Tuesday , December 11 2018

اسمبلی سیشن کا کل سے دوبارہ آغاز

تلنگانہ پر طوفانی بحث کا امکان

تلنگانہ پر طوفانی بحث کا امکان
حیدرآباد۔ یکم جنوری، ( پی ٹی آئی) آندھرا پردیش قانون ساز اسمبلی کا سرمائی سیشن 3جنوری سے دوبارہ شروع ہوگا جس میں توقع ہے کہ ایجنڈہ میں آندھرا پردیش تنظیم جدید بل 2013 کے مسودہ پر بحث شامل ہے۔ باور کیا جاتا ہے کہ اس بل پر بحث کے دوران ایوان میں تلخ و تند مباحث ہوں گے۔ سرمائی سیشن 12ڈسمبر سے شروع ہوا تھا اور بزنس اڈوائزری کمیٹی ( بی اے سی ) نے مسودہ بل پر بحث کا فیصلہ کیا تھا لیکن ایوان میں شور و غل کے سبب بحث نہیں ہوسکی تھی اور19ڈسمبر کو ایوان کا اجلاس 3جنوری تک ملتوی کردیا گیا تھا۔ صدر جمہوریہ نے اس بل کی واپسی کیلئے مقننہ کو 23جنوری تک وقت دیا ہے۔ اس بل پر ایوان کے ارکان علاقائی خطوط پر عملاً منقسم ہوچکے ہیں۔ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے ارکان، علحدہ ریاست کی تائید پر اپنے نظریات پیش کرتے ہوئے اس بل کو جلد سے جلد صدر جمہوریہ سے رجوع کرنے کے خواہاں ہیں لیکن سیما آندھرا کے ارکان اس کی مخالفت کررہے ہیں۔

تلگودیشم اور وائی ایس آر کانگریس کارکنوں میں جھڑپ، 10زخمی
حیدرآباد۔ یکم جنوری، ( پی ٹی آئی) ضلع پرکاشم کے ادانکی ٹاؤن میں آج تلگودیشم اور وائی ایس آر کانگریس کے کارکنوں کے درمیان جھڑپ میں بشمول ایک پولیس کانسٹبل 10افرادزخمی ہوگئے جس کے بعد زبردست کشیدگی پھیل گئی۔ ضلع پرکاشم کے سپرنٹنڈنٹ پولیس مسٹر پرمود کمار نے کہا کہ ’’ اس واقعہ کے بعد سریع العمل فورسیس ٹیم ‘‘ کے تین پلاٹونس اس ٹاؤن کو روانہ کردیئے گئے ہیں اور اب صورتحال قابو میں ہے ‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ تصادم میں ملوث افراد کو پکڑنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ پولیس نے کہا کہ گڑبڑ اس وقت شروع ہوئی جب تلگودیشم کارکنوں کے جلوس کو آتا دیکھ کر وائی ایس آر کانگریس کے کارکنوں نے اپنی پارٹی کا پرچم لہرایا۔ جس کے ساتھ ہی دونوں جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان لفظی تکرار ہوگئی اور ان کارکنوں نے ایک دوسرے کی پارٹیوں کے فلیکسی بورڈس کو پھاڑ دیا۔ پولیس نے کہا کہ تلگودیشم پارٹی کے کارکنوں نے وائی ایس آر کانگریس کے دفتر کے قریب سنگباری کی جس کے ساتھ ہی دونوں جماعتوں کے کارکن ایک دوسرے سے متصادم ہوگئے۔ جن میں بشمول ایک پولیس کانسٹبل دونوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 10افراد زخمی ہوگئے۔
اس واقعہ کے بعد دونوں جماعتوں کے حامیوں کی کثیر تعداد نے احتجاج اور جوابی احتجاج کیا اور ادانکی۔ نارکٹ پلی روڈ کی ناکہ بندی کی۔ تاہم پولیس نے مداخلت کے ذریعہ احتجاجیوں کو منتشر کردیا۔

TOPPOPULARRECENT