Tuesday , September 25 2018
Home / شہر کی خبریں / اسمبلی حلقوں کی ازسرنو حد بندی کیلئے دہلی میں سرگرمیاں

اسمبلی حلقوں کی ازسرنو حد بندی کیلئے دہلی میں سرگرمیاں

وزیراعظم کے فیصلہ کا اِنتظار ، بجٹ سیشن میں بل کی پیشکشی متوقع، جاریہ سال اواخر انتخابات ممکن
حیدرآباد۔ 11 جنوری (سیاست نیوز) دونوں تلگو ریاستوں میں اسمبلی حلقوں کی ازسرنو حد بندی کیلئے دہلی میں سرگرمیاں شروع ہوچکی ہیں۔ اعلیٰ عہدیداروں نے اس پر کابینی نوٹ تیار کرلیا ہے۔ وزیراعظم کے دفتر نے وزارت داخلہ اور الیکشن کو مکتوب روانہ کردیا ہے۔ اگر وزیراعظم سیاسی طور پر فیصلہ کرتے ہیں تو آئندہ بجٹ سیشن میں بل پارلیمنٹ میں پیش ہوسکتا ہے۔ سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہونچ جانے سے اندازہ ہورہا ہے کہ جاریہ سال کے اواخر میں انتخابات ہوسکتے ہیں۔ تلنگانہ میں 119 اسمبلی حلقوں یا 153 اسمبلی حلقوں میں انتخابات منعقد ہوں گے۔ یہ سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ چیف منسٹر آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو آج کل میں دہلی پہنچ کر وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کرنے والے ہیں جس کے بعد اسمبلی حلقوں کی ازسرنو حد بندی پر مرکز کا موقف واضح ہونے کا امکان ہے۔ تقسیم ریاست بل میں دونوں ریاستوں کے اسمبلی نشستوں میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ دونوں تلگو ریاستوں کے چیف منسٹرس جب بھی وزیراعظم سے اس ملاقات کررہے ہیں۔ اس مسئلہ پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اگر مرکز کی جانب سے اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ کرنے کی منظوری حاصل ہوتی ہے تو ریاست تلنگانہ میں 34 نشستوں کے اضافہ کے ساتھ جملہ اسمبلی حلقوں کی تعداد 153 ہوجائے گی۔ پڑوسی ریاست آندھرا پردیش میں 50 اسمبلی حلقوں کے اضافہ کے ساتھ جملہ اسمبلی حلقوں کی تعداد 225 ہوجائے گی۔ جیسے جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں، این ڈی اے کی حلیف تلگو دیشم اور باہر سے اصولوں کی بنیاد پر مرکز کی تائید کرنے والی ٹی آر ایس اسمبلی حلقوں کا اضافہ کرنے کا مرکزی حکومت پر دباؤ بنا رہی ہیں۔ اسمبلی نشستوں میں اضافہ کرنے کیلئے پہلے مرکزی کابینہ میں اس کو منظوری دینا لازمی ہے، پھر بل کو پارلیمنٹ میں اتفاق رائے سے منظور کرنا ضروری ہوگا۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ اس سلسلے میں کابینی نوٹ تیار ہوگیا ہے۔ بل کیلئے درکار تمام اقدامات کرلینے کی وزیراعظم کے دفتر نے محکمہ داخلہ کو دے دی ہے۔ وزارت داخلہ نے بھی الیکشن کمیشن کو بھی ایک مکتوب روانہ کیا ہے۔ 2001ء اور 2011ء کی اعداد و شمار کو مدنظر رکھتے ہوئے اسمبلی حلقوں کی ازسرنو حد بندی کی مکتوب میں ہدایت دی گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں2001ء کے اعداد و شمار کے لحاظ سے حلقوں کی حد بندی ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے اس پر بھی مرکز کو غور کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ وزارت داخلہ کے عہدیداروں کا ماننا ہے کہ 2001ء کے اعداد و شمار کے تناسب سے اسمبلی حلقوں کی حد بندی کی جاسکتی ہے مگر اس کے لئے سیاسی فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مسئلہ پر محکمہ داخلہ اور الیکشن کمیشن کے عہدیداروں کے درمیان تبادلہ خیال بھی ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق دہلی میں دو تلگو ریاستوں میں اسمبلی حلقوں کی ازسرنو حد بندی کی سرگرمیوں کو دیکھنے کے بعد جھارکھنڈ کے بی جے پی کے قائدین جھارکھنڈ اسمبلی حلقوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کا مرکز پر دباؤ بنارہے ہیں۔ حکومت تلنگانہ بھی دہلی میں جاری سرگرمیوں پر خاص نظر رکھی ہوئی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT