Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / اسلام میں دہشت پھیلانے والے گناہ کبیرہ کے مرتکب

اسلام میں دہشت پھیلانے والے گناہ کبیرہ کے مرتکب

فروعی اختلافات سے بالاتر ہوکر قرآن و سنت کی بنیاد پر متحد ہونے کا مشورہ، مولانا الشیخ محمد بن یحییٰ النینوی امریکہ کا انٹرویو

محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد 6 ڈسمبر ۔ اُمت واحدہ کے تصور کو عام کرنے کے لئے فروعی اختلافات سے بالاتر قرآن و سنت کی بنیاد پر متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ مولانا الشیخ محمد بن یحیٰی النینوی (شامی امریکی شہری) نے آج ایک خصوصی ملاقات کے دوران یہ بات کہی۔ انھوں نے بتایا کہ دہشت گردی کسی کے لئے بھی پسندیدہ عمل نہیں ہوسکتا چونکہ کوئی مذہب دہشت کی تعلیم نہیں دیتا۔ اسلام میں دہشت گردی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ جو لوگ اسلام کے نام پر دہشت پھیلارہے ہیں وہ درحقیقت گناہ کبیرہ کے مرتکب بن رہے ہیں۔ شیخ النینوی نے بتایا کہ اسلام کے بنیادی اصولوں پر ہر کسی کا اتفاق ہے اور اس سے انحراف کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انھوں نے داعش کی سرگرمیوں کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے کہاکہ انھیں خارج اسلام قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ وہ انتہائی سخت کبیرہ گناہوں کے مرتکب بن رہے ہیں۔ چونکہ اسلام نے معصوموں کی جان لینے سے سختی سے منع کیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ دنیا میں آج اگر کوئی دہشت گردی، جنگی جرائم، ہجرت، مسائل میں مبتلا ہے تو وہ مسلمان ہیں۔ چونکہ جب کبھی جنگیں مسلم ہورہی ہیں تو اُس کے مضر اثرات مسلمانوں پر مرتب ہورہے ہیں خواہ وہ افغانستان، عراق، لیبیا، یمن، شام یا کسی اور خطہ میں ہوں۔ شیخ النینوی نے کہاکہ دین اسلام امن و محبت کا مذہب ہے اور جب امن و محبت اس سے نکل جاتی ہے تو دین باقی نہیں رہتا۔ چونکہ امن و محبت کے ذریعہ ہی اس دین کی اشاعت ہوئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ آج جنگ کے اثرات سے متاثر ہوتے ہوئے اپنے ممالک سے ہجرت کرنے والوں کی بڑی تعداد مسلمانوں کی ہے جوکہ جنگی متاثرین ہیں اور ہجرت پر مجبور ہورہے ہیں۔ اسی طرح دہشت گردی کے اثرات خواہ وہ کسی کی جانب سے کی گئی ہو اُس کے متاثرین میں بھی بڑی تعداد مسلمانوں ہی کی ہے۔ اگر ایک مخصوص گروہ کوئی دہشت گردانہ کارروائی کرتا ہے تو اُس کارروائی کے متاثرین کم ہوتے ہیں کارروائی کے اثرات اطراف کے مسلمانوں کو کافی زیادہ متاثر کردیتے ہیں۔ الشیخ محمد بن یحیٰی النینوی نے بتایا کہ جب کبھی کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو اس کے منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ جس طرح ہمیں اس طرح کے واقعات کے تدارک کے لئے اقدامات کرنے چاہئے اُسی طرح دہشت گردی کے واقعات پوری طرح سے مسلمانوں سے منسوب کرنا بھی درست نہیں ہے۔ اُنھوں نے مشرق وسطیٰ اور مغربی ممالک کی سرگرمیوں کے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ مشرق وسطیٰ میں جو صورتحال ہے وہ سیاسی سرگرمیوں کا حصہ ہے اور عالمی سطح پر کہیں بھی سیاست دیانتداری  کے ساتھ نہیں کی جاتی۔ اسی لئے ان حالات پر تبصرہ کرنا درست نہیں ہوگا۔ انھوں نے عربی لہجہ میں عمومی اعتبار سے کئی علماء و صلحاء نے سیاست کو ’’السیاسۃ و نجاسۃ‘‘ قرار دیا جاتا ہے۔ جس سے سیاسی گندگی آشکار ہوتی ہے۔ شیخ نینوی نے بتایا کہ مغربی ممالک میں اسلام کی حقانیت جاننے کے متعلق رجحان میں اضافہ دیکھا جارہا ہے لیکن وہ اعداد و شمار بتانے کے موقف میں نہیں ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ نوجوانوں کو تحقیق کرنی چاہئے اور اس بات کو جاننے کی کوشش کرنی چاہئے دین حقیقی کیا ہے اور وہ کس کو اپنا معبود مان رہے ہیں۔ شیخ النینوی نے امن و آشتی کے فروغ اور شدت پسندی سے اجتناب کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ جب تک ہم نوجوانوں میں شعور بیدار نہیں کرتے اُس وقت تک یہ ممکن نہیں ہے کہ دنیا میں حقیقی امن قائم ہو۔ انھوں نے بتایا کہ اسلامی تعلیمات سے دوری دراصل تشدد کی سمت آمادہ کررہی ہے۔ داعش کی سرگرمیوں کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ بدقسمتی سے یہ لوگ مسلمان ہیں جو شیطانی عمل کے سبب  گناہ کے مرتکب ہورہے ہیں۔ داعش کی طرف رغبت سے نوجوانوں کو روکنے کے لئے اُنھیں حقائق سے واقف کروانے کے علاوہ دینی تعلیمات فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ یوم الشیخ محمد بن یحیٰی النینوی نے اہلسنہ والینٹرس اسوسی ایشن کی جانب سے منعقدہ ایک جلسہ عام سے خطاب کے دوران کہاکہ عقیدہ دراصل گانٹھ باندھنے سے لیا گیا لفظ ہے اور ایمان پر مضبوطی سے قائم رہنا اور جڑے رہنا ہی عقیدہ ہے۔ شیخ النینوی نے کہاکہ اسلام پر مضبوطی سے جمے رہنا ضروری ہے۔ دین اسلام میں انصاف کی اہمیت کا تذکرہ کرتے ہوئے انھوں نے حضرت عمرؓ کے دور خلافت کا ایک واقعہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ جس میں خلیفہ دوم ایک درخت کے نیچے آرام فرمارہے ہیں کہ عادل حکمراں کس اطمینان سے سوتا ہے۔ قرآن کو متواتر علم قرار دیتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ متواتر احادیث کے دلائل بھی موجود ہیں جوکہ ہمیں دین اسلام پر کاربند رہنے کی تعلیم دیتے ہیں۔ شیخ النینوی نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے درمیان تفریق نہ کرنے اور مقامات کا تعین نہ کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہاکہ ایک لمحہ کے صحابی کے مرتبہ کا بھی ہم اندازہ نہیں کرسکتے۔ اسی طرح اولیاء اللہ کی کرامات سے انکار نہیں کیا جانا چاہئے اور کرامت درحقیقت دین پر استقامت ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر علیم اشرف جائسی کے علاوہ دیگر موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT