Saturday , September 22 2018
Home / اضلاع کی خبریں / اسلام امن و سلامتی کا مذہب، دعوت و تبلیغ کی تلقین

اسلام امن و سلامتی کا مذہب، دعوت و تبلیغ کی تلقین

مدن پلی۔/15فبروری، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) شہر مدن پلی میں دو روزہ تبلیغی اجتماع منعقد کیا گیا جس میں شہر اور اطراف کے بندگان خدا نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ شہر کی وقف زمین جو حضرت ٹیپو سلطان شہید ؒ نے انعام میں جامع مسجد کو دی تھی اور غیروں کے قبضہ میں تھی اور حال ہی میں اس کو حاصل کرکے تعمیراتی کام چل رہا ہے، وہاں پر یہ اجتماع منعقد ہوا۔

مدن پلی۔/15فبروری، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) شہر مدن پلی میں دو روزہ تبلیغی اجتماع منعقد کیا گیا جس میں شہر اور اطراف کے بندگان خدا نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ شہر کی وقف زمین جو حضرت ٹیپو سلطان شہید ؒ نے انعام میں جامع مسجد کو دی تھی اور غیروں کے قبضہ میں تھی اور حال ہی میں اس کو حاصل کرکے تعمیراتی کام چل رہا ہے، وہاں پر یہ اجتماع منعقد ہوا۔ دو روزہ اس اجتماع میں علمائے کرام نے انسانی زندگی پر اور دین سے لاپرواہی کے نتائج اور سنت رسولؐ اور احکام الہی سے دور ہونے پر آرہی تکالیف اور قیامت کے دن اس زندگی کے حساب و کتاب کی یاددہانی کی ، آخر میں مولانا قاسم قریشی نے تفصیل سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے، اور مومن وہ ہے جو امن کو قائم کرتا ہے اور امن کا پیغام دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان دنیا میں اتنا گھر گیا ہے کہ وہ اپنے معبود کو بھلا بیٹھا ہے۔ انبیاء کرام بندوں کو خالق کی یاد دلاتے، گناہوں سے روکتے، جنت کی طرف بلاتے، اللہ کے بندوں کو اللہ سے جوڑتے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نبی آخرالزماں ہیں۔ چونکہ سلسلہ نبوت ختم ہوچکا ہے تو یہ ذمہ داری اولیاء اللہ نے انجام دی۔ اس دعوت و تبلیغ کے لئے حضرت محبوب سبحانی عبدالقادر جیلانی ؒ اپنے وطن جیلان کو چھوڑ کر بغداد گئے اور حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ اپنے مقام چشت کو چھوڑ کر اجمیر شریف آئے۔انہوں نے کہا ہم دنیا میں اس طرح محو ہوگئے ہیں کہ ہم سب کچھ دنیا ہی کو سمجھ بیٹھے ہیں اور آخرت کو بھول گئے ہیں جبکہ دنیا ایک دھوکہ ہے۔ دنیا صرف ایک امتحان کی جگہ ہے جسے ہم بھول گئے ہیں۔ سنت رسولؐ سے بے رُخی کرنے والے دنیا میں بھی ناکام اور آخرت میں بھی بربادی ہے۔ نیک اعمال والی زندگی کیلئے ہر وقت محنت کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی طرف سے راہ حق کی جانب آنے کا ارادہ کریں اور محنت کریں تبھی اللہ کی مدد بھی شامل حال ہوگی۔ انہوں نے اولیاء اللہ کی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اولیاء اللہ دین کو پھیلانے کی غرض سے ہجرت کرتے تھے اور اپنی دنیاوی ضرورتوں کو دعاؤں سے حاصل کرلیتے تھے۔ کبھی جنت کے دسترخوان کی خواہش کرتے تو فوراً اللہ تعالیٰ جنت کے میوہ جات بھی بھیج دیتا ۔ انہوں نے دہلی کے قطب مینار کے قریب مہرولی مسجد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی وہاں پر حضرت خواجہ اجمیری ؒ کے جنت سے دستر خوان کی فرمائش پر اللہ کے بھیجے ہوئے دستر خوان کی نشانیاں موجود ہیں۔ حضرت مولانا قاسم قریشی نے ایک اہم موضوع پر بھی روشنی ڈالی کہ مسلمان اپنے مسلمان بھائی سے حسد نہ کرے۔ انہوں نے حدیث شریف بیان کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو اپنے دل کو آئینہ کی طرح صاف رکھنا چاہیئے۔ اپنے بھائی کے تعلق سے کوئی کھوٹ نہیں رکھنی چاہیئے۔ حسد سے بچنا چاہیئے، حاسد دنیا میں اپنے بھائی کو دیکھ کر جلتا ہے اور آخرت میں دوزخ میں جلتا ہے۔ انسان کے دل کو توڑنا خانہ کعبہ کو توڑنے سے بھی بدتر ہے اور گناہ کبیرہ ہے۔ اس لئے آپس میں مل جل کر رہنا چاہیئے۔ انسان محبت و اخوت کا پیکر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپس میں سلام کی عادت ڈالو، سلام کو پھیلاؤ تو سلامتی میں رہیں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سلام کرنے میں ہر وقت پہل فرماتے۔ حضرت انس ؓ کا قول ہے کہ وہ دس سال میں کبھی بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرنے میں پہل نہ کرسکے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سلام کی اہمیت کس قدر رہی ہے۔ انہوں نے برادران وطن کے حقوق کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ جب تک اپنے پڑوسی جو یہودی تھا کے گھر کی خبر نہ لیتے کھانا نہیںکھاتے۔ برادران وطن پڑوسیوں سے اچھے تعلق بنائے رکھنے سے اسلام کی عظمت کا پتہ چلتا ہے۔ انہوں نے ایک اور مرض کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آجکل ماں باپ کی نافرمانی کثرت سے پائی جاتی ہے۔ والدین نے اپنے بچوں کیلئے اپنی راحت قربان کی اپنا سب کچھ لٹایا مگر یہی اولاد بڑی ہوکر انہیں نظرانداز کردیتی ہے۔ حدیث شریف کا مفہوم بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ والدین کی ناراضگی میں اللہ کی ناراضگی ہے۔ اللہ اور والدین ناراض ہوں تو مرتے وقت کلمہ بھی نصیب نہیں ہوتا۔ مولانا نے بیوی، بچوں کے حقوق کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ گھر کے کام کاج میں بیوی کا ساتھ دینے کو عیب نہ سمجھیں، یہ عجیب بات ہے کہ بیوی سے خدمت کراتے ہیں مگر اس کو دین کی بات نہیں سکھاتے۔ انہوں نے کہا کہ دین کو سیکھنے کیلئے اللہ کے راستے میں نکلیں۔ جماعتوں کی حرکت اللہ کے احکام کو لوگوں تک پہنچانے کیلئے ہے۔آخر میں مولانا نے دعاء کی۔ ایک لاکھ سے زائد کا مجمع اپنے گناہوں کی توبہ کرتے ہوئے اللہ کی رحمت کی امید سے گھر واپس ہوا۔

TOPPOPULARRECENT