Friday , April 27 2018
Home / مضامین / اسمارٹ شہر اور حیدرآباد

اسمارٹ شہر اور حیدرآباد

رتنا چوٹرانی
1951 میں ہندوستان میں شہری آبادی 62 ملین تھی جو جملہ آبادی کا 17 فیصد تھی تاہم یہ ایک دہے میں بڑھ کر 50 فیصد تک پہونچ گئی ۔ دنیا بھر میں دیہی علاقوں سے شہری علاقوں کو نقل مقامی ایک حقیقت ہے ۔ یہ کہا جاتا ہے کہ 2050 تک آبادی کا تقریبا 70 فیصد حصہ شہروں میں منتقل ہوجائیگا اور اس سے ہندوستان کو بھی استثنی نہیں رہیگا اب شہروں کو قابل رہائش بنانے ہندوستان نے اسمارٹ سٹی نظریہ پیش کیا ۔ یہ اسمارٹ سٹی نظریہ کیا ہے ؟ ۔ چونکہ شہری آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے ایسے میں شہری علاقوں پر دباؤ بڑھتا ہے کہ اس کے چیلنجس سے نمٹا جاسکے ۔ ساتھ ہی شہروں میں انفرا اسٹرکچر ‘ ترقی اور ماحولیات وغیرہ میں کوئی کمی نہ رہے ۔ ساتھ ہی اسمارٹ سٹی نظریہ میں سرمایہ کاری کو راغب کرنا کی کوشش بھی شامل ہے ۔ وزیر اعظم مودی کا 100 اسمارٹ شہروں کا منصوبہ اسی خیال کا حصہ ہے ۔
کرونا نے حکومت ہند کے 100 اسمارٹ شہروں کے ڈیزائین کی تیاری میں اپنا رول ادا کیا ہے ۔ وہ اسمارٹ سٹیز مشن میں حکومت کی مشیر ہیں اور انہوں نے اس منصوبہ کے تعلق سے رتنا چوٹرانی سے بات چیت کی کہ یہ منصوبہ کیا ہے اور حیدرآباد میں کیا کمی ہے ۔
سوال : اسمارٹ سٹی پراجیکٹ کیا ہے اور اس سے کس کو فائدہ ہوگا ؟ ۔
جواب : ہم گذشتہ دس سال سے جس اسمارٹ سٹی کے خیال کی بات کر رہے ہیں وہ عوامی تاثر سے مختلف ہے ۔ اسمارٹ سٹی میں عام آدمی کو کافی مواقع ہونگے ۔ اسمارٹ سٹی تین بنیادوں پر بن سکتی ہے ۔ ایک معاشی ترقی ‘ دوسرا ماحولیاتی تحفظ اور تیسرا مساوات ۔ معاشی ترقی سب سے اہم ہے کیونکہ اس سے عوام کو روزگار کے مواقع ملتے ہیں۔ اس سے شہر معاشی طور پر بہتر ہوتا ہے ۔ بڑے کاروبار شروع ہوتے ہیں۔ چھوٹے کاروبار میں سرمایہ آسکتا ہے ۔ ماحولیاتی محاذ پر کوئی بھی شہر اسمارٹ نہیں کہا جاسکتا اگر وہاں ماحولیات کا خیال نہ رکھا جائے ۔ قدرتی وسائل جیسے جھیلوں ‘ آبی ذخائر اور شجرکاری کا خیال بھی رکھنا چاہئے ۔ اس کے علاوہ اس میں سب کو موقع دیا جانا چاہئے ۔ یہ دیکھا جائیگا کہ آپ پچھڑے شعبوں کو کس طرح موقع دیتے ہیں۔ خواتین کا کیا موقف ہوتا ہے ۔ اسمارٹ سٹی ایسا نظریہ ہے جس سے عام شہریوں کو زیادہ سے زیادہ مواقع دئے جاتے ہیں۔
اس سوال پر کہ دس سال گذر چکے ہیں ۔ ہم کہاں تک آگے بڑھے ہیں۔ آپ کے خیال میں حیدرآباد اسمارٹ سٹی منصوبہ میں کہاں ہے ؟ ۔ اسمارٹ سٹی میں سب کو شامل کرنا ہوتا ہے لیکن کئی شہر ایسے ہیں جہاں عالمی انحطاط کا اثر ہے ۔ کسان بے گھر ہوگئے ہیں ؟ ۔ ان کا کہنا تھا کہ اسمارٹ سٹی منصوبہ کو مناسب انداز میں سمجھانے ‘ سمجھنے اور عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہم صرف کسی اسمارٹ شہر کو منتخب کرکے اور شہر کے ایک شعبہ کو ترقی دینے پر اکتفا نہیں کرسکتے ۔ جیسا میں کہہ چکی ہوں کہ اسمارٹ سٹی اجتماعی ترقی سے متعلق ہے ۔ یہاں معاشی ترقی ‘ مساوات اور ماحولیات کو مساوی اہمیت دی جانی چاہئے ۔ اگر شہر صرف معاشی ترقی پر توجہ دے تو اس سے دوسرے دو پہلووں پر سمجھوتہ ہوگا ۔ یہی کچھ دنیا میں ہو رہا ہے لیکن لوگ سوال نہیں کرتے ۔ حیدرآباد کی مثال پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت زیادہ سرمایہ کاری حاصل کرنے ملٹی نیشنل کمپنیوں سے بات کر رہی ہے ۔ یہ کمپنیاں پہلے ہی حیدرآباد میں قائم ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی کرکے فنڈنگ اور سرمایہ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن موجودہ حکومت یہ نہیں سمجھ رہی ہے کہ معاشی ترقی کے ساتھ ماحولیاتی بہتری کو بھی توجہ کی ضرورت ہے ۔ ہمارا ماحولیاتی کام کمزورہے ۔ حیدرآباد میں ہم جھیلوں کا تحفظ کر رہے ہیں۔ ڈرینیج نظام ناقص ہے ۔ ایسا شہر جو عالمی سطح پر مرکزی مقام حاصل کرنا چاہتا ہے اس کے مرکزی مقام پر ہی سڑکیں جھیل میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ بارش کے بعد پاش علاقے زیر آب آجاتے ہیں ۔ حیدرآباد اس مسئلہ پر قابو پانے کے موقف میں نہیں ہے ۔ ہم اس پر افسوسناک صورتحال کا شکار ہیں اور بیرونی کمپنیوں کو یہاں تجارت کیلئے مدعو کرتے ہیں۔
اس مسئلہ پر قابو پانے سے متعلق تجاویز پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ حیدرآباد وہ شہر ہے جسے زیادہ بین الاقوامی توجہ حاصل ہے لیکن ہم شہر کا تحفظ نہیں کر رہے ہیں۔ حیدرآباد کی فضائی آلودگی زیادہ ہے ۔ یہاں امراض قلب اور کینسر کی وجوہات میں آبی آلودگی بھی شامل ہے ۔ تعمیراتی فضلہ کا صحیح استعمال نہیں ہوتا ۔ یہاں ہر طرح کی آلودگی ہے ۔ بیماریوں سے انسانی زندگیاں تلف ہو رہی ہیں جو نہیں ہونی چاہئیں۔
کیا اسمارٹ سٹی کا منصوبہ ہندوستان جیسے ملک میں کامیاب ہوسکتا ہے جہاں ایک طرف ڈیجیٹل ترقی کی بات ہوتی ہے تو دوسری طرف کچرے سے نمٹنا مشکل ہے ۔ حیدرآباد میں کچرا پھینکنے کے کئی مقام ایسے ہیں جن سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ حسین ساگر جھیل شہر کے وسط میں ہے اور آلودہ ہے جس سے تعفن پھیلتا ہے ؟ ۔ اس سوال پر کرونا کا کہنا تھا کہ حکومت کوشش نہیں کر رہی ہے ۔ یہ بات واضح ہے ۔ کئی دہوں سے جو آبی ذخائر آلودہ ہیں وہ آج بھی آلودہ ہیں۔ حکومت توجہ نہیں دیتی ۔ انہیں صاف کیا جاسکتا ہے ۔ اگر بین الاقوامی ایجنسی سے فنڈز آتے ہیں ۔ہر جگہ ماہرین دستیاب ہیں لیکن اس کیلئے سیاسی جذبہ نہیں ہے ۔ ہوسکتا ہے اب ان جھیلوں میں گندگی نہیں ڈالی جا رہی ہو لیکن یہ اطراف کی کالونیوں کی سمت موڑی جا رہی ہے ۔ حکومت کیوں نہیں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس قائم کرسکتی ؟ ۔ اس لاپرواہی سے غریب متاثر ہو رہے ہیں۔ کئی صنعتیں ہیں جو آلودگی پھیلا رہی ہیںاور اگر بروقت ان کی آڈٹ کی جاتی ہے اور انہیں قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا جاتا ہے تو ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوتی ۔ جھیلوں پر قبضے ہو رہے ہیں۔ درگم چیروو ایک جھیل ہے ۔ افسوس کی بات ہے کہ اس پر بھی غیر قانونی قبضے ہوئے ہیں۔ حکومت کہتی ہے کہ رہیجا کمپنی اس کی دیکھ بھال کریگی ۔ رہیجا کمپنی نے 80 فیصد جھیل پر قبضہ کرلیا ہے اور اب کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت رہیجا کمپنی سے کہہ رہی ہے کہ وہ اس جھیل کی ذمہ داری قبول کرے ۔ عام آدمی بیوقوف نہیں ہے ۔ ایک دن وہ سوال کریگا ۔
اس سوال پر کہ آیا اسمارٹ سٹی منصوبہ واقعتا پورا ہوسکتا ہے کیونکہ اس پر وزیر اعظم نے بھی اظہار خیال کیا ہے اور اس میں کیا کمی ہے ؟ ۔ کرونا کا کہنا تھا کہ اسمارٹ سٹی پر وزیر اعظم کا منصوبہ وہ نہیں ہے جو حیدرآباد میں نافذ کیا جا رہا ہے ۔ حیدرآباد کا دعوی تھا کہ وہ پہلے ہی اسمارٹ ہے اور اسے 100 اسمارٹ شہروں میں شامل ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ انہوں نے اپنا الگ منصوبہ تیار کرلیا ۔ وزیر اعظم کے اسمارٹ شہر میں مجموعی ترقی کو ذہن میں رکھا گیا ہے اور آبی سربراہی ‘ صفائی ‘ سبزہ زار ‘ شہری علاقوں میں شجرکاری ‘ پبلک ٹرانسپورٹ کو شامل کیا گیا ہے ۔ حیدرآباد میں وائی فائی ہاٹ اسپاٹس کا منصوبہ ہے جس کی ہمیں ضرورت نہیں ہے ۔ یہ بات پروفیسر ڈاکٹر گریش کمار ( آئی آئی ٹی ممبئی ) ثابت کرچکے ہیں۔
جب انفرا اسٹرکچر کو ضروری قرار دیا جاتا ہے تو وائی فائی کیوں نہیں ؟ ۔ اس سوال پر کرونا کا کہنا تھا کہ حکومت کے مطابق یہ بھی انفرا اسٹرکچر ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم سماجی انفرا اسٹرکچر میں پیچھے ہیں۔ بتایئے کہ حیدرآباد میں کتنے ابتدائی نگہداشت صحت کے مراکز ہیں۔ اگر ایک غریب بیمار ہوتا ہے تو اسے یا تو دو سرکاری دواخانے ہیں یا پھر کسی کارپوریٹ دواخانہ سے رجوع ہونا پڑتا ہے ۔ کیا کوئی پرائمری ہیلت سنٹر ہے جہاں سے اسے مدد ملتی ہے ۔ ہم اس پہلو کو نظر انداز نہیں کرسکتے ۔ اسمارٹ شہر وہ ہوتا ہے وہ آپ کو معیاری زندگی فراہم کرتا ہے ۔ جہاں زندگی مساوی ہوتی ہے ۔ وائی فائی تو ہے لیکن بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے ۔ اس سوال پر کہ کیا دوسری حکومتیں آگے آ رہی ہیں ان کا کہنا تھا کہ ایسا ہو رہا ہے ۔ کچھ ریاستوں میں سوچھ بھارت پوری شدت سے چل رہا ہے ۔ کئی شہروں میں عوام نے اجتماعی کام کئے ہیں۔ حیدرآباد میں ایسا نہیں ہو رہا ہے ۔ دوسرے شہروں میں اسمارٹ سٹی کا کام چل رہا ہے ۔ سنگاپور کی مثال لیجئے جو انتہائی ڈسیپلن والا شہر ہے ۔ متحدہ عرب امارات میں عوام کو کورئیر اور دوسری سہولیات پہونچانے ڈرونس کا استعمال ہو رہا ہے ۔
لیکن ہندوستان میں آدھار کیلئے بھی مسائل ہیں کیونکہ اطلاعات کا افشا ہو رہا ہے ؟ کرونا نے کہا کہ آدھار کو کئی لوگوں نے سمجھا نہیں ہے ۔ ہم جو اطلاعات جمع کر رہے ہیں وہ وہی ہیں جو پہلے پاسپورٹ ‘ ووٹر آئی ڈی ‘ راشن کارڈ کیلئے جمع کی گئیں۔ آدھار میں اضافی معلومات صرف بائیو میٹرکس کی ہے ۔ تاہم یہ ضرور ہے کہ حکومت کو اس کے افشا کو روکنے اقدام کرنے چاہئیں۔
اس سوال پر کہ آپ کے خیال میں حیدرآباد کو کیا کرنا چاہئے ؟ کرونا نے کہا کہ حکومت گلوبل سٹی کی بات کر رہی ہے لیکن انفرا اسٹرکچر میں پیچھے ہے ۔ اس پر حکومت کو جامع منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہاں میٹرو ریل ہے لیکن یہ سفید ہاتھی ہے اور یہ مفید ثابت نہیں ہوا ہے ۔ شہریوں کو موثر ذرائع حمل و نقل فراہم کرنا ضروری ہے ۔ میٹرو ریل ایک مہنگا پراجیکٹ ہے ۔ اس کی قیمت جہاں دو بلین ڈالرس ہونی تھی وہ تین بلین ڈالرس ہوگئی ہے ۔ اس کا مطلب ہے 7000 کروڑ زائد خرچ کئے گئے ہیں۔ اگر اس پر عوام سفر نہیں کرینگے تو یہ سفید ہاتھی بن جائیگی ۔ صرف اس لئے انفرا اسٹرکچر پر توجہ نہیں دی جاسکتی کہ یہ فیشن ہوگیا ہے ۔ ان کا خیال تھا کہ پالیسیوں کی تیاری میں عوام کی رائے شامل ہونی چاہئے ۔ دہلی میں بھاگے داری نظام ہے ۔ چینائی میں سٹیزنس کنکٹ ہے ۔ پونے کا سماج با شعور ہے ۔ اس نے میٹرو ٹرین کی مخالفت کی اور کامیاب رہا ۔ ضرورت یہ ہے کہ حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے ۔ شہر کا نقشہ تیار کیا جائے ۔ ان آبادیوں کا پتہ چلایا جائے جہاں بیماریاں پھیل سکتی ہیں اور سیلاب آسکتا ہے ۔ ہمیں کسی فارما سٹی کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی خوابوں کی تکمیل والا سیکریٹریٹ چاہئے ۔ اسمارٹ سٹی کے تعلق سے کئی غلط فہمیاں ہیں جنہیں دور کرنا بڑا چیلنج ہے اور عوام کو اسمارٹ سٹی اور گرین سٹی کے تعلق سے واقف کروانا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT