Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / اسمبلی عمارت آندھرا کے حوالے کرنے کا منصوبہ قابل مذمت

اسمبلی عمارت آندھرا کے حوالے کرنے کا منصوبہ قابل مذمت

محکمہ جاتی تقسیم میں تلنگانہ کے ساتھ نا انصافی کے خدشات : سجاد شاہد

محکمہ جاتی تقسیم میں تلنگانہ کے ساتھ نا انصافی کے خدشات : سجاد شاہد
حیدرآباد۔23اپریل(سیاست نیوز) تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے موقع پر محکمہ جاتی تقسیم میںتلنگانہ کے ساتھ حق تلفی اور ناانصافی کے خدشات ظاہر کرتے ہوئے ممتاز تاریخ داں سجاد شاہد نے کہاکہ اسمبلی کی قدیم عمارت کی تزئین نو‘ اہک پاشی اور مرمت کے بعد دس سالوں تک وہاں ریاست آندھرا کی اسمبلی قائم کرنا منصوبہ بنایا جارہا ہے جو ریاست تلنگانہ کے ساتھ سے بڑی ناانصافی ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ جبکہ تلنگانہ اسمبلی کے لئے جگہ تعین بھی کیاجارہا ہے جو قابلِ افسوس و مذمت عمل ہے۔

آج یہاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ 1956سے قبل کی تمام عمارتیں‘ آثار‘ دستاویزت علاقہ تلنگانہ کا ورثہ ہے جس کو جوں کا توں اس کے حقیقی وراثوں یعنی تلنگانہ کی عوام کے حوالے کیاجاناچاہئے۔انہوں نے کہاکہ قدیم عمارتوں اور تاریخی اثاثوں کی مرمت اور تزئین نو کے لئے ماہرین کی خدمات حاصل کرنا ضروری ہے کیونکہ اگر آراینڈ بی ڈپارٹمنٹ سے یہ کام کروایاگیاتو قدیم عمارتوں کے تحفظ نہیںبلکہ ان کی تباہی کا وہ سبب بنے گا ۔ انہو ںنے مزید کہاکہ سابق میں تلنگانہ کی قدیم اورتاریخی عمارتوں کی تباہی میں آر اینڈ بی محکمہ کا بہت بڑ ا اور اہم رول رہا ہے۔ جناب سجاد شاہد نے کہاکہ محکمہ جاتی تقسیم بالخصوص تاریخی عمارتوں‘ آثار‘ دستایزا ت کی تقسیم کے عمل میں شفافیت کے لئے ذمہ داران کا عوامی رائے بھی حاصل کرنا لازمی ہے کیونکہ تلنگانہ کی عوام ہی ان تاریخی اثاثوں کی حقیقی ورث ہے۔ انہوںنے مزید کہاکہ تقسیم کے عمل میںکسی ایک عہدیدار کا فیصلہ تلنگانہ کے ساتھ ایک اور ناانصافی کی وجہہ بن سکتا ہے۔

صدر انٹیک گریٹر حیدرآباد انورادھا ریڈی نے بتایا کہ انضمام کے وقت چھ سو سے زیادہ عمارتیں تلنگانہ کا قیمتی اثاثہ تھی مگر تقسیم میںصرف 325کے قریب عمارتیں حکومت تلنگانہ کے حوالے کی جانے والی ہیں ۔ انہوں نے مذکورہ عمارتوں کے متعلق جامعہ تحقیقات کو ضروری قراردیتے ہوئے کہاکہ اگر دس سالوں تک قدیم اسمبلی کی عمارت آندھرائی حکمرانوں کے حوالے کی جائی تو تلنگانہ کے دیگر قیمتی عمارتوں کی طرح آندھرائی حکمران اسمبلی کی قدیم عمارت کو تباہ کردیں گے۔انہوں نے تقسیم کے عمل میں انٹیک کو شامل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے تلنگانہ کے قیمتی اثاثوں کی حفاظت میںسرگرم تنظیموں کو ریاست کی تقسیم کے عمل میں شامل کرتے ہوئے علاقہ تلنگانہ کے قیمتی‘ ثقافتی و تہذیبی اثاثوں کے ساتھ ہوئے اب تک کے کھلواڑ کے سلسلے کو بند کیا جاناچاہئے۔

TOPPOPULARRECENT