Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / اسلام کی دنیا میں سب سے پہلے ہندوستان میں آمد

اسلام کی دنیا میں سب سے پہلے ہندوستان میں آمد

حیدرآباد ۔ 27 ڈسمبر ۔ ہمارے معاشرہ میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کے باوجود دعوت دین کیلئے وقت نکال ہی لیتے ہیں۔ وہ اس مقدس فریضہ کو اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات پر ترجیح دیتے ہیں۔ یہ ایسے لوگ ہیں جو اغیار میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں پھیلی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کامیاب کوشش کرتے ہیں۔ ساتھ ہی دنیا کو یہ بتاتے ہی

حیدرآباد ۔ 27 ڈسمبر ۔ ہمارے معاشرہ میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کے باوجود دعوت دین کیلئے وقت نکال ہی لیتے ہیں۔ وہ اس مقدس فریضہ کو اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات پر ترجیح دیتے ہیں۔ یہ ایسے لوگ ہیں جو اغیار میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں پھیلی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کامیاب کوشش کرتے ہیں۔ ساتھ ہی دنیا کو یہ بتاتے ہیں کہ اسلام اور سائنس کا گہرا تعلق ہے۔ قرآن مجید جہاں تمام علوم کا مرکز و منبع ہے وہیں اس کتاب مبین میں انسان کی پیدائش سے لیکر موت تک تمام مسائل کا حل موجود ہے۔ یہ ایسی مقدس کتاب ہے جس میں ایسے ایسے سائنسی راز پوشیدہ ہیں جسے آج سائنسداں ثابت بھی کررہے ہیں۔ یہ سب کچھ تدبر و تفکر کا نتیجہ ہے۔ قارئین آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کسی عالم دین یا مولوی صاحب کے خیالات ہوں گے، ایسا نہیں ہیں۔ یہ خیالات ہمارے شہر سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر باقر حسین قریشی کے ہیں جنہوں نے سعودی عرب میں 20 سال خدمات انجام دینے کے بعد اب امریکہ کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنا لیا ہے۔ 1979 میں ایم بی بی ایس، 1986ء میں لندن یونیورسٹی سے کلینکل پیتھالوجی میں ماسٹرس اور 1996ء میں Immunology میں ڈپلومیٹ امریکن بورڈ کی تکمیل کی۔ ایک خصوصی ملاقات میں بتایا کہ دنیا اس بات کو اچھی طرح جانتی ہیکہ دین اسلام ہی ہے جس نے دنیا کو جہالت، توہم پرستی، ظلم و بربریت کے دلدل سے نکالا۔ خاص طور پر آج مغربی دنیا میں علم کی جو روشنی نظر آرہی ہے وہ اسلام ہی کی دین ہے۔ آج بھی پیشہ طب جغرافیاء ریاضی، ستاروں سیاروں، مداروں کے بارے میں جو کتب نظر آرہی ہیں وہ دراصل مسلم علماء، اسکالرس اور اطباء (ڈاکٹروں) ماہرین تعلیم اور سیاحوں و سائنسدانوں کے کتب کا انگریزی و دیگر زبانوں میں کئے گئے تراجم کا نتیجہ ہے۔ جامعہ الام القراء مکہ مکرمہ میں Immunology کے اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے نمایاں خدمات انجام دے چکے ڈاکٹر باقر حسین قریشی نے مزید بتایا کہ قرآن اور سائنس ان کا پسندیدہ موضوع ہے اور وہ امریکہ، سعودی عرب، برطانیہ وغیرہ میں موضوع پر متعدد لکچرس دے چکے ہیں اوران لکچرس میں سوال و جواب سیشن میں حصہ لینے والوں کی اکثریت غیرمسلموں کی رہی۔ وہ غیر مسلموں کو یہی بتاتے ہیں کہ اسلام کیا ہے اور پھر بتاتے ہیں کہ اسلام ضابطہ حیات زندگی کا لائحہ عمل ہے جس سے انسان اس دنیا فانی میں رہتے ہوئے اس دنیا سے کماحقہ فائدہ حاصل کرسکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر باقر حسین قریشی جن کی دو لڑکیاں ڈاکٹرس اور ایک بیٹا انجینئر ہے، نے بتایا کہ لوگوں کے ذہنوں میں یہ تصور ہیکہ اسلام کسی ایک گروپ کسی ایک قوم جو عرب سے نکلی ان کی طرز زندگی کا نام ہے۔ ایسا نہیں ہے بلکہ یہ تو سارے انسانوں کیلئے خالق کائنات کی طرف سے تجویز کردہ نظام حیات ہے۔ ہم نے جب ان کی توجہ فرقہ پرستوں اور انتہاء پسند ہندو تنظیموں کی جانب سے ملک بھر میں گھر واپسی کے نام سے شروع کردہ مہم اور اس کے ذریعہ مسلمانوں اور عیسائیوں کو ہندو بنانے کی ناپاک کوششوں کی طرف دلائی تب ڈاکٹر صاحب نے جو سات برسوں تک انڈو امریکن کینسر ہاسپٹل میں لیباریٹری اور بلڈ بینک کے ڈائرکٹر بھی رہ چکے بتایا کہ ہندوستان وہ مبارک جگہ اور دنیا کا خوش قسمت خطہ و اراضی ہے جو سب سے پہلے اسلامی طرز زندگی سے آشنا ہوا۔ دنیا کے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ رب العزت نے برصغیر سراندیپ علاقہ میں اتارا کبھی یہ علاقہ برصغیر ہند کا حصہ تھا اور آج کل اسے سری لنکا کہا جاتا ہے۔ اس طرح سارے برصغیر بشمول ہندوستان میں ایک ہی مذہب اسلام کے ماننے والے تھے۔ اس طرح ہندوستان بنیادی اعتبار سے اسلامی طرز زندگی کا مسکن ہے۔ ایسے میں اگرچند طاقتیں گھر واپسی کی بات کرتے ہیں تو انہیں اسلام کی طرف واپس پلٹنا ہوگا جو ساری انسانیت کی نجات کا ذریعہ ہے۔ ڈاکٹر باقر حسین قریشی نے جو اپنے لکچرس میں آیات قرآنی سے سائنس دریافتوں کو ثابت کرنے میں بڑی مہارت رکھتے ہیں، اس سلسلہ میں ’’سورہ التین‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس سورہ مبارکہ میں اللہ عزوجل نے سب سے پہلے اس بات کا اشارہ دیا ہیکہ اسلام سب سے پہلے برصغیر ہند میں آدم ؑ کے زمین پر آنے سے آیا اور پھر یہاں اسلام فلسطین، شام، اردن، عراق وغیرہ میں پہنچا۔ پھر وہاں سے مصر اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شہر مکہ میں اس کی آمد ہوئی۔ آل ہسٹی ہائی اسکول اور ممتاز کالج کے اس سابق طالب نے مزید کہا کہ ہندوستان میں دعوت دین اور اصلاح معاشرہ کی بہت ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے اخلاق و کردار، دیانتداری اور معاملتوں کے ذریعہ برادران وطن کو راہ راست پر لانا ہوگا۔ ملک میں مسلمانوں کی تعلیمی حالت سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں مسلمانوں کی تعلیمی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ ہاں … حیدرآباد اور جنوب کے بعض شہروں میں مسلمانوں میں تعلیمی شعور پیدا ہوا ہے۔ ترقی و خوشحالی کیلئے مسلمانوں کو انگریزی زبان سائنس و ٹیکنالوجی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ [email protected]

TOPPOPULARRECENT