Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / اسلام میں طلاق ثلاثہ کا کوئی تصور نہیں

اسلام میں طلاق ثلاثہ کا کوئی تصور نہیں

نائب صدر جمہوریہ ہند محمد حامد انصاری کی اہلیہ سلمی انصاری کا بیان
نئی دہلی، 9 اپریل (سیاست ڈاٹ کام )  نائب صدر حامد انصاری کی اہلیہ سلمی انصاری نے سرخیوں میں رہنے والیطلاق ثلاثہکے معاملے کو بکواس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قرآن میں ایسا کوئی تصور ہی نہیں ہے ۔سلمی انصاری نے خصوصی بات چیت میں کہاکہ اسلام میں طلاق ثلاثہ جیسی کوئی بات نہیں ہے ۔ قرآن کے مطابق شوہر کو ایک بار طلاق کہنے کے بعد تین ماہ تک انتظار کرنا ہوتا ہے اور طلاق بھی اسی وقت واقع ہوتا ہے جب تین گواہ اس وقت وہاں موجود ہوں۔انہوں نے کہاکہ طلاق ثلاثہ کا تصور پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک سے ہندستان میں آیا ہے ۔ سعودی عرب میں ایسا نہیں ہوتا۔ وہاں نکاح ایک معاہدہ کی طرح ہوتا ہے ۔ پاکستان اور بنگلہ دیش میں تو اس پر پابندی لگ گئی لیکن یہاں سخت گیر مولویوں نے اپنے اپنے طریقے سے قرآن کیتاویل کرکے اسے خواتین مخالف جامہ پہنا دیا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی مردوں کی بالادستی کی ذہنیت بھیطلاق ثلاثہ کو تقویت دیتی ہے ۔عام نظریات کے خلاف قرآن میں طلاق کو اس قدر مشکل بنانے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ عارضی غصہ میں کیا گیا فیصلہ نہیں ہوسکتا ۔سلمی انصاری نے کہاکہ اخبار میں اشتہار کے ذریعہ یا سوشل میڈیا کے ذریعہ طلاق دینے کا رواج زوروں پر ہے لیکن یہ بات عورتوں کی لاعلمی کے سبب فروغ پا رہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ قرآن عربی زبان میں پڑھی جا رہی ہے ۔ عام لوگ اس کا ترجمہ نہیں پڑھ رہے جس کا فائدہ اٹھا کر مولوی اپنے طریقہ سے قرآن کی تفسیر پیش کر رہے ہیں اور انہیں گمراہ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اگر عورتیں خود ہی قرآن پڑھنیلگیں تو انہیں خود بخود پتہ چل جائے گا کہ قرآن میںطلاق ثلاثہ جیسی کوئی بات نہیں ہے بلکہ یہ تو انہیں راستہ دکھاتا ہے ۔ سلمی انصاری نے کہاکہ قرآن پڑھئے ، حدیث پڑھئے اور خود دین کی باتوں سے واقفیت حاصلکیجئے ‘ میرا خیال ہے کہ عورتوں کو خود قرآن پڑھ کر اس پر غور کرنا چاہئے تاکہ انہیں پتہ چلے کہ اس میں کیا کہا گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT