Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / اسمبلی اور لوک سبھا کے ساتھ مجالس مقامی انتخابات پر اعتراض

اسمبلی اور لوک سبھا کے ساتھ مجالس مقامی انتخابات پر اعتراض

ٹی آر ایس کی چیف الیکشن کمشنر سے نمائندگی ، بلدی انتخابی تاریخ میں توسیع کی درخواست

ٹی آر ایس کی چیف الیکشن کمشنر سے نمائندگی ، بلدی انتخابی تاریخ میں توسیع کی درخواست

حیدرآباد۔/7مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے چیف الیکشن کمشنر سے نمائندگی کرتے ہوئے آندھرا پردیش میں اسمبلی اور لوک سبھا کے ساتھ مجالس مقامی کے انتخابات منعقد کرنے پر اعتراض جتایا ہے۔ پارٹی نے الیکشن کمیشن سے خواہش کی کہ وہ سپریم کورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے مجالس مقامی کے انتخابات کی تاریخ میں توسیع کی اجازت حاصل کرے۔ ٹی آر ایس کے سینئر قائد اور سابق رکن پارلیمنٹ بی ونود کمار نے چیف الیکشن کمشنر کو اس سلسلہ میں مکتوب روانہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجالس مقامی کے انتخابات ایسے وقت مقرر کئے گئے ہیں جبکہ اسمبلی اور لوک سبھا کی انتخابی مہم جاری رہے گی لہذا سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو دشواری پیش آسکتی ہے۔انہوں نے استدلال پیش کیا کہ یکساں طور پر تینوں انتخابات کے انعقاد سے سرکاری مشنری کی فراہمی میں بھی دشواری پیش آئے گی۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ عام انتخابات سے قبل مجالس مقامی کیلئے رائے دہی سے عام انتخابات کے نتائج پر اثر پڑ سکتا ہے لہذا مجالس مقامی کے انتخابات کو عام انتخابات کے بعد منعقد کیا جانا چاہیئے۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ آزادانہ و منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کیلئے ضروری ہے کہ متوازی انتخابات کو ٹالاجائے۔ ریاست میں بلدی اداروں کے انتخابات 2010ء میں منعقد ہونے تھے تاہم آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے فوری انتخابات کی ہدایت دی جس کے بعد ریاستی الیکشن کمیشن نے انتخابی اعلامیہ جاری کردیا جس کے مطابق 2اپریل تک مجالس مقامی کا انتخابی مرحلہ مکمل کرلیا جائے گا۔

ونود کمار نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اسمبلی اور لوک سبھا کے انتخابات کے پروگرام کا بھی اعلان کردیا ہے جس کے مطابق آندھرا پردیش میں مارچ اور اپریل کے دوران مجالس مقامی اور اسمبلی اور پارلیمنٹ کے انتخابات ہوں گے۔ متوازی انتخابات کے سبب سیاسی جماعتوں کے علاوہ اسمبلی اور لوک سبھا کیلئے مقابلہ کرنے والے امیدواروں کو بھی دشواری ہوگی۔انہوں نے کہا کہ مجالس مقامی کے انتخابات پارٹی اساس پر منعقد ہوں گے لہذا ان کے نتائج کے اعلان سے عام انتخابات پر اثر پڑے گا اور آزادانہ و منصفانہ انتخابات کے نظریہ کی شکست ہوگی۔اس سلسلہ میں سیاسی جماعتوں نے چیف الیکٹورل آفیسر کی جانب سے 5مارچ کو منعقدہ کُل جماعتی اجلاس میں اپنی تشویش سے آگاہ کرایا تھا۔ مکتوب میں کہا گیا کہ ریاست کی تقسیم کے فیصلہ اور تلنگانہ ریاست کے یوم تاسیس کی تاریخ کے اعلان کے بعد ریاست میں سرکاری مشنری محکمہ جات اور فائیلوں کی تقسیم میں مصروف ہے۔ اضلاع میں نظم و نسق بھی تقسیم کے کام میں منہمک ہے لہذا دونوں انتخابات کیلئے عملے کی فراہمی دشوارکن ثابت ہوگی۔الیکشن کمیشن دفعہ 324کے تحت اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ریاستی الیکشن کمیشن کو مجالس مقامی کے انتخابات کی تاریخ میں توسیع کی ہدایت دے سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا سپریم کورٹ میں اس سلسلہ میں درخواست داخل کرتے ہوئے مجالس مقامی کے انتخابات کو موخر کرنے کی اجازت حاصل کرسکتا ہے۔ ونود کمار نے امید ظاہر کی کہ اس سلسلہ میں الیکشن کمیشن ضروری قدم اٹھائے گا۔

TOPPOPULARRECENT