اسلام کی چکی گھومتی رہے گی

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اسلام کی چکی ۳۵ برس، ۳۶ برس یا ۳۷ برس تک گھومتی رہے گی۔ پھر اگر لوگ ہلاک ہوں گے تو اس راستے پر چلنے کی وجہ سے ہلاک ہوں گے، جس پر چل کر پہلے لوگ ہلاک ہوچکے ہیں اور اگر ان کے دین کا نظام کامل و برقرار رہا تو ان کے دینی نظام کی تکمیل و برق

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اسلام کی چکی ۳۵ برس، ۳۶ برس یا ۳۷ برس تک گھومتی رہے گی۔ پھر اگر لوگ ہلاک ہوں گے تو اس راستے پر چلنے کی وجہ سے ہلاک ہوں گے، جس پر چل کر پہلے لوگ ہلاک ہوچکے ہیں اور اگر ان کے دین کا نظام کامل و برقرار رہا تو ان کے دینی نظام کی تکمیل و برقراری کا وہ سلسلہ ستر برس تک رہے گا‘‘۔ (حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ) میں نے یہ (سن کر) عرض کیا ’’یہ ستر برس بقیہ میں سے ہوں گے یا اس عرصہ سمیت ہوں گے جو گزرا (یعنی آپﷺ نے دین کے نظام کی تکمیل و برقراری کے لئے جس ستر سال کے عرصہ کا ذکر فرمایا ہے، آیا اس سے ستر سال کا وہ عرصہ مراد ہے جس کی ابتدا ۳۵، ۳۶ یا ۳۷ سال کا مذکورہ زمانہ گزرنے کے بعد ہوگی، یا مذکورہ سال بھی اس ستر سال کے عرصہ میں شامل ہیں اور اس کی ابتدا اسلام کے ابتدائی زمانہ یا ہجرت کے وقت سے مراد لی گئی ہے؟)۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’(یہ مذکورہ سال بھی ان ستر برسوں میں شامل ہیں اور) ستر سال کا عرصہ اس عرصہ سمیت ہے، جو اسلام کے ابتدائی زمانہ یا ہجرت کے وقت سے اب تک گزر چکا ہے‘‘۔ (ابوداؤد)

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کا سانحہ اسلام کی تاریخ کا وہ پہلا فتنہ ہے، جس نے مسلمانوں کی دینی و ملی زندگی کو سخت دھچکا لگایا اور اسلام کی سیاسی طاقت باہمی افتراق و انتشار کی وجہ سے بہت مضمحل ہو گئی۔ یہ فتنہ سنہ ۳۵ھ میں ظاہر ہوا، اس کے بعد ۳۶ھ میں جنگ جمل اور ۳۷ھ میں جنگ صفین ہوئی، جس نے مسلمانوں کے دینی و ملی نظام اور سیاسی استحکام کو ہلاکر رکھ دیا اور اس کے نہایت روح فرسا نتائج نکلے!۔

TOPPOPULARRECENT