Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / اسمبلی میں مباحث کے مطالبہ پر دوسرے دن بھی اپوزیشن کا احتجاج

اسمبلی میں مباحث کے مطالبہ پر دوسرے دن بھی اپوزیشن کا احتجاج

(آندھراپردیش میں کال منی ریاکٹ)

وائی ایس آر کانگریس کے 50 ارکان معطل ، خاتون رکن شریمتی روجا ایک سال تک داخلے سے محروم

حیدرآباد /18 ڈسمبر ( سیاست نیوز ) آندھراپردیش اسمبلی سے آج وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے 50 سے زائد ارکان بشمول اپوزیشن لیڈر وائی ایس جگن موہن ریڈی کو معطل کردیا گیا ہیں جبکہ کال منی ریاکٹ پر بحث کا اصرار کرتے ہوئے ایوان کی کارروائی مفلوج کردی گئی ۔ اپوزیشن ارکان کی معطلی دستور اور ڈاکٹر امبیڈکر کی گرانقدر خدمات پر جاریہ بحث کے اختتام تک جاری رہے گی ۔ معطلی کے بعد بعض ارکان ایوان سے باہر جانے سے انکار کردیا تو مارشلوں کے ذریعہ ان کا تخلیہ کروایا گیا ۔ اسپیکر نے جیسے ہی دستور پر مباحث کا اعلان کیا تو وائی ایس آر ارکان نے نعرے بازی کرتے ہوئے کال منی ریاکٹ پر بحث کا مطالبہ کیا اور ہنگامہ آرائی کی وجہ سے ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ پیدا ہوگئی ۔ واضح رہے کہ کال منی دراصل ٹیلی فون پر طلب کرتے ہی ضرورتمندوں کی دہلیز تک قرض فراہم کرنے کا ایک طریقہ کار ہے ۔ جسے آندھراپردیش کے مختلف اضلاع بالخصوص شہر وجئے واڑہ میں چلایا جارہا تھا اور قرض دہندگان ( ساہوکاروں ) کی جانب سے حد سے زیادہ سود وصول کرتے ہوئے مقروض لوگوں کو ہراساں و پریشان کیا جارہا تھا ۔ حتی کہ خوایتن کا استحصال کرنے کے الزامات کئے گئے ہیں۔ پولیس نے کال منی ریاکٹ میں ملوث تقریباً 80 افراد کو گرفتار کرلیا ہے جن میں بیشتر کا تعلق مختلف سیاسی جماعتوں سے ہے ۔ قبل ازیں اسپیکر اسمبلی آندھراپردیش کوڈیلا شیوا پرساد نے چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو کے خلاف غیر پارلیمانی ریمارکس کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی رکن اسمبلی مسز روجا کو ایک سال تک اسمبلی کی کارروائی سے معطل کردیا جس کی وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے سخت مخالفت کی ۔ قائد اپوزیشن جگن موہن ریڈی نے آمرانہ روش اختیار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے معطلی سے دستبرداری کا مطالبہ کیا ۔ وجئے واڑہ میں حالیہ منظر عام پر آنے کال منی معاملہ اسمبلی میں گرما گرم موضؤع بحث بن گیا ۔ حکمران تلگودیشم اور اپوزیشن وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے ارکان اسمبلی کے درمیان لفظی جھڑپ ہوگئی ۔ قائد اپوزیشن جگن موہن ریڈی نے ایوان کو قواعد کے خلاف چلانے کا الزام عائد کیا ۔ پہلے مباحث کا اہتمام کرنے اور پھر چیف منسٹر کو اس مسئلہ پر بیان دینے پر زور دیا ۔ جگن موہن ریڈی جذبات سے مغلوب ہوکر ایوان کو اپنے احساسات سے واقف کروا رہے تھے کہ چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو وزراء کے علاوہ تلگودیشم کے ارکان اسمبلی مسکرا رہے تھے ۔ اس وقت جگن موہن ریڈی نے کہا کہ آندھراپردیش میں حکومت نہیں آمریت مسلط ہوگی ۔ حکومت کا بیان انہیں نہ ملنے کی شکایت کی ۔ اسپیکر اسمبلی مسٹر کوڈیلا شیو پرساد نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ جب حکومت کا بیان تمام ارکان کے پاس پہونچ گیا ہے تو آپ کے پاس کیسے نہیں پہونچا ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں کے ارکان نے غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال کیا ہے جس کو وہ ریکارڈ سے خارج کر رہے ہیں ۔ قائد مقننہ چندرا بابو نائیلاو کی جانب سے بات کرنے کے بعد قائد اپوزیشن جگن موہن ریڈی کو بات کرنے کا اسپیکر اسمبلی نے مشورہ دیا ۔ تلگودیشم وزراء مسٹر وائی رام کرشنوڈو مسٹر ڈی نریندرا نے کہا کہ کال منی معاملہ پر مباحث کیلئے قائد اپوزیشن سنجیدہ نہیں ہے ۔ اس لئے مداخلت کرتے ہوئے ایوان کا قیمتی وقت ضائع کر رہے ہیں ۔ ان وزراء نے کہا کہ ہم اپوزیشن میں10 سال رہے مگر ایوان میں کبھی چیف منسٹر کی کرسی تک نہیں پہونچے ۔ اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے کال منی ریاکٹ بالبو سیکس ریاکٹ کے ریمارکس کیلئے جس پر وزیر امور مقننہ مسٹر وائی رام کرشنوڈو نے سخت اعتراض کرتے ہوئے وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی رکن اسمبلی مسٹر روجا کو ایک سال تک ایوان سے معطل کرنے کی قرارداد پیش کی جس کو منظور کرتے ہوئے اسپیکر اسمبلی نے ایک سال تک روجا کو اسمبلی کی کارروائی سے معطل کردیا ۔

TOPPOPULARRECENT