Wednesday , December 13 2017
Home / مذہبی صفحہ / اسلام کے احکام ساری انسانیت بالخصوص خواتین کیلئے سائبان رحمت

اسلام کے احکام ساری انسانیت بالخصوص خواتین کیلئے سائبان رحمت

انسان ہونے کے ناطے مرد وعورت دونوں مساوی ہیں،انسانی تقاضے ،جذبات واحساسات ، فکروتدبر،فہم وذکا وغیرہ جیسی صلاحتیں کم وبیش دونوں کو بخشی گئی ہیں،لیکن جسمانی ساخت میں لطافت ،مزاج وطبیعت میں نرمی ونزاکت،فطرت میں شرم وحیا خواتین کی خصوصیات سے ہیں۔اسکے برعکس جسمانی اعتبارسے طاقت وقوت،فکروفہم میں صلابت ،صبروتحمل ،قوت برداشت ،محنت ومشقت وغیرہ جیسی خصوصیات تخلیقی وجبلی اعتبارسے مردوں کا خاصہّ ہیں۔اس لئے اسلام نے فطرت کے مطابق ان کے فرائض وذمہ داریاں جداگانہ رکھی ہیں،فطری جہت سے دیکھا جائے توکسب معاش کی ذمہ داریاں خواتین کے نازک کاندھوں پر ایک ظلم ہے،ظلم کی تعریف ہی یہ کی گئی ہے ’’وضع الشیء فی غیر محلہ ظلم‘‘کسی شیٔ کو اسکے محل سے ہٹاکر دوسری جگہ رکھ دینا ظلم ہے۔خالق کائنات نے خواتین کو جس اہم مقصد کیلئے تخلیق کیا ہے وہ ہے نسل انسانی کا تحفظ،جسکی وجہ وہ ہر ماہ فطری مرحلہ سے دوچارہوتی ہیں ، بچوں کی پیدا ئش ،دراز مدت تک حمل کا بوجھ اٹھا نا،ولادت کے مراحل سے گزرنا بعدولادت نومولود کو دوسال تک دودھ پلانا ،ولادت سے اولاد کے شعورکی منزل میں پہنچنے تک ماں کی مامتا کی پیاربھری چھاؤںمیں رکھتے ہوئے محبت وشفقت ،نرمی ومہربانی سے ان کی تربیت ونگہداشت کرنا یہ وہ امورہیں جووقت بھی چاہتے ہیں اورتوجہ بھی۔ظاہرہے خواتین کو ان کی فطری جہات سے ہٹاکر غیر فطری جہات کی طرف انکی توجہات کومبذول کروانا نظام فطرت میں صریح مداخلت ہے۔نظام فطرت کے تحت قدرت نے خواتین کوجو صنفی نزاکت بخشی ہے اور تقسیم کارکے تحت جو اہم ذمہ داریاں ان کے تفویض کی ہے وہ تقاضہ کرتی ہیں کہ گھرکی چہار دیواری خواتین کی سرگرمیوں کا مرکزبنا رہے’’عورتیں اپنے گھروں میں ٹہری رہیں اوراپنی آرائش وزیبائش کی نمائش کرتی نہ پھریں جیسا کہ دورجاہلیت میں رواج تھا‘‘(الاحزاب:۳۳) خواتین کا دائرہ کارعام حالات میں نہ سیاست وجہاں بانی ہے نہ معاشی جدوجہد، بلکہ گھر کے محفوظ حصارمیں رہتے ہوئے امورخانہ داری کو باحسن الوجوہ انجام دینا ہے۔بلاضرورت اس محفوظ حصار سے باہر نکلنا اسلام کے فطری احکام سے روگردانی ہے۔حدیث پاک میں’’ عورت کو عورت یعنی پردہ کی چیز قراردیا گیاہے‘‘ یعنی اجنبی مردوں سے اپنے آپ کو چھپائے رکھنا خالق فطرت نے اسکی فطرت میں ودیعت کردیا ہے’’عورت جب باہر نکلتی ہے تو شیطان تانک جھانک میں لگ جاتاہے ،جب وہ اپنے گھرکے انتہائی محفوظ حصہ میں رہتی ہے تواپنے رب سے بہت قریب رہتی ہے‘‘ المرأۃ عورۃ فاذا خرجت استشرفہا الشیطان وأقرب ما تکون من ربہا و ہی فی قعربیتہا(الترمذی :۴؍۲۶۷، رقم:۱۱۶۹)چونکہ خواتین کا باہر نکلنا شیطانی کازکو تقویت پہنچاتاہے،

حدیث پاک میں اسکی تعبیر ’’استشرفہا الشیطان ‘‘سے کی گئی ہے اسلئے صدربالا آیت پاک میں کسی خاص ضرورت سے گھر کے باہر نکلنا ہو تو بناؤ سنگھاراورزیب وزینت کے اظہار سے منع کیا گیاہے،اسکے علاوہ حجاب اختیارکرنے کی مزید تاکید کی گئی ہے’’اے نبی(ﷺ)اپنی بیویوں اوراپنی بیٹیوں اورمسلم عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنے اوپر چادریں ڈال لیا کریں اس سے بہت جلد انکی پہچان ہوجایا کریگی پھر وہ ستائی نہیں جائیں گی اللہ تعالی بخشنے والا مہربان ہے ‘‘ (الاحزاب:۵۹)مقصود یہ ہے کہ گھریلو ماحول میں اسلام کے احکام سترپوشی پر عمل کرتے ہوئے کسی ضرورت سے باہر نکلناناگزیرہوتو ایسی بڑی چادریا ڈھیلا ڈھالا برقعہ وغیرہ زیب تن کر لیا جانا چاہیئے جس سے بشمول چہرہ سارا جسم ڈھک جائے۔مسافت سفر بہ اختلاف اقوال ۴۸؍میل تخمینی زائد از۷۷؍ کلومیٹر یا ۹۸ کلومیٹریا اس سے زائد کا سفر ہو تو خواتین کیلئے اسلام نے مزید ایک شرط’’ محرم‘‘کی عائد کی ہے،یعنی سفرمیں ایسے رشتہ دارکا ساتھ ہو جس سے ابدی طورپر نکاح حرام ہو، خواتین کی جبلی نزاکت ،فطری حسن مردوں کیلئے جیسے باعث کشش ہے انکی آواز اورلب ولہجہ کے اندازمیں بھی مردوں کیلئے کشش وجاذبیت رکھی گئی ہے اسلئے اول تواجنبی مردوں سے بلا ضرورت بات چیت سے منع کیا گیاہے لیکن پس پردہ گفتگو ناگزیر ہو توباوقارطرز گفتگو اختیارکرنے کی ہدایت دی گئی یعنی فطری نرمی ولطافت کے بجائے بالقصدایسا کھراانداز اختیارکیا جائے جس میں معروف طریقہ کی خلاف ورزی نہ ہو اوروہ اخلا قی اقدار کے منافی بھی نہ ہو،اس ہدایت کا مقصودیہ ہے کہ کمزور دل کا روگی جو نفس کے زیر اثررہتا ہے اسکے دل ودماغ میں کوئی فاسد خیال جگہ نہ بنا سکے،ظاہرہے گفتگومیں نزاکت ونرمی لب ولہجہ کا اتارچڑھاؤبسااوقات غلط فہمیوں اوربیجا جسارتوں کا دروازہ کھول سکتا ہے اس لئے معاشرہ میں فتنہ وفساد پنپنے کا راستہ ہی اسلام نے بندکردیا ہے۔ ’’اے نبی کی بیویوں! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگرتم پرہیز گاری اختیارکرو تو نرم لہجہ سے بات نہ کر و کہ جس کے دل میں روگ ہو وہ کوئی براخیال کرے اورہاں قاعدہ کے مطابق کلام کرو‘‘(الاحزاب:۳۲) اسلامی تہذیب وتمدن کے یہ نمایاں خطوط ہیں جن سے روگرانی کرکے خواتین غیر محفوظ وغیر مامون ہیںاور مسلم معاشرہ چین وسکون سے محروم ہے۔

مغربی افکارنے جن کے دل ودماغ پر قبضہ کر رکھا ہے وہ مسلمان ہونے کے باوجود اسلام کے ان فطری اورسادہ احکاما ت کو اسلام کے احکامات نہیں مانتے بلکہ تنگ نظراوراحوال زمانہ سے بے خبرعلماء کے ایجاد کردہ ہوناباورکراتے ہیںحالانکہ یہ سارے احکامات کتاب وسنت کی منصوصات سے ثابت ہیں۔ان احکامات کو جدید رجحانات کے پس منظر میں فرسودہ ،ترقی میں رکاوٹ ،انسانی مساوات کے مغائرقراردینا فکر اسلامی کے مغائر اورروح شریعت کے منافی ہے۔ان احکامات کو غیر اہم جاننا،ان سے کنارہ کشی اختیارکرنا اورمغربی افکار کے زیر اثران فطری ،اسلامی احکامات کے خلاف عمل کی ترغیب دینا یا اصرارکرنا اندیشہ ہے کہ اس سے کفرلازم آجائے، چونکہ اس سے اسلام کے منصوص احکامات کا استخفاف (اسکو ہلکا اورغیر اہم جاننا ) لازم آتا ہے۔ اسلام عفت وعصمت کو ایک ایسی اعلی قدرمانتا ہے جومادی قیمتی املاک سے کہیں زیادہ متاع گرانمایہ ہے۔مادی رونق حیات واسباب زینت جیسے: قیمتی ہیرے ،جواہرات ان کی بڑی حفاظت کی جاتی ہے یہ حفاظت اسبابی نقطئہ نظر سے دانشمندی کا تقاضہ ہے ، خواتین کی عظمت، انکااحترام اوران کی عفت وعصمت کی حفاظت اوران کی پاکدامنی کوبے داغ رکھنے کی غرض سے اسلام نے انکے لئے حفاظتی احکامات دئیے ہیں جو نہ صرف انکے حق میں رحمت ہیں بلکہ معاشرہ کو فسادوبگاڑسے محفوظ رکھنے کے موثر فطری احکامات رحمت ہیں ۔ اسلام کے ان فطری مبنی بررحمت احکام پر عمل آوری سے محروم مغربی افکارکے زیر اثرخواتین راحت ورحمت کے بجائے مصیبت و زحمت ،عظمت وتوقیر کے بجائے بے احترامی وبے توقیری کا شکارہیں، اسلام نے خاتون کو ازدواجی بندھن کے ذریعہ اپنے شوہرکے دل کی ملکہ اوراس کے گھر پر راج کرنے والی رانی بنایا تھا ، ماں ،بیوی،بہن اوربیوی کی روپ میں اسے احترام وعظمت کی مسندپر بٹھایا تھالیکن مغربی نظام کے تصورآزادی اورمردوزن کے درمیان مساوات کے غیر فطری نعرہ نے عورت کوذمہ داریوں کا دوہرابوجھ اٹھانے پر مجبورکردیاہے۔نکاح کے بعد اپنی فطری ذمہ داریوں جیسے :ولادت یعنی بچے پیداکرنے ،رضاعت یعنی دودھ پلانے،حضانت یعنی بچوں کی پرورش اوران کو پالنے پوسنے وغیرہ سے عہدہ برآ ہونا تو اس کے صنفی وظائف سے ہے ،مزید رات ودن میں آٹھ سے بارہ گھنٹے تک معاشی تگ ودو میں جان کھپانے اورخاندانی معاشی ضروریات میں مددگاربننے کا غیر فطری بوجھ اٹھائے ہوئے ہے،کیا اسی کو آزادیٔ نسواں کہا جائے گا اورکیا مساوات مردوزن اسی کا نام ہے؟ مردوںکے شانہ بشانہ معاشی دوڑمیں آگے رہکر کیا وہ اپنی عفت وعصمت کی حفاظت کے بارے میں بے خوف اورمطمئن ہے؟گھر سے دفتراوردفترسے گھر تک کی مسافت طے کرتے ہوئے اورمخلوط نظام معاش میں مردوں کے ساتھ بے پردہ رہکرکام کرتے ہوئے کیا وہ جنسی زیادتیوں کا شکار نہیں بن رہی ہے؟ تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے جذبہ نے کیا خواتین کو ایک کھلونہ نہیں بنا دیا ہے؟ تہذیب نو نے اس کو ’’کال گرل ‘‘ اور اشتہارات کی زینت بناکراحترا م وعظمت کی جو چادراسلام نے اسکو اڑھائی تھی اسے تارتارنہیں کردیا ہے؟مزید برآں وہ دوہری ذمہ داریوں کو نبہاتے نبہاتے کیا اعصابی تناؤکا شکارنہیں ہو گئی ہے؟اوران دوہری ذمہ داریوں کی وجہ کیا وہ پرسکون زندگی گزاررہی ہے؟اسلام کسی نفس کو اسکی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ لا یکلف اللّٰہ نفسا الا وسعہا(البقرۃ:۲۸۶)اسلام کا نظام حیات عدل پر قائم ہے،اسلام نے تقسیم کارکا نظام بنایا ہے ،بحیثیت انسان دونوں مساوی ضرورہیں لیکن صنفی اعتبارسے ان کے اندرفطرت نے مساوات نہیں رکھی، اس لئے دونوں کے وظائف جداگانہ ہیں۔مردمحنت وجانفشانی سے خون پسینہ ایک کرکے کسب معاش کے ذمہ داربنائے گئے ہیں کہ وہ جائزمعاشی جدوجہدمیں لگے رہکر اپنی اوراپنی بیوی اوربچوں کے بنیادی ضروری اخراجات اٹھائیں،اورخواتین اندرون خانہ بچوں کی نگہداشت،پرورش اورتعلیم وتربیت کی ذمہ داربنائی گئی ہیں۔اسلام کے احکامات کتاب وسنت سے مأخوذ ہیں جو وحی الہی کا سرچشمہ ہیں،اس لئے مردوزن سے متعلق جو احکامات اسلام نے دیئے ہیں وہ زمان ومکان کی حد بندیوں سے آزاد،فطری ،آفاقی اصولوں پر مبنی ہیں۔ان میں تغیر وتبدل کی ہر گزگنجائش نہیں،یہ احکامات فطری ہونے کی وجہ دلوں کو اپیل بھی کرتے ہیں اورقابل عمل بھی ہیں،اوران احکامات کی روشنی میں زندگی کا سفرطے کیا جائے تو اس میں دلوں کا اطمینان اورزندگی کا چین وسکون بھی ہے ،حسن نیت سے اس پر عمل آوری سے ان شاء اللہ آخرت کی کامیابی بھی یقینی ہے۔تہذیب نونے کاغذی سطح پر خواتین کے حقوق تو تسلیم کئے ہیں لیکن زمینی سطح پروہ اپنے حقوق سے محروم ہوتی جارہی ہیں،ظاہر ہے اسلام کہنے سننے سے زیادہ عملی جہتوں پر یقین رکھتاہے وہ جو کہتا ہے وہی کرتا ہے، اس لئے حقوق نسواں کی اسلامی تعلیمات اوراسلامی معاشرہ کے عملی کردارمیں کوئی تضادنہیں، الغرض اسلامی احکامات فطری وسادہ اورقابل عمل ہونے کی وجہ بلالحاظ مذہب وملت مردوں کے ساتھ خواتین کیلئے بھی سائبان رحمت ہیں۔

TOPPOPULARRECENT