Monday , November 20 2017
Home / اداریہ / اسمبلی انتخابات کے نتائج

اسمبلی انتخابات کے نتائج

ہندوستانی رائے دہندوں کو ان دنوں کہیں سیاسی مقاصد کے کھونٹے سے باندھ کر چارسو جنگل راج یا جنگل کا قانون جیسا ماحول بنانے جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے ضابطہ پر تو عمل نہیں کیا جارہا ہے۔ جب سے مرکز میں بی جے پی نے اقتدار سنبھالا ہے کانگریس کے صفایا کی ایک مہم کو شدت کے ساتھ پورا کیا جارہا ہے۔ کانگریس سے پاک بھارت کا نعرہ دینے والوں نے اس کو سچ بھی ثابت کرنا شروع کردیا ہے۔ پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد کانگریس کو مزید دو ریاستوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔ اب یہ تاریخی قومی پارٹی کے وجود سے محروم ہوجائے گی۔ اسبملی انتخابات میں سب سے زیادہ خوشی بی جے پی کو ہورہی ہے کہ اس نے آسام میں 15 سال سے حکومت کرنے والی ترون گوگوئی زیرقیادت کانگریس حکومت کو بدترین شکست دیدی ہے۔ بی جے پی نے آسام میں اپنے خوابوں کی تکمیل کیلئے ساری تیزی جھونک دی تھی مگر ریاست کے عوام نے ازخود کانگریس کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ مخالف حکمرانی لہر نے کانگریس کو آسام اور کیرالا سے اقتدار سے محروم کردیا جبکہ حکمرانی کے خلاف لہر ہونے کے اگزٹ پولس کو غلط ثابت کرتے ہوئے چیف منسٹر مغربی بنگال ممتابنرجی اور چیف منسٹر ٹاملناڈو جیہ للیتا کو دوبارہ اقتدار ملا۔ ٹاملناڈو میں جیہ للیتا کی پارٹی انا ڈی ایم کے کو دوبارہ اقتدار ایک تاریخی تبدیلی ہے جبکہ یہاں کی روایت رہی ہیکہ ایک پانچ سال کی میعاد حکمراں پارٹی کو حاصل ہوتی ہے تو دوسرے پانچ کیلئے اپوزیشن کو موقع دیا جانا ہے۔ ایم جی رامچندرن کے دور کے بعد اب جیہ للیتا کو دوبارہ اقتدار کرنے کیلئے ووٹ دیا گیا۔ اب کانگریس ہی ملک کی کسی بھی بڑی ریاست میں اقتدار نہیں رہے گا تو مرکز کی بی جے پی حکومت کی کارکردگی کس نقطہ عروج پر پہنچے گی۔ یہ غور طلب ہوگا کیونکہ ایک مضبوط اپوزیشن کے بغیر حکمراں پارٹی کو من مانی کرنے کی کھلی چھوٹ ملے گی اس حقیقت کے باوجود بی جے پی کو راجیہ سبھا میں کانگریس سے پیچھے ہی رہنا پڑ رہا ہے۔ راجیہ سبھا میں ارکان کی تعداد مرکزی حکومت کے آرزوؤں کو پر لگنے نہیں دے گی اور جیہ للیتا، ممتابنرجی کی یہ شاندار کامیابی بھی مودی حکومت کیلئے فال نیک نہیں ہوگی البتہ دونوں خاتون چیف منسٹر مرکز کی بی جے پی حکومت کے ساتھ اچھے روابط رکھنے کی کوشش کریں گی۔ اب انتخابی نتائج سامنے آ چکے ہیں تو سیاسی مفادات کا گراف بھی بلند ہوتا جائے گا پھر بھی بی جے پی کو پارلیمنٹ میں اہم بلوں کی منظوری میں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہندوستان کی حالیہ سیاسی لڑائی میں کانگریس کی کشتی بتدریج غرقاب ہورہی ہے تو اس جگہ علاقائی پارٹیوں نے لینی شروع کی ہے۔ آسام میں بی جے پی کی کامیابی اس کے حوصلوں کو مزید بلند کرے گی۔ دہلی اور بہار میں شکست کے بعد بی جے پی قائدین پر تقریباً مایوسی چھائی ہوئی تھی۔ آسام میں کانگریس کی ناکامیوں کی کئی وجوہات ہیں۔ بی جے پی کو آسانی سے کامیابی اس لئے ملی ہیکہ آسام کے عوام کانگریس کی حکمرانی سے بدظن ہوچکے تھے۔ 15 سال سے حکومت کرنے والے چیف منسٹر ترون گوگوئی نہ صرف اس عہدہ کیلئے ضعف کا شکار ہوچکے تھے بلکہ وہ اپنے فرزند کو اپنی نشست پر پہنچانے کی کوشش کررہے تھے۔ کیرالا میں کانگریس کی شکست ایک معمول کا عمل ہے کیونکہ یہاں ہر پانچ سال میں ایک پارٹی کو حکومت کا موقع ملتا ہے۔ اس مرتبہ کیرالا کی سیاست میں اس لئے تجسس پیدا ہوگیا تھا کیونکہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا میں گروہ واری تصادم بڑھ گیا تھا اور یہ غیریقینی پیدا ہوگئی تھی کہ کیرالا میں بائیں باوز نظریہ کے ووٹ بی جے پی کی جانب جائیں گے مگر ایسا نہیں ہوا۔ مغربی بنگال میں 34 سال کی حکمرانی کرنے والے بائیں بازو اتحاد کو بدترین شکست دینے کے بعد پانچ سال تک حکومت کرنے والی ممتابنرجی نے ایک بار پھر کمیونسٹ ریاست میں اپنا سکہ برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کرلی۔ وزیراعظم نریندر مودی نے بی جے پی کی کامیابی کو پارٹی ورکرس کی سخت محنت سے تعبیر کیا ہے اور عوام کی آرزوؤں کو پورا کرنے کا عہد کیا۔ آسام میں بی جے پی کو اقتدار حاصل ہونے کے بعد جو اندیشے پیدا ہوں گے ان میں سب سے بڑا مسئلہ تارکین وطن کا ہوگا۔ بی جے پی خود کو مخالف بنگلہ دیش تارکین وطن چمپیئن بنا کر پیش کرچکی ہے۔ اب آسام کے مسلمانوں میں احساس خوف پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ بی جے پی حکومت میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہوگا جبکہ آسام میں کانگریس کی 15 سالہ حکمرانی کے دوران بھی مسلمانوں پر کئی مظالم ڈھانے کے واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ ہوسکتا ہیکہ اس مرتبہ بی جے پی آسام کی تاریخ دہرانے کے بجائے ترقیات پر توجہ دے کر واقعی عوام کے خوابوں کو پورا کرنے میں مصروف ہوجائے گی۔

TOPPOPULARRECENT