اسمبلی میں اردو کی حالت دگرگوں

ضروری کاغذات کے اردو میں ترجمہ کا کوئی نظم نہیں : اسپیکر سے نمائندگی

ضروری کاغذات کے اردو میں ترجمہ کا کوئی نظم نہیں : اسپیکر سے نمائندگی
حیدرآباد۔/11نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے اردو زبان کو مناسب مقام دینے کا اعلان تو کیا ہے لیکن قانون ساز اسمبلی میں اردو کی حالت دگر گوں ہے۔ اسمبلی ایجنڈہ اور اس سے متعلق دیگر ضروری کاغذات کا اردو میں ترجمہ کا کوئی نظم نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اردو مترجمین کا آندھرا پردیش اسمبلی کیلئے الاٹمنٹ کردیا گیا اور تلنگانہ اسمبلی میں کوئی اردو داں نہیں ہے جبکہ ضرورت تلنگانہ میں تھی۔ اسمبلی میں آج ارکان نے اسپیکر سے اس سلسلہ میں شکایت کی۔ شہر کے ایک رکن اسمبلی نے اسپیکر مدھو سدن چاری کی توجہ اس بات پر مبذول کرائی کہ برقی اور دیگر شعبوں میں تلنگانہ سے ناانصافی کے خلاف کل اسمبلی میں منظور کی گئی قرارداد کا اردو اور انگریزی میں ترجمہ آج تک پیش نہیں کیا گیا۔ یہ قرارداد صرف تلگو میں ارکان کو فراہم کی گئی۔ رکن نے شکایت کی کہ متعلقہ حکام کی توجہ دہانی کے باوجود انگریزی میں بھی قرارداد نہیں دی گئی جس کے سبب وہ قرارداد کے متن سے لاعلم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ اسمبلی میں اردو اسٹاف نہیں اور نہ ہی اردو ٹرانسلیٹر ہے جو غیر تلگوداں ارکان کو مائیکروفون میں تلگو کا اردو میں ترجمہ پیش کرتا ہے۔ ارکان نے شکایت کی کہ تلنگانہ اسمبلی میں موجود اردو اسٹاف کو آندھرا پردیش کیلئے الاٹ کردیا گیا جبکہ ضرورت تلنگانہ میں ہے جہاں یہ زبان بولی جاتی ہے وہیں پر اردو اسٹاف نہیں۔ ارکان نے اسپیکر سے اپیل کی کہ وہ اردو اسٹاف کے تقرر پر توجہ دیں۔ وزیر فینانس اور اسپیکر نے ارکان کو یقین دلایا کہ بہت جلد اردو میں ترجمہ کا اہتمام کیا جائے گا اور تمام ضروری کاغذات اردو میں فراہم کئے جائیں گے۔ وزیر فینانس نے اردو زبان میں یہ تیقن دیتے ہوئے شہر کے رکن اسمبلی کو یاد دلایا کہ انہوں نے کل ہی چیف منسٹر کی اردو دانی کی ستائش کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT