Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / اسلام میں بیک وقت تین طلاق کی مذمت

اسلام میں بیک وقت تین طلاق کی مذمت

عدالت عظمیٰ کے فیصلہ پر غوروخوض، جامعتہ المؤمنات میں اجلاس، علماء کا خطاب
حیدرآباد۔23ستمبر(سیاست نیوز) طلاق ثلاثہ کے متعلق عدالت عظمیٰ کے حالیہ فیصلے کے تناظر میں مسلم دانشور خواتین کا ایک اجلاس جامعتہ المومنات مغل پورہ میںمنعقدہ ہواجس میںخواتین نے شرکت کی۔ اجلاس میں پیش کردہ قرارداد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مفتی محمد حسن الدین نے کہاکہ تین طلاق کے مسئلہ پر عدالت کے فیصلے سے عام مسلم خواتین میں یہ تاثر پیدا ہورہا ہے کہ اگر حکومت عدالت عظمی کے احکامات کے مطابق اس ضمن میںکوئی قانون مرتب کرتی ہے تو اس میں مسلمانوں کے علماء اہل سنت کی رائے طلب نہیںکرتی ہے ایسی صورت میں مسلم سماج اور حکومت کے درمیان ٹکرائو کی صورت پیدا ہوگی۔ چند خواتین جن کا بنیادی مقصد کچھ اور تھا کی درخواست پر عدالت نے مسلم پرسنل لا کے متعلق بناء علماء کی رائے حاصل کئے فیصلہ سنادیا ہے۔انہوں نے مزیدکہاکہ دنیا کا کوئی بھی قانون شرعی معاملات میںمداخلت نہیںکرسکتا۔ انہوں نے کہاکہ مذہب اسلام میں بیک وقت تین طلاق کی سختی کے ساتھ مذمت کی گئی ہے اور کم فہم لوگ جو دینی معلومات سے محروم بھی ہیں تاکید کے باوجود اس کا دھڑلے کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے سزاء کا تعین کرنے کے بجائے عدالت عظمی نے اندرون چھ ماہ قانون بنانے کی حکومت ہند کو ہدایت دی ہے جو سب سے بڑی تشویش کا سبب ہے۔ حکومت ہند کو چاہئے کہ وہ اس ضمن میںقانون مرتب کرنے سے قبل علماء اہل سنت ‘ اور مسلم پرسنل لاء سے بھی تجاویز حاصل کرے اور ان کے مشوروں پر ہی قانون بنائے ورنہ ایسے کسی بھی قانون کا مسلمانوں کے پاس احترام نہیںہوگا جو شرعی‘ عائیلی قوانین میں مداخلت کا سبب بنیں گے۔مفتی کاظم نقشبندی‘ حافظ صابرپاشاہ‘ فاروق علی خان ایڈوکیٹ اور دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔خواتین کے اجلاس میںشرکت کرنے والی خواتین میںپروفیسر اشرف رفیع‘ الحاجہ طیبہ تسنیم‘ ڈاکٹر مفتیہ رضوانہ زریں‘ ڈاکٹر فاطمہ عزیز‘ تحمینہ انیس‘ محترمہ جمیلہ بیگم‘محترمہ شیرین عباس‘ محترمہ معینہ بیگم اور دیگر کے نام قابل ذکر ہیں۔

TOPPOPULARRECENT