Sunday , June 24 2018
Home / اضلاع کی خبریں / اسلام کے طریقہ پر زندگی گذارنے میں ہی انسانیت کی نجات

اسلام کے طریقہ پر زندگی گذارنے میں ہی انسانیت کی نجات

بیدر۔17؍مارچ۔(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)۔بیدر شہر میں واقع مسجدِ عائشہؓ میں جمعیت اہلِ حدیث ضلع بیدر کے زیرِ اہتمام ایک اجلاس عام بعنوان ’’نجات پانے والے کون؟‘‘کا انعقاد عمل میں آیا۔مذکورہ عنوان کے تحت فضیلۃ الشیخ عبدالسلام عمری نے اپنے خطاب میں کہا کہ انسانیت اگر نجات پانا چاہتی ہے تو اُس راہ پر اپنے آپ کو چلائے جس پر چلنے کا اللہ رب ال

بیدر۔17؍مارچ۔(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)۔بیدر شہر میں واقع مسجدِ عائشہؓ میں جمعیت اہلِ حدیث ضلع بیدر کے زیرِ اہتمام ایک اجلاس عام بعنوان ’’نجات پانے والے کون؟‘‘کا انعقاد عمل میں آیا۔مذکورہ عنوان کے تحت فضیلۃ الشیخ عبدالسلام عمری نے اپنے خطاب میں کہا کہ انسانیت اگر نجات پانا چاہتی ہے تو اُس راہ پر اپنے آپ کو چلائے جس پر چلنے کا اللہ رب العزت حکم دیتا ہے‘اور جس کا طریقہ محمد ؐ نے بتایا ۔انہوں نے اس آیت کریمہ کو دلیل بنا کر ’’وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون ‘‘کہا کہ ہر انسان چاہے وہ کسی بھی قوم میں پیدا ہو‘ کسی بھی ملک میں پیدا ہو ‘کسی بھی مذہب و مسلک کے ماننے والے ماں باپ کیوں نہ ہو اُس کیلئے لازمی ہے کہ جب وہ شعور کی عمر کو پہنچ جائے تو اپنے پیدا کرنے والے خالق کو پہچانے اور اِسی خالق کی عبادت کرنے والا بن جائے‘ کیونکہ اللہ کے رسول ؐ کے فرمان کے موافق ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرتِ اسلام کو لے کر پیدا ہوتا ہے ۔ اُس کے ماں باپ اُس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بناتے ہیں ۔مگر اللہ تعالی تو اُس کو فطرتِ اسلام پر پیدا کرتا ہے ۔انھوں نے مزید کہا کہ جب بندہ رب کی نافرمانی کرتا ہے تواللہ تبارک و تعالی اُس سے ناراض ہوتا ہے ۔جیسا حضرتِ آدم ؑ و حواؑ کو اللہ تبارک و تعالی نے پیدا کرنے کے بعد جنت میں رکھا ۔ہر چیز کے کھانے کی اجازت دی ‘سوائے ایک درخت کے ‘لیکن شیطان نے اُنھیں بہکایا اور وہ دونوں اُس درخت کو استعمال کرلئے جس پر اللہ رب العزت نے یہ حکم دیا کہ وہ زمین پر اُتر جائیں ۔آپ نے اس واقعہ سے اس بات کو سمجھانے کی کوشش کی کہ اللہ تعالی کے کتنے مقرب بندے بھی کیوں نہ ہو ‘اگر وہ رب کی نافرمانی کرتے ہیں تواللہ اُن سے بھی ناراض ہوتا ہے۔مزید آ پ نے ربِ کائنات کی قدرت کو سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ جو اللہ رب العزت کو چھوڑ کر کسی اور سے مانگا کرتاہے گویا کہ وہ اللہ کو اُس چیز کے دینے پر قادر ہی نہیں مانتا ‘ جبکہ اللہ رب العزت کہتا ہے کہ کیا اللہ اپنے بندے کیلئے کافی نہیں ہے ؟ یقینا اللہ کافی ہے مگر بندہ بھروسہ نہیں کرتا ۔اس موقع پر ایک اور مہمان مقرر فضیلۃ الشیخ قاری نجم الحسن فیضی حفظ اللہ مذکورہ بالا عنوان کے تحت اپنے خطاب میں بتایا کہ دنیا میں نجات پانے کیلئے چند چیزیں اہم اور ضروری ہیں ۔ جو بھی انسان ان چیزوں کو اپناتا ہے اللہ اُنھیں دنیا میں نجات دیتا ہے۔اور آپ نے اُس کیلئے اس آیت کریمہ کو دلیل بنایا ترجمہ:’’اللہ نے تم میں سے اُن لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو ایمان لے آئے اور نیک اعمال کئے ۔ضروربضرور ہم اُنھیں زمین کی خلافت عطا کریں گے ۔جیسا کہ ہم نے خلافت عطا کی اُن سے پہلے لوگوں کو ‘ اور ہم اُن کیلئے اُس دین کو نافذ کریںگے جو دین ان کیلئے پسند کیا گیا ہے ۔اور ہم اُن کے حالات کو بدلیں گے خوف کے بعد امن میں ۔وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں گے ۔اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ ہی فاسق ہیں‘‘ ۔تو اللہ رب العزت نے اس آیت کریمہ میں چند چیزوں کو شرط بناکر اس بات کو واضح کیا کہ اللہ تبارک و تعالی ایسے لوگوں کو زمین کی حکمرانی و بادشاہت عطا کرے گا ۔مگر آج ہماری حالت ایسی ہے کہ ہم مومن بھی ہیں ‘عملِ صالح کرنے کے دعویدار بھی ہیں ‘ مگر پھر بھی دوسروں کے ظلم و ستم سہہ رہے ہیں ۔آخر وجہ کیا ہے ؟ یہ بات تو حق ہے کہ اللہ رب العزت کا وعدہ جھوٹا نہیں ہوسکتا ۔قرآنِ پاک کا فرمان غلط نہیں ہوسکتا ۔تو پھر ہمیں اپنے آپ پر غور کرنا ہوگا کہ ہمارا ایمان ویسا ہی ایمان ہے جیسا رب چاہتا ہے؟ اور ہمارے اعمال ویسے ہی ہیں جیسے اللہ رب العزت نے حکم دیا ہے ؟۔یقینا ایسا نہیں ہے ۔

جس کی بنا پر آج یہ ذلت و رسوائی کی زندگی مسلمانوں کو جینی پڑ رہی ہے ۔ورنہ اہلِ ایمان کا ایک وہ وقت بھی تھا کہ میدانِ بدر میں 313ہوکر ہزار کے لشکر کو شکست دی۔مٹھی بھر ہوکر ساری عرب دنیا سے مقابلہ کیلئے کھڑی ہوگئی اور دیکھتے ہی دیکھتے قیصر وِ کسری کی حکومتیں ان کے سامنے گھُٹنے ٹیک دئیے اور حقیقت یہ ہے کہ اس ملک پر بھی زمانہ ء دراز تک حکومت رہی ۔مگر جب مسلمانوں کا تعلق قرآن سے کمزور پڑ گیا ‘سنتِ رسولؐ سے دوری ہوگئی ‘اپنی اسلامی شناخت کو مٹادئیے‘تب اللہ نے یہ ذلت و رسوائی ان پر ڈال دی ‘ کیونکہ اللہ کے رسول ؐ کے فرمان کے موافق لوگ جب اللہ اور اللہ کے رسولؐ کی نافرمانی کریں گے تو اللہ ان پر ظالم حکمرانوں کو مسلط کرے گا۔وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر:اور ہم خوار ہوئے تارکِ قُراں ہوکر۔جیسے اللہ کہ رسولؐ کا فرمان بھی ہے کہ ’’ بے شک اللہ اس کتاب کے ذریعے کچھ قوموں کو بلندی عطا کی ‘اور کچھ قوموں کو اسی قُرآن کے ذریعے ذلت عطا کرے گا ۔جنھیں بلندی عطا کی گئی وہ قرآن کے حامل و عامل تھے ۔اور جنھیں ذلت عطا کی گئی وہ تارک قُِرآن تھے۔دورانِ خطاب آپ نے غیبت جیسی برائی پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے اس بات کو واضح کیا کہ غیبت ایک بد ترین عمل ہے جس کو چھوڑنا چاہئے۔غیبت یہ نہیں کہ جو آدمی میں نہیں ہے وہ بولا جائے‘بلکہ غیبت ہے ہی یہ آدمی میں جو خامی ہے اُس کو اُس کی پیٹھ پیچھے بولا جائے۔اور جو اُس میں نہیں ہے اگر وہ بولا جائے وہ تو تہمت ہے۔آج ہم غیبت کو بہت معمولی عمل سمجھتے ہیں ۔حالانکہ عذاب قبر اکثر غیبت کی بنا پر ہوگا۔انہوں نے مزید جھوٹ ‘ دھوکہ‘ خیانت‘ ناپ تول میں کمی ‘رشتہ ناطوں کا توڑنا ‘آپسی عدواتیں ‘ان سارے بُرے کرداروں کا ذکرکیا۔

TOPPOPULARRECENT