Saturday , December 16 2017
Home / Top Stories / اسلام پسندوں کے تشدد اور شامی پناہ گزینوں کی بازآبادکاری

اسلام پسندوں کے تشدد اور شامی پناہ گزینوں کی بازآبادکاری

مخالفت میںڈلاس کی مسجد کے روبرو مظاہرہ ‘ چند احتجاجی رائفلوں سے مسلح  ‘آسٹن میں جوابی احتجاج
رچرڈسن/ آسٹن ( امریکہ) 13ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) تقریباً 30افراد جن میں نصف سے زیادہ رائفلوں سے مسلح تھے مضافاتی علاقہ ڈلاس کی مسجد کے روبرو اسلام پسندوں کے تشدد اور شامی پناہ گزینوں کی بازآبادکاری کے خلاف احتجاج کرنے جمع ہوئے ۔ احتجاجی مظاہرین نے کل امریکی ۔ اسلامی تعلقات بیورو کے زیراہتمام ایک احتجاجی مظاہرہ کیا تھا جس کے جواب میں تقریباً 50افراد نے جوابی احتجاج کیا ۔ ایک اخباری فوٹو گرافر مبینہ طور پر جب دونوں فریقین سے باری باری تبادلہ خیال کررہا تھا تو احتجاجی مظاہرین پُرامن تھے ۔ پولیس عہدیداروں کی دخل اندازی ضروری نہیں ہے ۔ احتجاجی مظاہرین میں تین ’’ پرسنٹرس‘‘ کے ارکان شامل تھے جو اپنے آپ کو محب وطن سمجھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اپنے وطن کی مسلمانوں کے حملوں کے خلاف تحفظ کررہے ہیں ۔ دیگر مقامات پر سینکڑوں مظاہرین نے متحد طور پر نسل پرستی اور نفرت کے خلاف ڈلاس میں ایک پارک سے جلوس نکالا ‘ احتجاجی مظاہرین جلوس کی شکل میں مخالف اسلام کارکنوں کے احتجاج اور لفاظی کے خلاف احتجاج کررہے تھے ۔

دریں اثناء آسٹن سے موصولہ اطلاع کے بموجب تقریباً 12 افراد جن کے پاس بندوق رکھنے کا حق موجود تھا ایک نقلی اجتماعی فائرنگ کے مظاہرہ میں شامل تھے جو یونیورسٹی آف ٹکساس کے روبرو کیا گیا تھا ۔ اس کا مقصد صرف جوابی احتجاجی مظاہرہ تھا ۔ وہ نعرہ بازی کررہے تھے ۔ اس گروپ کے کئی ارکان نے حقیقی اسالٹ انداز کی رائفلیں اٹھا رکھی تھی ۔ یہ گروپ یہاں سے فرار ہوکر دوسرے مقام پر پہنچ گیا ‘6افراد پر گولی چلائی ۔ ان کی بندوقیں کارڈ بورڈ کی تھیں اور گولیاں چاک سے بنائی گئی تھیں ۔ یہ صرف نقلی فائرنگ تھی ۔ تقریباً ایک ہفتہ سے اس قسم کے مظاہرہ جاری ہے ۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ ہجوم اور ذرائع ابلاغ کے اجتماع سے بچنا چاہتے ہیں اور ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ فائرنگ کرنے والے کسی بھی وقت اور کسی بھی مقام پر فائرنگ کرسکتے ہیں ۔ اس طرح کے حقیقی فائرنگ کے واقعات میں کوئی بھی نہیں جانتا کہ اس کے ساتھ کیا پیش آئے گا ۔ اس لئے ہم دانستہ طور پر اس کی نقل کررہے ہیں اور کھلونا بندوقوں سے نقلی فائرنگ کررہے ہیں تاکہ حقیقی فائرنگ کے خطرات کی طرف امریکہ کی توجہ مبذول کروائی جاسکے ۔ چارلس وہٹمین نے 1966ء میں 16 افراد کو ہلاک اور دیگر کئی افراد کو زخمی کردیا تھا جب کہ وہ مرکزی کلاک ٹاور کے پاس اندھا دھند فائرنگ کررہا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT