اسلام کامل دین ہے

مولانا غلام رسول سعیدی

مولانا غلام رسول سعیدی

جب یہ کہا جاتا ہے کہ انسان کا مقصد حیات محض اللہ تعالی کی عبادت کرنا ہے تو اس سے بعض لوگوں کے ذہنوں میں یہ شبہ ابھرتا ہے کہ اسلام صرف نماز، روزہ اور تسبیح و سجدہ کا نام ہے، حالانکہ فی الواقع ایسا نہیں ہے۔ اللہ تعالی نے دینی اور دنیاوی معاشرت دونوں امور کے بارے میں احکامات اور ہدایات فرمائی ہیں۔ مثلاً اللہ تعالی فرماتا ہے: ’’جب نماز سے فارغ ہو جاؤ تو فوراً اسباب معیشت اور دنیاوی کاروبار کے لئے زمین میں پھیل جاؤ‘‘ (سورۃ الجمعہ۔۱۰) اسی طرح ایک جگہ فرماتا ہے: ’’نہ بزدل بنو اور نہ شکست پر رنج کرو، تمھیں کو غلبہ حاصل ہوگا، اگر تم مؤمن کامل ہو‘‘ (آل عمران۔۱۳۹) یہ بھی فرمان رب العالمین ہے کہ ’’اسلام کے دشمنوں کے خلاف غلبہ حاصل کرنے کے لئے جس قدر مادی قوت حاصل کرسکتے ہو کرو، ان قوتوں سے دشمنان اسلام کو زیر کرو‘‘۔ ان آیتوں کے باہمی مطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام دین و دنیا اور روحانی و مادی قوتوں کے درمیان توازن قائم رکھنا چاہتا ہے۔ نہ صرف اللہ پر توکل کرکے مادی اسباب سے صرف نظر کرلینا اسلام ہے اور نہ محض مادی اسباب پر تکیہ کرکے اللہ تعالی کی نصرت و حمایت اور اس کی طرف رجوع سے مستغنی ہونا اسلام ہے، بلکہ اللہ تعالی کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے ایمان و عمل کی قوت کے ساتھ ساتھ مادی اسباب کو بھرپور انداز میں حاصل کرکے نتیجہ کو اللہ رب العزت پر چھوڑ دینا، یہ حقیقت میں اسلام ہے۔

اسلام کو اللہ تعالی نے دین کامل قرار دیا اور فرمایا: ’’اللہ تعالی نے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمتیں پوری کردیں اور دین اسلام کو تمہارے لئے پسند کرلیا ہے‘‘ (المائدہ۔۳) اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے متعلق اسلام میں ہدایات موجود ہیں۔ زراعت، تجارت، ملازمت اور عامیانہ کسب کے طریقوں سے لے کر سیاست اور امارت تک انسانی معیشت کے متعلق ہر شعبہ کے لئے کتاب و سنت میں واضح احکام موجود ہیں۔ اسی طرح انسان کی نجی، خاندانی اور تمدنی زندگی، ماں باپ اور اولاد کے حقوق، زن و شوہر کے فرائض، اعزا و اقارب کے استحقاق سے لے کر ہمسایہ اور محلہ داروں تک کے حقوق کے بارے میں انسان کی تمام ذمہ داریوں کے بارے میں کتاب و سنت میں اصول و قواعد اور تفصیلی احکام موجود ہیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ان تمام اعمال کے لئے اسوہ اور نمونہ موجود ہے۔ اسی لئے آپﷺ نے فرمایا: ’’میں اسی لئے بھیجا گیا ہوں کہ ادھورے اخلاق کو پورا کروں‘‘۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے تجرد کی زندگی گزاری، اس لئے عیسائیوں کے لئے ان کے نبی کی زندگی میں ازدواجیت کا نمونہ نہیں ملتا۔ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام نے حکومت اور بادشاہی کی زندگی گزاری ہے، اس لئے ان کے پیروکاروں کو ان کی زندگی میں فقر اور مزدوری کا نمونہ نہیں ملتا۔ اس کے برخلاف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شادیاں کی ہیں اور تمدنی زندگی گزاری ہے، تیشہ اور کدال کو ہاتھ میں لے کر خندقیں کھودنے سے لے کر امیر سلطنت تک، عام گھریلو کاموں سے لے کر سیاست اور تجارت تک، ہر قسم کے کام کئے ہیں، تاکہ اگر ایک سربراہ مملکت اس بات پر فخر کرتا ہے کہ وہ خلیفۂ رسول ہے تو زمین کھودنے والا ایک معمولی دہقان بھی سینہ تان کر یہ کہہ سکے کہ میں بھی طریقہ مصطفیﷺ کا محافظ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا امین ہوں۔
کام کی باتیں
٭ اللہ تعالی کی عبادت اور اللہ تعالی کی فرماں برداری سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں۔
٭ تم اللہ کے دین کی مدد کرو، اللہ تعالی تمہاری مدد فرمائے گا۔
٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن میں اپنا کردار ادا کروگے تو بہترین خلائق بنو گے۔
٭ ہر عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہو۔ کمانا اور اہل و عیال پر خرچ کرنا بھی نیکی ہے۔
٭ خاموشی اختیار کرکے بہت ساری افتادوں سے بچا جاسکتا ہے،
٭ فضول اور لایعنی باتوں سے رکنا، بہت سارے گناہوں اور قباحتوں سے بچنا آسان کردیتا ہے۔
٭ ہر شخص اپنے اپنے اعمال و کردار کے سبب اللہ تعالی سے دور اور نزدیک ہوتا ہے۔ (مرسلہ)

TOPPOPULARRECENT