Monday , June 18 2018
Home / مذہبی صفحہ / اسلام دِلوں پر دستک دیتا ہے

اسلام دِلوں پر دستک دیتا ہے

دوسری و آخری قسط مفتی سید صادق محی الدین فہیمؔ

دوسری و آخری قسط مفتی سید صادق محی الدین فہیمؔ

(گزشتہ کا تسلسل) داعیانہ منصب پر فائز ملت اسلامیہ نے اپنے فرض منصبی سے غفلت برتی اور دشمنانِ اسلام کی طرف سے اسلام اور پیغمبر اسلامﷺ پرکئے جانے والے ناروا اعتراضات کا کماحقہٗ جواب نہیں دے سکی۔ اس اُمت نے نہ تو کوئی عملی پیغام دیا اور نہ ہی اُن تک پہنچ کر ان کی غلط فہمیوں کے ازالہ کی کوئی مؤثر کوشش کی۔ موجودہ سائنسی ترقیات اور ذرائع ابلاغ کے بے شمار وسائل دسترس میں رکھتے ہوئے بھی ملت اسلامیہ سے کماحقہٗ اسلام کی خدمت نہیں ہوسکی۔ اگر یہ کام کرلیا جاتا تو ممکن تھا کہ کم ازکم سادہ لوح ’’مدعو‘‘ گروہ باطل کے جال میں پھنسنے سے بچ جاتا۔

چنانچہ ہندو مذہب کے ایک معروف رہنما ’’سوامی لکشمی شنکرآچاریہ‘‘ بھی انہیں افراد میں شامل تھے، جو باطل کے ہتھکنڈوں میں آگئے تھے اور ان کے دل میں اسلام کی بدگمانی ایسی راسخ ہوگئی تھی کہ انہوں نے اسلام کی دہشت گردی کی تاریخ ’’The history of Islamic terrorism‘‘ کے نام سے کتاب لکھی اور ان کی اس کتاب کے کئی زبانوں میں تراجم شائع ہوئے۔ اسلام کے لئے منفی رُجحانات پیدا ہونے کی بنیاد انہوں نے یہ بتائی کہ ہندی روزنامہ ’’جاگرن‘‘ میں بلراج مدھو کے لکھے ہوئے مضمون ’’دنگے فساد کیوں ہوتے ہیں‘‘ سے وہ متاثر ہوئے، بطوردلیل اس مضمون میں غیر مسلموں سے مقابلہ کرنے کی آیتیں درج کی گئیں تھیں، لیکن اس کا پس منظر اس میں بیان نہیں کیا گیا تھا اور کسی دشمن اسلام کی طرف سے شائع شدہ ایک ورقیہ بھی ان کو دستیاب ہواتھا، جس میں قرآن پاک کی چوبیس (۲۴) آیات سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ اللہ کا یہ کلام قرآن دوسرے مذاہب سے ٹکراؤ کی تعلیم دیتاہے۔ ان کے متاثر ہونے کی ایک دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ اس داعی امت کے ذمہ داروں کا کم سے کم کوئی دفاعی پیغام بھی ان تک نہیں پہنچ پایا تھا، اس لئے وہ کہتے ہیں کہ اس صورت میں خود ان کے دل میں یہ داعیہ پیدا ہوا کہ کیوں نہ راست اسلام کی کتاب قرآن مقدس سے اس کا موازنہ کرلیا جائے۔ چنانچہ ان کو قرآن مجید کا ہندی ترجمہ والا ایک نسخہ دستیاب ہوا، جب انہوں نے ان ساری آیات کو پڑھا اورمضمون میں درج کردہ آیات سے اس کا تقابل کیا توخود بلراج مدھوک کا مضمون اور وہ دوسرا ورقیہ جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوا اور حق ان پر کھل گیا۔ سوامی جی چوں کہ ایک صاف دل اور کینہ و کپٹ سے پاک انسان ہیں، اپنی سادہ لوحی کے سبب وہ ضرور متاثر ہوئے تھے، لیکن اسلام کے مطالعہ نے ان کی آنکھیں کھول دیں۔

غلط فہمی کے ازالہ کے لئے سوامی جی نے شخصی طور پر خود اہل اسلام سے ملاقاتیں کیں، اس موقع پر اہل اسلام نے کسی جذباتی ردعمل کا اظہار نہیں کیا، بلکہ حق کی بے آمیز دعوتِ توحید اُن تک پہنچائی اور اسلام کی حقانیت و صداقت کو واضح کرنے والی کچھ کتابیں ان کی خدمت میں تحفۃً پیش کی۔ اس کے مطالعہ سے اسلام کے خلاف ان کے دل و دماغ پر چھائے ہوئے بادل آہستہ آہستہ چھٹنے لگے، پھر ان کے ضمیر نے ان کو جھنجھوڑا اور جو کچھ انہوں نے اسلام کی مخالفت میں اپنی کتاب میں مواد جمع کیا تھا، ان کو یک لخت غلط معلوم ہوا اور ان کو اس غلطی پر اتنا پچھتاوا ہوا کہ وہ بے چین ہو گئے اور اپنی اس کتاب کا رد لکھ کر اس کی تلافی کرنے کی ٹھان لی۔ اس کے لئے انہوں نے اللہ کا کلام قرآن مجید اور نبیٔ مکرمﷺ کے فرمودات پر مبنی احادیث پاک اور آپﷺ کی حیاتِ مبارکہ کا پوری گہرائی و بصیرت کے ساتھ مطالعہ کیا، جس سے دل و دماغ پر چھائے ہوئے غبار کے پردے خود بخود ہٹنے لگے اور اسلام کی ایک پاکیزہ شبیہ ان کے سامنے آموجود ہوئی، جس کی روشنی میں انہوں نے اپنے سابقہ لکھے پر ندامت کے آنسو بہاکر نئی کتاب لکھی اور اس کا نام انہوں نے ’’اسلام خوف و دہشت کا مذہب نہیں، بلکہ امن اور سلامتی کا مذہب ہے‘‘ رکھا۔ ان کے خیالات و احساسات پر اسلام کی حقانیت ایسی چھاگئی کہ انہوں نے اسلام کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے یہ کہا کہ ’’میرے اس مطالعہ نے اسلام کی حقانیت کو واضح کردیا کہ اسلام دہشت گردی کا مذہب نہیں، وہ تو سر تاپا امن و امان کا مذہب ہے، بھائی چارہ اور انسانی اخوت کا علمبردار ہے۔ وہ توکسی کے بھی خونِ ناحق کا مخالف ہے اور انسانیت کے احترام کا داعی ہے، ہر ایک انسان کی جان کے ساتھ اس کے مال اور اس کی عزت و آبرو کا نگہبان ہے‘‘۔

اسلام کی اہم خوبیاں بیان کرتے ہوئے سوامی جی نے مسلمانوں سے اپنی سابقہ مخالف اسلام جذبہ کے تحت لکھی ہوئی کتاب کے سلسلہ میں معافی کے خواستگار ہوئے اور اس بات کا برملا اعلان کیا کہ ’’میری پہلی کتاب میں جو کچھ میں نے لکھا ہے، وہ سراسر غلط اور لاعلمی پر مبنی تھا، میں اس کو واپس لیتا ہوں‘‘۔ پھر ساری انسانیت کو پیغام دیا کہ ’’اسلام کی حقانیت جاننے کے لئے میری دوسری کتاب کا ضرور مطالعہ کریں‘‘ اور یہ پیغام بھی دیا کہ ’’دین و دنیا کی کامیابی کے لئے قرآن و حدیث سے اپنا رشتہ جوڑے رکھیں اور ان سے روشنی حاصل کرنے کے لئے ان سے براہ راست استفادہ کریں‘‘۔ الغرض کتاب و سنت کی پاکیزہ تعلیمات و نبیٔ مکرم سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ حیات ایسی فطری ہیں، جو انسانی دِلوں پر راست طور پر دستک دیتی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT