Wednesday , November 14 2018
Home / Top Stories / اسمبلی انتخابات کیلئے کانگریس کی نئی حکمت عملی، 6 ماہ قبل امیدواروں کا اعلان

اسمبلی انتخابات کیلئے کانگریس کی نئی حکمت عملی، 6 ماہ قبل امیدواروں کا اعلان

انچارج قائدین کوناموں کے انتخاب کا اختیار،راہول گاندھی کی خاص توجہ

حیدرآباد۔/8جولائی، ( سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے تلنگانہ میں ٹی آر ایس سے سخت مقابلہ کے پیش نظر اپنی انتخابی حکمت عملی کو ہمیشہ سے مختلف انداز میں تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپنی روایت سے انحراف کرتے ہوئے کانگریس پارٹی اسمبلی کے اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان مقررہ وقت سے قبل کرسکتی ہے تاکہ امیدواروں کو اپنے حلقہ جات میں مہم چلانے کا بھرپور موقع مل سکے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے انچارج جنرل سکریٹری اور حال ہی میں تلنگانہ کیلئے مقرر کردہ 4 انچارج سکریٹریز کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ اسمبلی حلقہ جات کی سطح پر پارٹی کے موزوں امیدواروں کی تلاش کا کام ابھی سے شروع کردیں۔ ایسے امیدواروں کو ترجیح دی جائے جو کامیابی کی طاقت اور صلاحیت رکھتے ہیں۔ امیدواروں کے انتخاب کے سلسلہ میں علاقہ اور طبقات کو بھی پیش نظر رکھا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ جب کبھی تلنگانہ اسمبلی کے انتخابات ہوں گے کانگریس کے امیدواروں کی اکثریت نوجوانوں کی ہوگی۔ صدر کانگریس راہول گاندھی نے نئی نسل کو موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ تلنگانہ میں روایتی طرز کی قیادت کا خاتمہ کیا جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ صدر اے آئی سی سی راہول گاندھی سے تلنگانہ قائدین اور انچارج قائدین نے سفارش کی ہے کہ امیدواروں کا اعلان کم از کم الیکشن سے 6 ماہ قبل کیا جائے۔ راہول گاندھی نے اس تجویز پر مثبت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے تیقن دیا کہ اگر ہر اسمبلی حلقہ کے بارے میں انچارج جنرل سکریٹری اور سکریٹریز کی رپورٹ جلد حاصل ہوتی ہے تو وہ 6 ماہ قبل امیدواروں کے ناموں کے اعلان کو یقینی بنائیں گے۔ راہول گاندھی کی ہدایت کے مطابق پارٹی کے نئے نامزد 3 سکریٹریز نے انہیں الاٹ کردہ اضلاع کے دوروں کا آغاز کردیا ہے۔ وہ اضلاع میں ضلعی قائدین سے ملاقات کرتے ہوئے مقامی صورتحال کا جائزہ لیں گے۔ پارٹی کارکنوں سے ملاقات کرتے ہوئے امکانی امیدواروں کے بارے میں دریافت کریں گے۔ انچارج سکریٹریز ہر ضلع میں پارٹی قائدین میں اختلافات کی یکسوئی اور گروہ بندیوں کے خاتمہ کے سلسلہ میں اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ میں کانگریس نے اسمبلی اور لوک سبھا کے انتخابات کو اپنے لئے وقار کا مسئلہ بنالیا ہے۔ تلنگانہ کی تشکیل میں کانگریس کے اہم رول کے باوجود ٹی آر ایس نے اقتدار پر قبضہ کرلیا اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ وہ تلنگانہ کی تشکیل میں کانگریس کے رول سے انکار کررہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کم از کم 6 ماہ قبل امیدواروں کے ناموں کے اعلان سے امیدوار کو اپنے حلقہ کے ناراض قائدین کو منانے میں مدد ملے گی۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ کانگریس پارٹی اپنے امیدواروں کی فہرست پرچہ نامزدگی کے ادخال کی آخری تاریخ سے عین قبل جاری کرتی ہے۔ ٹکٹ کے خواہشمند تمام جونیر اور سینئر قائدین نئی دہلی میں قیام کرتے ہیں جس کے سبب اسمبلی حلقہ جات میں پارٹی کی کوئی سرگرمی دکھائی نہیں دیتی۔ امیدوار کے اعلان کے ساتھ ہی ناراض قائدین بغاوت کرتے ہوئے انتخابی میدان میں اُتر جاتے ہیں۔ ان حالات میں امیدوار کو ایک طرف ناراض قائدین کو منانے میں وقت لگ جاتا ہے تو دوسری طرف وہ مہم پر کما حقہ توجہ مرکوز نہیں کرپاتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ہائی کمان نے امیدواروں کے انتخاب کے طریقہ کار کو آسان بناتے ہوئے ریاست کے انچارجس کو امیدواروں کے سلیکشن کا مکمل اختیار دے دیا ہے۔ اے آئی سی سی نے 3 نئے انچارج مقرر کرتے ہوئے ریاست کے 17 لوک سبھا حلقوں کو ان تینوں میں تقسیم کردیا ہے۔ نئے مقرر کردہ انچارج سکریٹریز میں سلیم احمد، بی راجو اور سرینواسن کرشنن شامل ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT