Monday , June 18 2018
Home / اضلاع کی خبریں / اسلام میں انصاف اور حقوق العباد کو کافی اہمیت

اسلام میں انصاف اور حقوق العباد کو کافی اہمیت

نظام آباد میں جماعت اسلامی کا اجتماع، مولانا نعیم الدین اصلاحی کا خطاب

نظام آباد :4؍ جنوری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) امیر مقامی جماعت اسلامی ہند کی اطلاع کے بموجب بعدنمازمغرب مسجد رضا بیگ میں منعقدہ اجتماع سے خطاب کر تے ہوئے مولانا نعیم الدین اصلاحی نے کہاکہ ہرزمانہ میں ہر قوم میں اللہ کی ربوبیت کے لئے جھگڑا ہواہے انبیاء علیہ السلام کی بعثت کا مقصد ہی انسانیت کو ایک خدا کی طرف بلانا اور ایک خدا کی وحدانیت کو ہی اجاگر کرناتھا مادہ پرستی میں مبتلاہوکر ایک خدا کو بھلا بیٹھنے والوں کیلئے یاددہانی بھی کروانی تھی اسی خدا کی طرف بلانے کیلئے انبیاء علیہ السلام نے مشکلات اور تکالیف کا سامنا بھی کیا قتل وخون کا بازار بھی گرم ہوا، ایسے ماحول میں ہم مسلمان اہل ایمان کی یہ ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ ہم انسانیت کو ایک خدا ایک رسولؐ اور ایک کتاب کی تعلیمات ان تک پہنچائیں تب ہی جاکر دنیا میں امن قائم ہوسکتاہے ورنہ پوری دنیااضطرابی کیفیت میں مبتلا رہے گی یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم ازخود ان تعلیمات پر عمل پیراہوتے ہوئے لوگوں کے سامنے عملی نمونہ پیش کریں مسلمان ہندوستان میں کم وبیش ہزار سال تک حکومت کئے تعمیراتی میدان میں انہوںنے ہندوستان کو بہت کچھ دیا لیکن دین کی تبلیغ کے بارے میں ہمیشہ غافل تھے اسی کا نتیجہ ہے کہ ہم یہ دور دیکھ رہے ہیں کاش ہمارے حکمراں اگر دین کا کام کرتے تو آج اس ملک کی صورتحال مختلف ہوتی دنیا میں ہمارے 60مسلم ممالک ہیں مگر کسی کے ہاں بھی اسلامی حکمرانی نہیں ہے اسی لئے اغیار ہم پر حاوی ہورہے ہیں اور ہمیں نقصان پہنچارہے ہیں اسلام عدل وانصاف احسان حقوق اللہ حقوق العباد(خدمت خلق)کوبے انتہا اہمیت دیتاہے آج پوری دنیا ان اعمال کرنے سے قاصر ہے لہٰذا پوری انسانیت بدامنی بدنظمی اور انتشار کا شکار ہے امت مسلمہ کوتو لوگوں کی بھلائی کیلئے بھیجا گیاتھاوہی امت مکمل طورپر اپنے فرض منصبی کو بھلاچکی ہے پھر توقع کس سے کی جاسکتی ہے ،اسلامی نظام حیات میں اللہ تعالیٰ کے بعداگر کسی کا بڑا درجہ ہے تو وہ والدین کا ہے ان کی خدمت ہمارافریضہ ہے لیکن امت کی صورتحال اس کے برعکس ہے ۔یہ سب ہماری کسب اور کمائی کا نتیجہ ہے بہرحال امت مسلمہ کو چاہئے کہ ایک جسد واحد کی طرح مل کر اتحاد و اخوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا انفرادی اوراجتماعی محاسبہ کریںکہ ہم سے کہاں چوک ہوگئی ہے۔ صحابہؓ نے قرآنی تعلیما ت اور اللہ کے رسولؐ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے مکہ مدینہ سے سارے عربستان پر اپنا سکہ جمادیاتھاسب سے بنیادی غلطی ہم نے یہ کہ قرآن سے رہنمائی حاصل کرناچھوڑ دیااور کچھ مخصوص موقعوں پر اس کی تلاوت کرکے یہ سمجھ رہے ہیںکہ ہم کو ثواب اور اجر ملے گا۔ ملے گاضرور لیکن جس طرح اس کا پڑھنا ہے اس کا حق ادا کرنا ہے ویساکریںگے تو یقینا ہماری زندگیوں اور پورے معاشرہ میں ایک صالح انقلاب برپاہوگا تب کہیں جاکر ہم کامیاب ہوں گے۔آخر میں موصوف کی دعاپر اجتماع اختتام کوپہنچا۔شرکاء کی بڑی تعداد موجود تھی۔پروگرام کی کاروائی جناب سید زاہدعلی نے چلائی۔

TOPPOPULARRECENT