Wednesday , December 19 2018

اسمبلی انتخابات کے پیش نظر ہندوتوا طاقتیں اپنے ایجنڈہ پر عمل کیلئے کوشاں

تنظیم انصاف تلنگانہ کونسل کا اجلاس، مسرس ظہیرالدین علی خان ، سید عزیز پاشاہ و دیگر کا خطاب

حیدرآباد۔7جنوری(سیاست نیوز) تنظیم انصاف تلنگانہ یونٹ کی ریاستی کونسل میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے سابق رکن پارلیمنٹ راجیہ سبھا جناب سید عزیز پاشاہ نے کہاکہ پچھلے تین سالوں میںملک کے حالات یکسر تبدیل ہوگئے ہیں۔ آنے والے دنوں میںملک کی مختلف ریاستوں میںاسمبلی انتخابات ہونے والے ہیںجس کے پیش نظر ہندوتوا طاقتیں اپنے ایجنڈے کو نافذ کرنے کی تیاری میںہیں اور دوسری جانب سکیولر طاقتیں منقسم ہوکر فرقہ پرست طاقتوں کے عزائم کو کامیاب بنانے کی راہ ہموار کررہے ہیں۔ آج یہاں سی پی آئی ہیڈکوارٹر میںمنعقدہ ریاستی کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیدعزیز پاشاہ نے کہاکہ ایک منظم سازش کے تحت ووٹ پولرائزیشن کاکام بی جے پی کررہی ہے اور اس سازش کو اشتعال انگیز تقاریر کے ذریعہ نام نہاد مسلم قائدین عملی جامہ پہنارہے ہیں۔سیدعزیز پاشاہ نے اترپردیش انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ریاست میںبی جے پی کی کامیابی کا راز مسلم قائدین کے اشتعال انگیز بیانات ہیں۔انہوں نے کہاکہ اسی سال کرناٹک میں بھی انتخابات ہونے والے ہیں اور بی جے پی اترپردیش کے اپنے فارمولہ کو اپناتے ہوئے وہاں پر اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے تاکہ ساوتھ انڈیا میںاپنے قدم جماسکے ۔ انہو ںنے کہاکہ اگر ایک مرتبہ انہیں یہاں پر بھی کامیابی حاصل ہوجاتی ہے تو راجستھان اور اترپردیش کے طرز پر اقلیتوں کے ساتھ برتائو کاسلسلہ کرناٹک اور پڑوسی ریاستو ں میںبھی شروع ہوجائے گا۔انصاف کی ریاستی کونسل میٹنگ میںمہمان خصوصی کے طور پر مدعو جناب ظہیر الدین علی خان نے بھی اس بات کی حمایت کی اور کہاکہ موجود ہ حالات میںبی جے پی کی اوچھی سیاست کو شکست فاش کرنے کے لئے تمام سکیولر جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر آنا پڑیگا۔ انہو ںنے کہاکہ اگر اترپردیش کے حالیہ اسمبلی انتخابات میں گرانڈ الائنس عمل میں آتا تو وہاں سے بی جے پی کا سیٹوں پر کامیاب ہونا بھی محال تھا۔ انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کی فلاح وبہبود کے بجائے اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل میںمسلم قائدین سرگرم ہیں۔ جناب ظہیر الدین علی خان نے کہاکہ کثیرآبادی کے باوجود اترپردیش کے مسلمانوں کی اکثریت پسماندگی کا شکار ہے جبکہ 2007سے لیکر2012تک اترپردیش اسمبلی میں مختلف سیاسی جماعتوں کے 66مسلم اراکین منتخب ہوئے تھے حالانکہ اس وقت مایاوتی کی حکومت تھی اور2012سے 2017تک 79مسلم اراکین کامیاب ہوئے تھے اور اس وقت سماج وادی پارٹی کی اترپردیش میںحکومت تھی اس کے باوجود مسلمانوں کی پسماندگی دور کرنے میںوہ ناکام رہے ۔ انہوں نے کہاکہ مسلمانو ں کوبیرونی دشمن سے کم اندرونی دشمن سے زیادہ خطرہ ہے ۔ ہمیںسب سے پہلے ہمار ی صفوں کے اندر موجود دشمنوں کی شناخت کرنے کی ضرورت ہے جو مذہب کے نام پر سیاست کرتے ہیں اور اپنے فائدے کے لئے کام کرتے ہوئے مسلمانوں کو مزیدپسماندہ بنارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر اس ملک کادلت اورمسلمان متحد ہوجاتا ہے تو کوئی دوسری طاقت اقتدار پر قابض نہیںہوسکتی۔انہوں نے کہاکہ سی پی ائی او رسی پی آئی ایم جیسی سکیولر جماعتوں کو آپسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ایک پلیٹ فارم پر آنے کی ضرورت ہے۔ جناب محمد عبدالطیف نے شکریہ ادا کیا جبکہ تنظیم انصاف اسٹیٹ جنرل سکریٹری منیر پٹیل نے کاروائی چلائی۔

TOPPOPULARRECENT