Tuesday , September 18 2018
Home / شہر کی خبریں / اسمبلی میں ٹی آر ایس ارکان کے تلگودیشم ارکان پر حملے کی مذمت

اسمبلی میں ٹی آر ایس ارکان کے تلگودیشم ارکان پر حملے کی مذمت

وزارت اور اسمبلی کی رکنیت فوری برخاست کرنے کا مطالبہ، ای دیاکر راؤ اور دیگر کی برہمی

وزارت اور اسمبلی کی رکنیت فوری برخاست کرنے کا مطالبہ، ای دیاکر راؤ اور دیگر کی برہمی
حیدرآباد ۔ 7 مارچ (سیاست نیوز) تلگودیشم لیجسلیچر پارٹی نے اسمبلی میں ٹی آر ایس ارکان کی جانب سے تلگودیشم کے ارکان پر حملہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حملے میں ملوث وزراء کو فوری برطرف کرنے اور ارکان اسمبلی کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے حملے کو اسمبلی کی تاریخ کا سیاہ دن قرار دیا۔ تلگودیشم کے قائد مقننہ مسٹر ای دیاکر راؤ نے میڈیا پوائنٹ پر تلگودیشم کے رکن اسمبلی مسٹر پرکاش گوڑ کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکمراں جماعت کے ارکان اسمبلی نے ان پر اور تلگودیشم کے رکن قانون ساز کونسل مسٹر ناگیشور راؤ پر حملہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے حکمران ٹی آر ایس تلگودیشم کے ارکان اسمبلی کو زبردستی ٹی آر ایس میں شامل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ شامل ہونے سے انکار کرنے والے تلگودیشم کے رکن اسمبلی مسٹر پرکاش گوڑ کے علاوہ دوسروں پر حملہ کیا گیا ہے جس کی تلنگانہ تلگودیشم پارٹی سخت مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے غنڈہ گردی کامظاہرہ کرنے والے ریاستی وزیر مسٹر ٹی سرینواس یادو کو فوری کابینہ سے برطرف کرنے کا مطالبہ کیا۔ مسٹر دیاکر راؤ نے کہا کہ گورنر کی موجودگی میں ریاستی وزیر ہریش راؤ کے اشارے پر ٹی آر ایس کے غنڈوں نے جمہوری انداز میں احتجاج کرنے والے تلگودیشم پر حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کا حصہ نہ رہنے والے ریاستی وزراء مسٹر ٹی ناگیشور راؤ اور مسٹر ٹی سرینواس یادو نے اسمبلی میں تلگودیشم ارکان پر حملے کی قیادت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان کو پولیس چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا۔ تلگودیشم ،پارٹی سے انحراف کرنے والے ارکان اسمبلی کے خلاف کارروائی کرنے کا گورنر سے مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کررہی تھی۔ تلگودیشم پارٹی ارکان اسمبلی پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے تک اپنا احتجاج جاری رکھے گی اور اسمبلی کی کارروائی کو چلنے نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ گریٹر حیدرآباد کی عوام نے ٹی آر ایس کو یکسر مسترد کردیا ہے۔ ان سے انتقام لینے کیلئے حکومت نے پراپرٹی ٹیکس میں بے تحاشہ اضافہ کردیا ہے۔ دریائے کرشنا سے حیدرآباد کو پینے کا پانی حاصل کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے کوئی عملی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کیلئے 1200 نوجوانوں نے اپنی زندگیاں قربان کی ہیں۔ تاہم حکومت نے صرف فہرست میں 400 افراد کو شامل کرتے ہوئے تلنگانہ کیلئے جان دینے والوں کی توہین کی ہے۔ تلگودیشم کے رکن اسمبلی مسٹر ریونت ریڈی نے اسمبلی کے واقعہ کو جمہوریت کی توہین قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکمران ٹی آر ایس نے غنڈہ گردی کا مظاہرہ کیا ہے۔ تلگودیشم اس واقعہ کی سخت مذمت کرتی ہے۔ دوسری اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ اس مسئلہ پر مذاکرات کرتے ہوئے اسمبلی کے اجلاس کو چلنے نہیں دے گی۔ انہوں نے اسپیکر اسمبلی سے اس واقعہ کی ویڈیو کلپنگ کو منظرعام پر لانے کا مطالبہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT