزار ملازمین نے اس آپریشن میں حصہ لیا۔ اب پولیس نے فیض آباد میں دھرنے کی جگہ پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ واٹرکینن سے مظاہرین کے خیمے گرادیئے گئے ہیں۔ تحریک لبیک پاکستان کے ترجمان اعجاز اشرفی نے کہا کہ ہمارے ہزاروں افراد یہاں موجود ہیں یہاں سے ہم فرار نہیں ہوں گے ۔ آخری دم تک پوری قوت سے مقابلہ کریں گے ۔ پولیس نے 2000 احتجاجیوں کو منتشر کرنے 4000 آفیسرس کو سرگرم کردیا تھا ۔ پولیس آفیسر مسعود تمیزی نے کہا کہ درجنوں احتجاجیوں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔

اسلام آباد آپریشن معطل
دریں اثناء اسلام آباد میں فیض آباد کے دھرنے کے شرکا کے خلاف آپریشن معطل کردیا گیا جبکہ مشتعل مظاہرین دارالحکومت کے کئی دیگر علاقوں میں پھیل گئے۔قبل ازیں دھرنے کے شرکاء کو صبح 7 بجے تک دھرنا ختم کرنے کی حتمی ڈیڈ لائن دی گئی تھی تاہم قطعی مہلت کے ختم ہونے کے بعد 8 ہزار 5 سو سے زائد سکیورٹی اہلکاروں نے دھرنے کے شرکاء کو چاروں اطراف سے گھیر کر آپریشن کا آغاز کردیا۔دھرنے کے شرکاء کے پاس شیلنگ سے بچنے کیلئے ماسک اور پتھراؤ کیلئے غلیل موجود ہیں جس سے مسلسل سکیورٹی اہلکاروں پر پتھراؤ کیا جارہا ہے۔جھڑپوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے جبکہ مظاہرین کی جانب سے پولیس کی گاڑیوں سمیت کئی عام شہریوں کی گاڑیوں کی آگ لگادی ہے۔ خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق سینیئر پولیس حکام نے کہا کہ عدالتی احکامات کے مطابق ہم فیض آباد کا علاقہ خالی کرالیں گے،ہماری پوری کوشش ہے کہ کوئی جانی نقصان نہ ہو‘‘۔پولیس کی جانب سے دھرنے کے مقام پر مظاہرین کی خیمہ بستی بھی خالی کرالی گئی اور وہاں موجود ان کا سامان بھی جلادیا گیا۔ سنگین صورتحال کے پیش نظر دھرنے کے مقام پر ایمبولینسز بھی منگوائی گئیں جبکہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (پمز) اسپتال کی انتظامیہ کے مطابق اب تک 175 زخمیوں کو ہسپتال لایا گیا ہے جن میں پولیس کے 57 اور ایف سی کے 44 اہلکار جبکہ 49 عام شہری شامل ہیں۔علاوہ ازیں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے تمام سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کو دھرنے سے متعلق نشریات چلانے سے روکتے ہوئے تمام ٹی وی چینلز کو اپنے نمائندوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت جاری کردیں۔فیض آباد آپریشن کے بعد اسلام آباد دھرنے کے مظاہرین کی حمایت میں ملک کے دیگر کئی شہروں میں بھی مظاہروں کا آغاز ہوگیا ہے۔کراچی کے علاقے نمائش چورنگی پر بھی مذہبی جماعت کی حمایت میں جاری دھرنے پر بیٹھے شرکاء کو منتشر کرنے کیلئے سیکیورٹی اہلکاروں نے تیاری کرلی۔ لاہور میں پنجاب اسمبلی سمیت مختلف علاقوں میں بھی مذہبی جماعت کے کارکنوں نے اسلام آباد آپریشن کے خلاف مظاہرہ شروع کردیا جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی معطل ہوگئی ہے۔ لاہور میں امامیہ کالونی کے قریب ریلوے ٹریک پر بھی مظاہرین جمع ہوگئے اور ٹرین سرویس معطل ہوئی۔

پاکستان: ٹی وی چینلوں کے نشریہ پر پابندی
پاکستانی حکام نے اسلام آباد میں مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے بعد کی صورتحال کے پیشِ نظر تمام پرائیویٹ ٹیلی ویژن نیوز چینلز کو عارضی طور پر بند کرنے کا حکم دے دیا۔ میڈیا کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی حکم پر پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے پہلے تمام ٹی وی چینلز کو دھرنے کی کوریج نہ دینے کی ہدایت جاری کی تھیں۔ پھر تمام پرائیویٹ ٹی وی چینلز کو بند کرنے کا حکم دے دیا۔ وزیر اعظم کی ہدایت کے فوری بعد ملک کے مختلف علاقوں میں نیوز چینلز بند ہونا شروع ہوگئے ۔ چنانچہ تمام میڈیا کو اپنے اسٹاف کی سکیورٹی یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی گئیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پوزیشنز کو ٹی وی پر براہِ راست نہ دکھایا جائے ۔اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں سماجی رابطے کی مقبول ترین ویب سائٹس فیس بک اور ٹوئٹر بھی بلاک ہونا شروع ہوگئیں ہیں۔

 

پاکستان میں بڑھتے تشدد پر قابو پانے فوج طلب
پُرتشدد احتجاجیوں کا ہندوستان سے ربط، اسلام آباد کا الزام
اسلام آباد ، 25 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) حکومت پاکستان نے آج آرمی کو طلب کرلیا جب یہاں جھڑپیں شدت اختیار کرگئیں جو پولیس اور نیم فوجی دستوں کی کٹر مذہبی گروپوں سے وابستہ احتجاجیوں کے خلاف کارروائی کے نتیجے میں شروع ہوئیں۔ یہ احتجاجیوں نے دارالحکومت کی طرف کلیدی شاہراہ پر راستہ روک رکھا تھا، جن کو وہاں سے منتشر کرنے سکیورٹی فورسیس نے آپریشن شروع کیا جس کے نتیجے میں 200 سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ وزارت داخلہ نے کہا کہ فوج کو اسلام آباد میں برقراری امن کیلئے غیرمعینہ مدت تک رکھا جائے گا۔ (ابتدائی خبر صفحہ 4 پر) پاکستان کے وزیر داخلہ احسن اقبال نے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد میں زائد از دو ہفتوں سے مظاہرہ کرنے والی کٹر مذہبی جماعتوں نے ’’ہندوستان سے رابطہ کیا‘‘ تھا اور حکومت تحقیقات کررہی ہے کہ انھوں نے ایسا کیوں کیا؟ اقبال نے اپنے الزام کے تعلق سے کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔ فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوا نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے صورتحال کے بارے میں فون پر بات کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT