Tuesday , December 11 2018

اسمبلی اجلاس… جھلکیاں

ریونت ریڈی کے خلاف ٹی آر ایس ارکان کا احتجاج ایک ہفتہ معطلی کے بعد تلگودیشم ارکان واپس

ریونت ریڈی کے خلاف ٹی آر ایس ارکان کا احتجاج
ایک ہفتہ معطلی کے بعد تلگودیشم ارکان واپس
حیدرآباد۔/20نومبر، ( سیاست نیوز) تلگودیشم سے تعلق رکھنے والے ارکان نے ایک ہفتہ کی معطلی کے بعد آج اسمبلی اجلاس میں شرکت کی۔ اگرچہ تلگودیشم ارکان نے کسی بھی مسئلہ پر ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ پیدا نہیں کی تاہم ریونت ریڈی کو ٹی آر ایس ارکان کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا۔ وقفہ سوالات میں آبپاشی سے متعلق مسئلہ پر ضمنی سوال کیلئے جب ریونت ریڈی اُٹھے تو ٹی آر ایس ارکان نے احتجاج کیا اور کہا کہ جب تک وہ ایوان سے معذرت خواہی نہیں کرتے انہیں بات کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیئے۔ واضح رہے کہ ریونت ریڈی نے نظام آباد کی رکن پارلیمنٹ کویتا پر جامع سماجی سروے میں دو مقامات پر نام درج کرانے کا الزام عائدکیا تھا۔ اسی مسئلہ پر گڑبڑ کے بعد تلگودیشم ارکان کو ایک ہفتہ کیلئے معطل کیا گیا۔ آج جب ریونت ریڈی سوال کرنے اٹھے تو ٹی آر ایس ارکان نے اسی مسئلہ پر ریونت ریڈی سے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا اور ایوان میں نعرہ بازی کی۔اس موقع پر چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ ایوان میں موجود تھے لیکن انہوں نے مداخلت نہیں کی۔ کچھ دیر تک ٹی آر ایس ارکان کا احتجاج جاری رہا جس پر اسپیکر مدھو سدن چاری نے ریونت ریڈی کو مائیک نہیں دیا۔ اس سے قبل صبح میں ایک ہفتہ بعد ایوان پہنچنے والے تلگودیشم ارکان کا بی جے پی اور دیگر اپوزیشن ارکان نے خیرمقدم کیا۔ بی جے پی اور دیگر پارٹیوں کے ارکان سے تلگودیشم ارکان نے ملاقات کی۔ ٹی آرایس کے بعض ارکان نے تلگودیشم ارکان کی نشستوں کے پاس پہنچ کر خیرسگالی ملاقات کی۔تلگودیشم سینئر ارکان دیاکر راؤ اور ریونت ریڈی نے قائد اپوزیشن جانا ریڈی، سکریٹری کانگریس لیجسلیچر پارٹی بھٹی وکرامارکا اور بی جے پی فلور لیڈر ڈاکٹر لکشمن سے کچھ دیر تک رازدارانہ گفتگو کی اور وہ ایوان کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے۔
ڈپٹی چیف منسٹرمحمود علی کی تلگو دانی
حیدرآباد۔/20نومبر، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر مال محمد محمو د علی نے آج اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران دو لسانی فارمولہ پر عمل کرتے ہوئے تلگو اور اردو میں جواب دیا۔ ریاست میں خشک سالی سے متاثرہ منڈلوں کے بارے میں پواڈا اجئے کمار کے سوال کا جواب ڈپٹی چیف منسٹر نے تلگو زبان میں پڑھا۔ اگرچہ وہ روانی سے تلگو پڑھ نہیں پارہے تھے تاہم ان کی تلگو میں جواب دینے کی کوشش کو ایوان میں موجود ارکان نے سراہا۔ پواڈا اجئے کمار اور بعض دیگر ارکان نے جب ضمنی سوالات کئے تو ڈپٹی چیف منسٹر نے اس کا جواب اردو زبان میں دیا۔ اس طرح ایوان میں کسی وزیر کی جانب سے بیک وقت دو زبانوں میں جواب دینے کی مثال دیکھی گئی حالانکہ ضمنی سوالات تلگو میں کئے گئے تھے لیکن ان کا جواب اردو زبان میں دیا گیا۔ عام طور پر اردو میں کئے گئے سوال کا متعلقہ وزیر جواب اردو میں دیتے ہیں۔
فوج کی جانب سے سڑکوں کی ناکہ بندی کی شکایت
حیدرآباد۔/20نومبر، ( سیاست نیوز) تلگودیشم رکن جی سائینا نے کنٹونمنٹ علاقہ میں فوج کی جانب سے عوامی راستوں کی مسدودی کے سلسلہ میں حکومت سے مداخلت کی اپیل کی۔ وقفہ صفر میں یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے سائینا نے کہا کہ کنٹونمنٹ اور اطراف کے علاقوں میں فوج کی جانب سے سڑکوں کی ناکہ بندی کی جارہی ہے جس کے سبب عوام کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سڑکیں نظام دور حکومت سے عوامی گذرگاہ کے طور پر استعمال کی جارہی تھیں لیکن فوج نے دو اہم شاہراہوں کو بند کردیا جس کے باعث ملازمین، طلبہ اور عوام کو تقریباً 8تا10کلو میٹر کی زائد مسافت طئے کرنی پڑ رہی ہے۔ جی سائینا نے صفیل گوڑہ میں اہم شاہراہ کی ناکہ بندی کا حوالہ دیا اور حکومت سے اپیل کی کہ وہ فوجی حکام سے بات چیت کرتے ہوئے سڑکوں کی کشادگی کو یقینی بنائیں تاکہ عوام کو مشکلات سے بچایا جاسکے۔

l غیر مجاز مکانات کو باقاعدہ بنانا
l شہر میں ریو پارٹیز کے خلاف کارروائی
l غریب طلبہ کو مفت تعلیم کی فراہمی
حیدرآباد۔/20نومبر، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر مال محمد محمود علی نے کہا کہ 2008ء میں جاری کردہ جی او 166کے تحت 13134 غیر مجاز مکانات کو باقاعدہ بنایا گیا۔ وقفہ سوالات میں کے پی ویویکانند اور دوسروں کے سوال پر ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ 2000 مربع گز تک کے مکانات کو باقاعدہ نہیں بنایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 80مربع گز تک کے 6707 مکانات کو باقاعدہ بنانے کے احکامات جاری کئے گئے۔ ریاستی ہائی کورٹ نے اپنے عبوری احکامات میں حکومت کو اس سلسلہ میں مزید کسی کارروائی سے روک دیا ہے۔ مکانات کو باقاعدہ بنانے کے سلسلہ میں زیر التواء درخواستوں پر ہائی کورٹ کے فیصلہ کی بنیاد پر غور کیا جائے گا۔
٭٭ وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی نے کہا کہ حیدرآباد اور اس کے اطراف کے علاقوں میں غیر قانونی طور پر جاری سرگرمیوں اور ریو پارٹیوں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔ ومشی چند ریڈی اور دوسروں کے سوال پر وزیر داخلہ نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں اس طرح کی پارٹیوں کے خلاف تین مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی پولیس اور خصوصی ٹیموں کے ذریعہ ان سرگرمیوں کی روک تھام کیلئے تمام احتیاطی قدم اٹھائے جارہے ہیں۔
٭٭ وزیر تعلیم جگدیش ریڈی نے ٹی جیون ریڈی کے سوال پر تحریری جواب میں بتایا کہ حکومت نے قانون حق تعلیم کے تحت غریب طلبہ کو مفت تعلیم کی فراہمی کیلئے 2010ء میں جی او 44جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشنل آفیسرس اور ریجنل جوائنٹ ڈائرکٹرس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ قانون حق تعلیم پر عمل آوری کے اقدامات کریں۔ انہوں نے بتایا کہ اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کیلئے حکومت نے ریشنلائزیشن کا عمل شروع کیا ہے جس کے بعد مخلوعہ جائیدادوں پر ڈی ایس سی کے ذریعہ تقررات کئے جائیں گے۔
تلنگانہ اسمبلی میں سلطنت آصفیہ کے کارنامے نظر انداز
کانگریس رکن چنا ریڈی کی توجہ دہانی، مسلم ارکان کی معنیٰ خیز خاموشی
حیدرآباد۔/20نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت کی جانب سے سلطنت آصفیہ کے کارناموں کو نظر انداز کرنے کا معاملہ آج اسمبلی میں موضوع بحث بن گیا تاہم حکومت نے اس کا واضح طور پر جواب دینے سے گریز کیا۔ متحدہ آندھرا پردیش میں علحدہ تلنگانہ کیلئے جدوجہد اور اس میں کامیابی کے بعد اب نئی ریاست تلنگانہ میں تہذیبوں کا ٹکراؤ دیکھا جارہا ہے۔ کانگریس کے رکن ڈاکٹر جی چنا ریڈی نے وقفہ سوالات میں حکومت پر شمالی تلنگانہ کی تہذیب کو جنوبی تلنگانہ پر مسلط کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے شکایت کی کہ تلنگانہ میں تالابوں کے تحفظ کے لئے شروع کردہ مہم کا جو نام دیا گیا ہے وہ تلنگانہ پر حکمرانی کرنے والے دوسرے حکمرانوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ حکومت نے تلنگانہ کے 9اضلاع میں تالابوں کی بحالی اور تحفظ کے پروگرام کو ’’ مشن کاکتیہ‘‘ کا نام دیا ہے جس کا مطلب کاکتیہ دور حکومت میں تعمیر کردہ تالابوں کا تحفظ ہے۔ ڈاکٹر چنا ریڈی نے ’ مشن کاکتیہ ‘ نام پر اعتراض کیا اور کہا کہ ان کے ضلع محبوب نگر اور جنوبی تلنگانہ کے علاقوں میں دیگر حکمرانوں نے تالاب تعمیر کئے تھے اور یہاں کاکتیہ حکمرانوں کا کوئی رول نہیں رہا پھر بھی ساری ریاست کے تالابوں کو کاکتیہ حکومت سے منسوب کرنا مناسب نہیں۔ دراصل ان کا اشارہ سلطنت آصفیہ اور خاص طور پر آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں کی جانب سے تعمیر کئے گئے تالابوں کی طرف تھا۔ چنا ریڈی نے جس وقت یہ مسئلہ اٹھایا ایوان میں موجود مسلم ارکان اسمبلی مبینہ طور پر خاموش تماشائی بنے رہے حالانکہ سلطنت آصفیہ کے کارناموں کا انہیں اظہار کرنا چاہیئے تھا۔ڈاکٹر چناریڈی نے جب یہ مسئلہ اٹھایا تو ٹی آر ایس کے ارکان نے اعتراض کیا اور کہا کہ تلنگانہ میں مزید علاقائی جذبات کو ہوا دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کانگریس کے رکن نے کہا کہ محبوب نگر اور دیگر علاقوں میں ہمارے بادشاہوں نے کئی تالاب تعمیر کئے لہذا اس پروگرام کا نام ’ مشن کاکتیہ‘ کے بجائے کچھ اور رکھا جانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی تلنگانہ پر شمالی تلنگانہ کی تہذیب مسلط کی جارہی ہے۔ جنوبی تلنگانہ میں بونال کا تہوار اہمیت کا حامل ہے لیکن حکومت نے شمالی تلنگانہ کے بتکماں تہوار کو ریاستی فیسٹول قرار دیا جسے جنوبی تلنگانہ والوں نے قبول کرلیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیئے کہ وہ جنوبی تلنگانہ عوام کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے تالابوں کے تحفظ کی اسکیم کا نام تبدیل کرے۔ اسپیکر مدھو سدن چاری نے اس مسئلہ پر چنا ریڈی کو مزید کچھ کہنے سے روک دیا۔ وزیر آبپاشی ہریش راؤ نے اعتراف کیا کہ تلنگانہ میں سلطنت آصفیہ اور کاکتیہ حکمرانوں نے کئی تالاب تعمیر کئے تاہم تلنگانہ کے سرکاری لوگو میں کاکتیہ دور حکومت کی یادگار کو شامل کیا گیا ہے لہذا حکومت تلنگانہ میں کاکتیہ دور کے احیاء کے مقصد سے اس اسکیم کے نام کو کاکتیہ سے منسوب کیا۔اسمبلی اور اس کے باہر نظام حیدرآباد کے کارناموں کا ذکر کرنے والے مسلم ارکان اسمبلی کی اس موقع پر خاموشی معنی خیز رہی۔ شاید تلگو زبان میں جاری اسمبلی کی کارروائی کو وہ سمجھنے سے قاصر رہے۔

TOPPOPULARRECENT