Sunday , September 23 2018
Home / مذہبی صفحہ / اسلام میں عورت کے لئے برابری؟

اسلام میں عورت کے لئے برابری؟

محمد محمود

محمد محمود

موجودہ دَور میں خواتین کے لئے برابری کی بات کی جاتی ہے، خاص طورپر مغربی میڈیا اور ممالک اس میں پیش پیش رہتے ہیں۔ ایک طرف خواتین کے حقوق اور برابری کی بات کی جاتی ہے اور دوسری طرف اس کے پس پردہ وجوہات کچھ اور ہوتے ہیں۔ امریکی اور یوروپی ممالک کی جانب سے یہ افواہ پھیلائی جارہی ہے کہ ’’دنیا میں خواتین کو برابر کے حقوق نہیں دیئے جا رہے ہیں‘‘۔

اسلام میں عورت کو اعلیٰ مقام دیا گیا ہے، لیکن ذمہ داریاں انصاف کے ساتھ دی گئی ہیں۔ موجودہ دَور کے انصاف پسندوں کو یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ ایک اعلیٰ و ارفع اور انصاف پسند مذہب ہونے کے ناتے اسلام میں خواتین کے ساتھ انصاف کیا گیا ہے۔ جس برابری کا نعرہ لگاکر خواتین کو ورغلایا جارہا ہے، وہ اسلامی دستور کے منافی ہے۔ آغاز اسلام سے ہی خواتین کو عزت کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے، لیکن ان کو ذمہ داریاں ان کے مزاج کے مطابق سونپی گئی ہیں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کے حقوق اور ذمہ داریاں بھی بتائیں، لیکن دورِ حاضر کی خواتین ان تمام احکامات کو فراموش کرکے برابری کی بات کر رہی ہیں۔ آغاز اسلام سے ہی عورتوں نے کئی ذمہ داریاں نبھائیں، چنانچہ کئی مواقع پر کہا گیا کہ مردوں کے ساتھ خواتین بھی جنگوں میں برابر کی شریک رہیں، تاہم اس سے یہ مطلب اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ خواتین بھی میدانِ جنگ میں لڑتی تھیں، بلکہ شاذ و نادر ہی عورتوں کو میدان جنگ میں آنا پڑا اور برابر کے شریک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ’’خواتین اور بچے مجاہدین اسلام کی خدمت کیا کرتے تھے‘‘۔ کئی خواتین اپنے شوہروں اور بچوں کی حوصلہ افزائی کرتیں، بہت سی ان مجاہدین کے لئے کھانا تیار کرتیں اور ان کی سواریوں (اونٹوں اور گھوڑوں) کی دیکھ بھال کرتیں، اس طرح خواتین اسلام جنگوں میں حصہ لیا کرتی تھیں۔ اگر مردوں کے دوش بہ دوش لڑنے کی بات ہوتی تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کا بھی دستہ تیار کرتے، لیکن آپﷺ نے دنیا کو انصاف کا پیغام دیا اور صنف نازک کو ان کے مزاج کے مطابق ذمہ داریاں سونپیں، لیکن اس کے برعکس موجودہ دَور میں خواتین کا مزاج مختلف نظر آتا ہے۔

موجودہ دَور میں خواتین کو برابری کا درجہ دینے کے لئے تعلیم نسواں بھی موضوع بنا ہوا ہے، ہر طرف تعلیم نسواں کی بات کی جاتی ہے۔ کئی نوجوان لڑکیاں صرف اس لئے تعلیم حاصل کرتی ہیں، تاکہ انھیں ملازمت مل جائے، لیکن انھیں اس بات کی فکر نہیں ہوتی کہ ان کی تعلیم ایک مہذب اور بااخلاق معاشرہ کی تعمیر کے لئے کس قدر ضروری ہے۔ کیونکہ صرف ملازمت ہی واحد جگہ نہیں ہے، جہاں وہ اپنی تعلیمی قابلیت کا مظاہرہ کرسکیں، وہ تو زندگی کے ہر موڑپر اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔

دورِ حاضر کا مسلم معاشرہ اس بات کو فراموش کرچکا ہے کہ علم دین کا حاصل کرنا فرض عین ہے، جب کہ دُنیاوی علوم کا حصول فرض کفایہ ہے، لیکن ہم فرض عین پر فرض کفایہ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ آج کے اس پُرآشوب دَور میں روزہ، نماز، زکوۃ اور حج کے مسائل سیکھنا یا پھر قرآن مجید کی تلاوت کرلینا ہی علم دین سمجھا جا رہا ہے، جب کہ مذہب اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے اور زندگی کے ہر شعبہ کے لئے اس میں رہنمائی ہے۔ یہی وہ مذہب ہے، جس نے دنیا میں سب سے پہلے خواتین کے حقوق کی تعلیم دی اور اسی نے خواتین کو معاشرہ میں عزت بخشی، لیکن اس کے برعکس کچھ خواتین یہ سمجھتی ہیں کہ شرعی احکامات پر عمل کرکے وہ موجودہ زمانے سے ہم آہنگ نہیں ہوسکتیں یا پھر ترقی نہیں کرسکیں گی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ شرعی اصولوں پر عمل کرکے ہی ایک مہذب، خوشحال اور ترقی یافتہ معاشرہ کی تشکیل ہوسکتی ہے۔
کچھ لڑکیاں صرف اس لئے تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں، تاکہ وہ ملازمت کریں اور اپنی کمائی سے عیش و عشرت کی زندگی گزاریں۔ اس بات کے کچھ حد تک ذمہ دار والدین ہیں، کیونکہ وہ لڑکیوں کو اس لئے تعلیم دِلوانا چاہتے ہیں کہ ان کی بیٹی تعلیم حاصل کرکے اپنے سسرالی رشتہ داروں پر رعب جمائے اور کوئی اس کے خلاف کچھ کہنے کی جرأت نہ کرسکے۔ والدین و سرپرست ازدواجی زندگی کے حقوق، ذمہ داریوں اور امور خانہ داری سے واقف کروانے کی بجائے، مستقبل کے اندیشے بتانے میں مصروف ہیں۔ یہ بتانے کی بجائے کہ انھیں گھر کا ماحول کس طرح خوشگوار بنانا ہے، لڑکیوں کے ذہن میں سسرالی رشتہ داروں کے خلاف تعصب پیدا کیا جاتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ مستقبل کا خاکہ اپنی مرضی کے مطابق تیار کیا جاتا ہے اور یہ کہ لڑکی کو دو خاندانوں کو جوڑنے کے لئے نہیں، بلکہ محاذ آرائی کے لئے روانہ کیا جاتا ہے۔ اگر ہمارا مقصد تعلیم یہی رہا تو اس زریں قول کا کیا ہوگا کہ ’’ایک لڑکی تعلیم حاصل کرتی ہے تو دو خاندان سنور جاتے ہیں۔ ان میں نئی تبدیلیاں آتی ہیں اور گھر کا ماحول سدھر جاتا ہے‘‘۔

اپنے گھروں سے کئی میل دُور تعلیمی اداروں کا انتخاب، اُن اداروں کا غیر اخلاقی ماحول، آمد و رفت کے ذرائع اور والدین کی تعلیمی و دیگر مصروفیات سے لاتعلقی، معاشرے کے بگاڑ کی اصل وجوہات ہیں۔ الغرض یہ کہ مسلم خواتین اپنے حقوق اور حصولِ انصاف کے لئے شرعی قوانین پر سختی سے عمل پیرا ہوں اور اسی کے مطابق اپنی زندگیوں میں تبدیلی لائیں، کیونکہ مذہب اسلام نہ صرف مسلمانوں، بلکہ ساری انسانیت کے لئے مکمل دستورِ حیات ہے۔

TOPPOPULARRECENT