Monday , November 19 2018
Home / سیاسیات / اسمبلی انتخابات سے پہلے کرناٹک میں نئی سیاسی جماعتوں کا سیلاب

اسمبلی انتخابات سے پہلے کرناٹک میں نئی سیاسی جماعتوں کا سیلاب

عوامی مسائل کی یکسوئی سے زیادہ ووٹوں کی تقسیم اصل مقصد ، اقلیتی ووٹوں کی تقسیم سے بی جے پی کو فائدہ
حیدرآباد۔21مارچ(سیاست نیوز) کرناٹک انتخابات میں نئی سیاسی جماعتیں بارش کے کیڑوں کی طرح ابھرنے لگی ہیں اور ریاست کے ہر ضلع میں سیاسی قائدین پیدا ہونے لگے ہیں لیکن عین انتخابات سے قبل اس طرح کی سیاسی سرگرمیوں میں ہونے والے اضافہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاست میں مسائل کے حل سے زیادہ ووٹوں کی تقسیم کو یقینی بنانے کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ جتنی زیادہ سیاسی جماعتیں اور امیدوار میدان میں ہوں گے اتنے زیادہ ووٹ تقسیم ہوں گے۔ سیکولر اور اقلیتی وووٹوں کی تقسیم کی صورت میں ریاست کرناٹک میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہی فائدہ حاصل ہوگا ۔ اگادی کے موقع پر ریاست کرناٹک میں ایک نئی سیاسی جماعت کا آغاز کیا گیا اور کہا جا رہاہے کہ بھارتیہ جناشکتی کانگریس کے نام سے قائم کی گئی یہ سیاسی جماعت کرناٹک اسمبلی انتخابات کے تمام حلقہ جات اسمبلی سے مقابلہ کرے گی اور اس مقابلہ کیلئے اس جماعت کا دعوی ہے کہ اس کے پاس امیدوار بھی موجود ہیں۔ نئی پارٹی کی تشکیل دینے والے سابق پولیس عہدیدار انوپما شینوائے کا کہناہے کہ ان کا مقصد کانگریس کی شکست ہے اور کانگریس کو شکست دینے کی غرض سے ہی وہ میدان سیاست میں آرہے ہیں ۔ اسی طرح کرناٹک میں حیدرآباد کی نوزائیدہ سیاسی جماعت آل انڈیا مہیلا امپاؤرمنٹ پارٹی کی جانب سے بھی سرگرم انتخابی مہم چلائی جا رہی ہے اور اس مہم کیلئے خود پارٹی صدر کرناٹک میں مصروف ہے۔ آل انڈیا مہیلا امپاؤرمنٹ پارٹی کا کہناہے کہ وہ ریاست میں خاتون چیف منسٹر کیلئے جدوجہد کرر ہی ہیں اور ان کی اس جدو جہد کا مقصد خواتین کو مساوی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ کرناٹک کے معروف سماجی جہد کار و سابق رکن اسمبلی وی ناگراج نے بھی نئی سیاسی جماعت تشکیل دیتے ہوئے انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے انہوں نے کرناٹک پرجا سمیوکتا رنگا کے نام سے نئی سیاسی جماعت کی تشکیل عمل میں لائی ہے اور وہ دونوں سیاسی جماعتوں بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کو شکست دینے کی بات کر رہے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ ان کے امیدواروں کے میدان میں اتارے جانے سے بھی ووٹوں کی تقسیم ہونے کا خدشہ ہے۔

عام آدمی پارٹی سے علحدگی اختیار کرتے ہوئے سوراج ابھیان کی تشکیل دینے والے مسٹر یوگیندر یادو نے حلقہ اسمبلی منڈیا سے امیدوار میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ کانگریس کی جانب سے ان کے اس فیصلہ پر غور کیا جا رہاہے اور کانگریس سوراج ابھیان کے ایک امیدوار کیلئے تائیدکرنے کا ذہن بھی بنا رہی ہے ۔مجلس کی جانب سے بھی کرناٹک انتخابات میں حصہ لینے کے فیصلہ سے کانگریس اور سیکولر حلقو ںمیں ہلچل پائی جاتی ہے اور چیف منسٹر مسٹر سدا رامیا کی جانب سے مجلس کو ووٹ کاٹنے کیلئے انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی جماعت قرار دیا جا رہاہے اور کہا جارہا ہے کہ ریاست میں سیکولر ووٹوں کی تقسیم کیلئے منظم سازش چلائی جا رہی ہے۔سیاسی ماہرین کاکہنا ہے کہ ریاست کرناٹک میں جس رفتار سے نئی سیاسی جماعتوں کی تشکیل عمل میں لائی جا رہی ہے اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جنوبی ہند کی اس اہم ریاست میں اقتدار کے حصول کیلئے قومی سطح پر برسراقتدار سیاسی جماعت کی جانب سے کوئی کسر نہیں چھوڑی جا رہی ہے بلکہ ضرورت پڑنے پر مزید نئی سیاسی جماعتوں کی تشکیل کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے ۔باوثوق ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق شہر حیدرآباد کی دونوں سیاسی جماعتوں کے متعلق کرناٹک کے عوام میں کافی بد گمانیاں پائی جاتی ہیں اور عام شہری ان کے انتخابات میں حصہ لینے کو سازش کا حصہ تصور کر رہے ہیں۔اسی طرح نئی سیاسی جماعتوں کی تشکیل کے سلسلہ میں منظر عام پر آنے والی اطلاعات بھی سیکولر حلقوں کیلئے حیرت کا باعث بن رہی ہیں کیونکہ سیاسی جماعت کی تشکیل اور امیدواروں کو میدان میں اترنے کیلئے کافی سرمایہ درکار ہوتا ہے اور کوئی بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ نئی سیاسی جماعتیں جو اپنے کیڈر و کارکنوں کے بغیر امیدوار میدان میں اتارنے اور تمام نشستوں سے مقابلہ کے اعلانات کر رہی ہیں ان کے پاس اتنا سرمایہ کہاں سے آرہا ہے ؟کرناٹک انتخابات کو سیاسی ماہرین کوارٹر فائنل قرار دے رہے ہیں کیونکہ ان انتخابات کے فوری بعد شمالی ہند کی ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہیں اور شمالی ہند کی ریاستوں کے انتخابات کے اختتام کے ساتھ ہی ملک بھر میں عام انتخابات ہونے ہیں اسی لئے یہ سمجھا جا رہا ہے کہ بی جے پی کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتی۔

TOPPOPULARRECENT