Sunday , July 22 2018
Home / Top Stories / اسلام اور مسلمان جرمنی کا حصہ نہیں : نئے وزیرداخلہ

اسلام اور مسلمان جرمنی کا حصہ نہیں : نئے وزیرداخلہ

اشتعال انگیز بیان کی ہر گوشہ سے مذمت
جرمنی کے 4.5 ملین مسلمانوں کے منجملہ 1.8 ملین مسلمان جرمن شہری
تارکین وطن کا بدستور خیرمقدم، مسلمانوں کو الگ تھلگ کرنا ملک کیلئے تباہ کن ہوگا

برلن ۔ 16 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) جرمن چانسلر انجیلا مرکل کے نئے سخت گیر وزیرداخلہ نے آج ایک ایسا بیان دیا ہے جس نے انجیلا مرکل کے چوتھی میعاد کیلئے منتخب ہونے کے بعد ایسا طوفان برپا کردیا ہے جس کو روکنا مشکل ثابت ہوسکتا ہے۔ ایک انٹرویو کے دوران نئے وزیرداخلہ ہورسٹ سیہوفر نے مشہور و معروف ’’بلڈ ڈیلی‘‘ نامی اخبار کو ایک انٹرویو کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مذہب اسلام جرمنی کاحصہ نہیں ہے۔ ان سے پوچھا گیا تھا کہ اس وقت جرمنی میں تارکین وطن کی کثیر تعداد میں آمد اور یہاں پناہ حاصل کرنے کے خواہاں افراد کے ارادوں سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام بھی جرمنی کا ہی ایک حصہ ہے، اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ جس کا جواب فوری طور پر نفی میں دیتے ہوئے سیہوفر نے کہا کہ اسلام کا جرمنی سے کچھ لینا دینانہیں ہے۔ جرمن کی تہذیب و تمدن عیسائیت سے جڑی ہوئی ہے جہاں سنڈے (اتوار) کو آرام کا دن ہوتا ہے اور بھی کئی چرچ ہالیڈیز (تعطیلات) منائی جاتی ہیں اور ایسٹرو کرسمس ہمارے اہم تہوار ہیں۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہاں آباد مسلمان فطری طور پر جرمنی کا حصہ ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم سچے عیسائی ہونے کے ناطے اپنی روایتوں اور رسم و رواج کو قربان کردیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ جرمنی میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 4.5 ملین ہے اور ان میں سے 1.8 ملین مسلمان جرمن شہری ہیں جن کی نسلی جڑیں ترکی سے جڑی ہوئی ہیں۔ موجودہ نسل کے باپ دادا نام نہاد ’’گیسٹ ورکرس‘‘ کے طور پر 1960ء اور 1970ء کے دہے میں جرمنی میں مختلف ملازمتیں کرنے کیلئے مدعو کئے گئے تھے۔ 1970ء اور 1990ء کے دہوں کے درمیان سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا لیکن حالیہ دنوں میں 2015ء سے مسلم کمیونٹی کی تعداد میں قابل لحاظ اضافہ ہوا ہے کیونکہ شام اور افغانستان جیسے جنگ زدہ ممالک سے تارکین وطن پناہ کی تلاش میں جرمنی کا رخکررہے ہیں اور جرمنی نے بھی فراخدلی کا ثبوت دیتے ہوئے ہر تارک وطن کو خوش آمدید کہا ہے۔ اس سے ہماری وسیع القلبی کا اندازہ بخوبی کیا جاسکتا ہے۔ بہرحال سیہوفر کا اشتعال انگیز بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب انجیلا مرکل نے جرمنی کی چانسلر کی حیثیت سے صرف دو روز قبل چوتھی بار حلف لیا تھا۔ اس وقت جرمنی میں دائیں اور بائیں بازو کے عظیم اتحاد کی حکومت ہے۔ سیہوفر کرسچین سوشیل یونین (CSU) کے قائد ہیں جو مرکل کی کرسچین ڈیموکریٹس کی معاون پارٹی تصور کی جاتی ہے اور مرکل کابینہ کیلئے نئے نئے منتخب ہوئے ہیں۔ ان کی توسیع شدہ وزارت داخلہ میں ہوم لینڈ سیکوریٹی کی ذمہ داریاں بھی شامل ہیں۔ دوسری طرف طاقتور قدامت پسند وولف گیانگ شیوبل نے 2006ء میںکہا تھا کہ اسلام جرمنی اور یوروپ کا حصہ ہے۔ اس وقت وہ مرکل کی پہلی کابینہ میں وزیرداخلہ تھے تاہم اس وقت ان کے بیان پر کوئی خاص ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔ کرسچین وولف اس وقت ملک کے صدر تھے اور انہوں نے 2010ء میں اسلام کے تعلق سے پائے جانے والے افکار کو ایک قومی مباحثہ کے ذریعہ بدلنے کی کوشش کی تھی لیکن اس وقت دائیںبازو کے قدامت پسندوں نے ان پر جرمن میں عیسائیت کی جڑوں کو کاٹنے کا الزام عائد کیا تھا۔ تاہم مرکل کا موقف اسلام اور مسلمان کے تئیں بالکل الگ ہے۔ وہ مسلمانوں اور اسلام کو جرمنی کا ہی حصہ تصور کرتی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ جب شام اور دیگر جنگ زدہ ممالک کے پریشان حال تارکین وطن جرمنی کا رخ کررہے تھے، تو اس وقت بھی مرکل نے اپنے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں کی تھی بلکہ پناہ گزینوں کا خیرمقدم کیا تھا۔ لہٰذا سیہوفر نے مسلمانوں کے تعلق سے جو بھی اشتعال انگیز بیان دیا ہے وہ متحدہ حکومت کے اتحاد کو متاثر کرسکتا ہے جبکہ اپوزیشن گرینس سے تعلق رکھنے والے جوئرجن ٹریٹین نے بھی سیہوفر کے اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے دیئے گئے بیانات کی شدید مذمت کی اور کہا کہ مسلمانوں کو خود سے الگ تھلگ کرنا جرمنی کیلئے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT