Saturday , January 20 2018
Home / شہر کی خبریں / اسمبلی میں حکومت کے رویہ کیخلاف قائد اپوزیشن کی سخت برہمی

اسمبلی میں حکومت کے رویہ کیخلاف قائد اپوزیشن کی سخت برہمی

کانگریس کا واک آوٹ، تحریکات التواء کو نامنظور کرنے کی مخالفت: کے جاناریڈی کا ردعمل

کانگریس کا واک آوٹ، تحریکات التواء کو نامنظور کرنے کی مخالفت: کے جاناریڈی کا ردعمل
حیدرآباد 20 مارچ (سیاست نیوز)تلنگانہ اسمبلی میں حکومت کے رویہ کے خلاف قائد اپوزیشن جانا ریڈی نے سخت برہمی کا اظہار کیااور کانگریس ارکان نے ایوان سے واک آوٹ کردیا ۔ انہو ںنے روزانہ اپوزیشن کی تحریکات التواء کو نامنظور کرنے کی روایت کی مخالفت کی اور کہا کہ اہم ترین مسائل پر مبنی تحریکات التواء کو مباحث کیلئے قبول کیا جانا چاہئے ۔ عثمانیہ یونیورسٹی طلبہ کی جانب سے سرکاری جائیدادوں پر تقررات کا مطالبہ کرتے ہوئے کئے جارہے ایجی ٹیشن کے مسئلہ پر کانگریس نے تحریک التواء پیش کی تھی جسے اسپیکر نے نامنظور کردیا ۔ قائد اپوزیشن نے اسپیکر کے فیصلے پر سخت اعتراض جتایا اور الزام عائد کیا کہ حکومت تلنگانہ تحریک کے دوران عوام سے کئے گئے وعدوں کو ٹالنے کی کوشش کررہی ہے۔ ایک مرحلے پر جانا ریڈی سخت برہم ہوگئے جب وزیر فینانس ای راجندر نے کہا کہ کانگریس کو تقررات کے مسئلہ کو موضوع بحث بنانے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔اسپیکر کی جانب سے تحریکات التواء کو نامنظور کرنے کے اعلان کے بعد جانا ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ کے بے روزگار نوجوانوں کو امید تھی کہ نئی ریاست میں انہیں روزگار حاصل ہوگا ۔ طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کرچکا ہے اور طلبہ پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا ۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ تقررات کے سلسلہ میں اپنے موقف کی اسمبلی میں وضاحت کریں۔ انہوں نے تقررات کے مسئلہ پر مختصر مدتی مباحث کی مانگ کی ۔ وزیر فینانس نے کہا کہ آئی اے ایس عہدیداروں کی تقسیم ایک ہفتہ قبل مکمل ہوئی ہے اور ملازمین کی تقسیم ابھی باقی ہے ۔ تقسیم کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہر محکمہ میں مخلوعہ جائیدادوں کا پتہ چلایا جائے گا ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض طاقتیں جان بوجھ کر عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ کو مشتعل کررہے ہیں ۔ انہوں نے کانگریس سے مخاطب ہوکر کہا کہ ملازمتوں کی فراہمی کا کام حکومت کا ہے آپ کا نہیں لہذا کانگریس کو احتجاج کا کوئی حق نہیں۔ راجندر نے کہا کہ تمام محکمہ جات میں مخلوعہ جائیدادوں پر تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے ذریعہ تقررات کئے جائیں گے ۔ پہلے مرحلے میں پولیس اور پنچایت راج محکمہ جات میں تقررات کا عمل شروع کیا جارہا ہے۔ قائد اپوزیشن جانا ریڈی نے وزیر فینانس کے ریمارکس پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ کانگریس کے بارے میں اس طرح کا ریمارک کرنے والے آپ کون ہیں۔ انہو ںنے کہا کہ کوئی بھی حکومت عوام کی منتخب کردہ ہوتی ہے اسے اسی پارٹی سے منسوب نہیں کیا جاسکتا ۔ ہر رکن اسمبلی کو عوامی مسائل پیش کرنے کا اختیار حاصل ہے ۔ حکومت کی جانب سے تحکمانہ انداز میں اظہار خیال ٹھیک نہیں۔ جانا ریڈی نے الزام عائد کیا کہ حکومت مسائل کو حل کرنے کے بجائے ٹالنے کی کوشش کررہی ہے۔ حکومت کے رویہ کے خلاف بطور احتجاج کانگریس ارکان نے ایوان سے واک آوٹ کردیا۔ بی جے پی فلور لیڈر ڈاکٹر لکشمن نے کہا کہ چیف منسٹر نے 1 لاکھ 7 ہزار تقررات کا اعلان کیا تھا لیکن اس وعدہ پر عمل آوری کا آغاز نہیں ہوا ۔

TOPPOPULARRECENT