Tuesday , April 24 2018
Home / مضامین / اسمبلی سرمائی سیشن، انتخابی پلیٹ فارم

اسمبلی سرمائی سیشن، انتخابی پلیٹ فارم

 

اقامتی اسکولس میں معیاری تعلیم
پرانا شہر کی ترقی نظر انداز

محمد نعیم وجاہت
تلنگانہ میں انتخابات سے دیڑھ سال قبل انتخابی ماحول گرما چکا ہے، ہر سیاسی جماعت اور اس کے قائدین عوام کو رجھانے کی خاطر بلند بانگ دعوے اور عجیب و غریب وعدے کررہے ہیں۔ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے متحدہ آندھرا پردیش اور تلنگانہ کی تاریخ کا طویل ترین اسمبلی کا سرمائی سیشن طلب کیا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سیشن ریاست میں انتخابی تیاریوں کا آغاز ہے۔ چیف منسٹر تلنگانہ نے بڑی ہوشیاری کے ساتھ مسلمانوں کو بہلانے کیلئے پرانے اندازمیں نئے کھلونے تھمانے کی کوشش کی ہے کیونکہ انھیں ریاست میں 14 فیصد اقلیتوں کے ووٹوں کی طاقت کا اندازہ ہے۔ 40 تا 50 اسمبلی حلقے ایسے ہیں جہاں مسلمانوں کا موقف فیصلہ کن ہے اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ان حلقوں میں مسلمان بادشاہ گر کا موقف رکھتے ہیں اور اسی نکتہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے چیف منسٹر کے سی آر نے حیدرآبادی محاورے ’’ دھڑا دھڑ، دھڑا دھڑ ‘‘ پر عمل کرتے ہوئے مسلمانوں کی بہبود کیلئے دھڑا دھڑ اسمبلی کے پلیٹ فارم سے اعلانات کردیئے جن میں 66 اردو مترجمین اور 900 اردو اساتذہ کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے علاوہ اندرون 15 یوم حیدرآباد میں انٹرنیشنل اسلامک سنٹر کا سنگ بنیاد بھی شامل ہیں۔ ایوان اسمبلی کے فلور اور چیف منسٹر کے شایان شان رتبہ کے تعلق سے ماضی قریب میں یہ کہا جاتا تھا کہ اگر چیف منسٹر کوئی اعلان کرتے ہیں تو اس کو سرکاری احکام تصور کیا جاتا اور اگر ایوان اسمبلی سے کوئی اعلان ہوتا تو اس کو گزٹ کا درجہ حاصل ہوتا تھا لیکن موجودہ چیف منسٹرکے سی آر کے اعلانات میں کوئی نئی بات نہیں ہے مگر اردو کو ریاست میں دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کیلئے سرمائی سیشن کے دوران بل کی منظوری خوش آئند ضرور کہی جاسکتی ہے مگر اس کو ٹی آر ایس حکومت کا کارنامہ ہرگز نہیں کہا جاسکتا کیونکہ متحدہ آندھرا پردیش میں سوائے ضلع کھمم کے باقی 9 اضلاع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل تھا۔

حکومت پر ہم تنقید برائے تنقید نہیں بلکہ تنقید برائے تعمیر کرتے ہوئے دلائل کے ساتھ حقائق کو بیان کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ہمارے ان تیکھے ریمارکس پر حکمران جماعت ٹی آر ایس کے قائدین کو اعتراض ہوسکتا ہے اور وہ بھی یہ کہہ سکتے ہیں کہ ٹی آر ایس اقتدار کے صرف ساڑھے تین سال مکمل ہوئے ہیں ماضی کی حکومتوں یا متحدہ آندھرا پردیش میں تو اردو کے ساتھ سوتیلا سلوک ہوا ہے۔ چلیئے اسے بھی تسلیم کرلیتے ہیں اور یہ بتانا چاہتے ہیں کہ کیا چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کے بشمول تلنگانہ کابینہ کے وزراء کی نصف تعداد ٹی آر ایس کے موجودہ ارکان اسمبلی کے بیشتر ارکان اسمبلی کانگریس اور تلگو دیشم میں شامل نہیں تھے۔ کیا 50 سال سے اسمبلی میں مجلس کی نمائندگی نہیں تھی، اگر ماضی کی حکومتوں نے ناانصافی کی ہے تو ان حکومتوں کا حصہ اور اس کی حلیف رہنے والی جماعتیں یا منتخبہ نمائندے بری الذمہ کیسے ہوسکتے ہیں؟ کیا ایسے سوالات اٹھانا اور ماضی و حال کا تقابل کرنا کوئی جرم ہے۔ ہماری نظر میں سب برابر کے ذمہ دار ہیں اور سب کو مشترکہ طور پر ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ماضی میں اردو کے ساتھ جو ناانصافی ہوئی ہے مستقبل میں اس کا ازالہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے علاوہ چیف منسٹر نے ایس سی، ایس ٹی اور دیہی طبقات کی فلاح و بہبود اور ترقی کیلئے کئی وعدے اور اعلانات کئے ہیں لیکن بیشتر اہم وعدوں پر کوئی عمل آوری نہیں ہوئی ہے۔ ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور میں مسلمانوں اور ایس ٹی طبقات کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا اور مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران انہیں اقتدار حاصل ہونے پر اندرون 4 ماہ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کا وعدہ کیا تھا لیکن 40 ماہ کی تکمیل کے باوجود وعدہ وفا نہیں ہوا۔ 7 ماہ قبل ہی حیدرآباد میں انٹرنیشنل اسلامک سنٹر قائم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ حالیہ سرمائی سیشن میں دوبارہ 15 یوم کی مہلت مقرر کی گئی لیکن 7 ماہ 15 دن مکمل ہونے کے باوجود سنگ بنیاد نہیں رکھا گیا۔ ڈبل بیڈ روم مکانات کا وعدہ کیا گیا لیکن شہر حیدرآباد میں ایک لاکھ ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر کیلئے ابھی مکمل ٹنڈرس بھی طلب نہیں کئے گئے۔ جن اضلاع میں چند ہزار مکانات تعمیر کئے گئے ہیں اس پر حکومت کی جانب سے وائیٹ پیپر جاری کرتے ہوئے سماج کے کن طبقات کو کتنے مکانات فراہم کئے گئے ہیں اس کی صراحت بھی نہیں کی گئی۔ اقلیتوں کے ساتھ دلت و پسماندہ طبقات کی تعلیمی ترقی کیلئے حکومت نے کئی اعلانات کئے۔ تین برسوں کے دوران کئے گئے وعدوں پر کوئی عمل آوری نظر نہیں آتی بلکہ تین سال کے دورن فیس بازادائیگی اسکیم پر عدم عمل آوری سے12 فیصد طلبہ ترک تعلیم کیلئے مجبور ہوگئے ہیں۔ دلت طبقات کو تین ایکر اراضی دینے کا وعدہ کیا گیا لیکن اس پر بھی کوئی عمل آوری نہیں ہوئی۔ گزشتہ 4 بجٹس میں اقلیتوں، ایس سی، ایس ٹی اور بی سی طبقات کیلئے جو بجٹ مختص کیا گیا ہے وہ کبھی50% سے زیادہ خرچ نہیں کیا گیا ہے۔ فلاحی اسکیمات کیلئے مختص کردہ بجٹ کبھی مکمل جاری نہیں کیا گیا۔ شادی مبارک اور کلیان لکشمی کی 40ہزار سے زیادہ درخواستیں زیر التواء ہیں۔ آبپاشی پراجکٹس میں ری ڈیزائن کے نام پر 45 ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے جارہے ہیں، کئی پراجکٹس کانگریس کے دور حکومت میں شروع ہوئے ہیں لیکن ٹی آر ایس حکومت اس کو اپنا کارنامہ قرار دے رہی ہے۔ اسمبلی کے سرمائی سیشن کے دوران کانگریس، بی جے پی، تلگودیشم کے ارکان نے مختلف عوامی مسائل پر حکومت سے استفسار کیا کہ ان کے جوابات دینے اور ٹی آر ایس حکومت کی کارکردگی پر روشنی ڈالنے کے بجائے حکومت نے سارے مسائل کیلئے کانگریس کو ذمہ دار قرار دیا۔ ٹی آر ایس کے ارکان نے جارحانہ موقف اختیار کیا اور اپوزیشن کو دبانے کی حکمت عملی پر عمل کیا اور عوام کو ’’ سنہرے تلنگانہ ‘ کا خواب دکھاتے ہوئے گہری نیند سلانے کی کوشش کی ہے۔

اسمبلی کا سرمائی سیشن مجموعی اعتبار سے حکمران ٹی آر ایس اور اس کی حلیف جماعت کیلئے انتخابی مہم کا پلیٹ فارم بنارہا اور دونوں نے ملکر اپوزیشن کو زیر کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کی ہے جبکہ کانگریس اور بی جے پی کے ساتھ تلگودیشم نے عوامی مسائل پر جواب طلب کرنے کی کوشش ضرور کی مگر سرکاری بنچوں سے توقع کے مطابق ردعمل حاصل نہیں ہوا بلکہ حکمران جماعت کے ارکان نے مسائل کو اُلجھا دیا۔ اصل اپوزیشن کانگریس نے سرمائی سیشن سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے کسانوں، دلتوں، پسماندہ طبقات، اقلیتوں، فیس بازادائیگی، بیروزگاری، امن وامان کی صورتحال کے علاوہ دیگر اُمور کو زیر بحث لانے کی کوشش کی جس میں وہ کامیاب بھی ہوئی مگر حکومت نے اپوزیشن کو اطمینان بخش جواب دینے کے بجائے راست طور پر ریاست کے عوام کو رجھانے کی حکمت عملی اختیار کررکھی ہے۔ ریاست میں اقامتی اسکولس کا قیام بالخصوص 204 اقلیتی اقامتی اسکولس کا قیام یقینا کارنامہ ہے۔ 14نومبر کو ’ چلڈرنس ڈے‘ کے موقع پر نیوز ایڈیٹر روز نامہ ’سیاست‘ جناب عامر علی خان نے جگتیال کے اقلیتی گرلز اقامتی اسکول کا دورہ کیا ہے جہاں طالبات میں ڈسپلن اور حصول تعلیم کا جذبہ دیکھا گیا اور حکومت کی جانب سے لڑکیوںکیلئے قیام و طعام کے مناسب انتظامات کئے گئے تھے۔ یقیناً ان اقامتی اسکولس سے اقلیتی طلبہ کو معیاری تعلیم حاصل ہورہی ہے اور اس سلسلہ میں جتنی بھی ستائش کی جائے کم ہے۔ جناب عامر علی خاں بھی اسکول کی تعلیمی اور اسپورٹس سرگرمیوں سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔ اس کے علاوہ کے سی آر کٹ اسکیم بھی کافی کامیاب رہی ہے۔ کارپوریٹ ہاسپٹلس کی جانب سے غریب خواتین سے زچگی کے دوران بھاری رقم بٹوری جاتی تھی اور غیر ضروری طور پر آپریشن کے ذریعہ زچگی کی جاتی تھی۔ لیکن اب کے سی آر کٹ اسکیم متعارف کرانے کا عوام میں مثبت ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ سرکاری ہاسپٹلس میں زچگی کرانے پر حاملہ خواتین کو لڑکی پیدائش کی پر 15 ہزار اور لڑکے کی پیدائش پر 14 ہزار روپئے کا پیاکیج دیا جارہا ہے۔ شہر حیدرآباد ہر معاملے میں مرکز بنا ہوا ہے لیکن پرانے شہر کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ نئی ریاست تلنگانہ میں بھی جاری ہے۔ میٹرو ٹرین گریٹر حیدرآباد کا احاطہ کررہی ہے مگر پرانے شہر کے عوام میٹرو ٹرین کی سہولتوں سے ہنوز محروم ہیں۔ جب میٹرو ٹرین شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تو فلک نما تک میٹرو ٹرین چلانے کا منصوبہ تھا مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ میٹرو ٹرین پرانے شہر تک نہیں پہنچ پارہی ہے۔ پرانے شہر کی نمائندگی کرنے والے عوامی منتخب نمائندے حکومت کی جانب سے اقلیتوں کیلئے کوئی اسکیم یا منصوبہ تیار کیا جاتا ہے تو اس کا سہرا اپنے سر باندھنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جماعت کے دباؤ کے باعث حکومت نے یہ کیا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومت ان کے تمام مطالبات کو قبول کررہی ہے تو انہوں نے پرانے شہر میں میٹرو ٹرین چلانے کیلئے حکومت کو مجبور کیوں نہیں کیا۔ ٹی آر ایس نے 12 فیصد مسلم تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا اس پر عمل کرنے کیلئے جماعت نے حکومت پر دباؤ کیوں نہیں بنایا۔ ہر سال اقلیتی بجٹ جتنا منظور ہوتا ہے اس کا 50 فیصد بھی جاری نہیں ہوپاتا۔ ناجائزقبضوں کا شکار ایک انچ وقف اراضی بھی وقف بورڈ کے حوالے نہیں کی گئی بلکہ کئی قیمتی وقف جائیدادوں پر قبضے ہوگئے۔ اس پر حکومت سے استفسار کیوں نہیں کیا۔ 7 ماہ قبل وزیر ٹرانسپورٹ مہیندر ریڈی نے پرانے شہر میں چلائی جانے والی آر ٹی سی بسوں کے بورڈ اردو میں تحریر کرنے کا تیقن دیا تھا لیکن اس پر بھی عمل آوری نہیں ہوئی اور جماعت اس سلسلہ میں بھی خاموش ہے۔

2جون 2014 کو جب ریاست کی تقسیم عمل میں آئی اور علحدہ ریاست تلنگانہ کے حصے میں 7 ہزار کرور روپئے کا فاضل بجٹ آیا۔ متحدہ آندھرا پردیش میں ریاست کی تقسیم سے قبل تک ریاست پر 69,479,48 کروڑ روپئے کا قرض تھا علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعدصرف ساڑھے تین سال کے دوران ٹی آر ایس حکومت نے 66,074,15 کروڑ روئے کا قرض حاصل کیا ہے۔ اگر دونوں قرض کو جمع کرلیا جائے تو تلنگانہ پر 1,33,554,03 کروڑ روپئے کے قرض کا بوجھ عائد ہے۔ اس قرض کیلئے حکومت سالانہ 8,609 کروڑروپئے صرف بطور سود ادا کررہی ہے اس طرح تلنگانہ کے ہرشخص پر فی کس 40ہزار روپئے کے قرض کا بوجھ عائد ہے۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی پر عمل آور کا بھی ریاستی خزانہ پر بہت بڑا اثر ہوا ہے۔

TOPPOPULARRECENT