Thursday , April 19 2018
Home / Top Stories / اسمبلی میں چیف منسٹر کی سلطنت آصفیہ کی شان میں مداح سرائی

اسمبلی میں چیف منسٹر کی سلطنت آصفیہ کی شان میں مداح سرائی

سالار جنگ اول نواب میر تراب علی خاں کو شاندار ریونیو نظام تیار کرنے کا اعزاز
l نظام دور کے کاموں کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی
l انسانیت نوازی میں کوئی ثانی نہیں

حیدرآباد ۔ 7 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ 1932-34 میں ریونیو نظام تیار کرنے کا اعزاز سالار جنگ اول نواب میر تراب علی خاں کو حاصل ہے ۔ وہ بادشاہ نہ ہونے کے باوجود عدل و انصاف کو یقینی بنانے کے لیے ہائی کورٹ کا قیام عمل میں لایا تھا ۔ اسمبلی میں اراضی سروے کے مختصر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ کانگریس کی جانب سے اراضی سروے کرنے کے جو دعوے کئے جارہے ہیں وہ جھوٹے اور بے بنیاد ہے ۔ کانگریس کے دور اقتدار میں اراضی ریکارڈ کو درست کرنے کے لیے 2,93,654 درخواستیں وصول ہوئی جن میں صرف 11,653 درخواستوں کی یکسوئی کی گئی ۔ چیف منسٹر نے سلطنت آصفیہ کی زبردست ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ساری دنیا میں جتنے فلاحی اور ترقیاتی کام حیدرآباد اسٹیٹ میں انجام دئیے گئے وہ کسی اور ملک میں انجام نہیں دئیے گئے ریونیو نظام کو سالار جنگ اول نواب میر تراب علی خاں نے تیار کرنے کی شروعات کی تھی جس کو سالار جنگ دوم نواب میر لائق علی خاں نے پورا کیا ہے ۔ان میں جذبہ تھا ۔ انہوں نے کئی ایسے کارنامے انجام دئیے جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ۔ حیدرآباد میں تحصیل نظام کو تیار کرنے کا اعزاز سالار جنگ اول کو ہے ۔ 1932-34 تک حضور نظام نے اراضی کا مکمل ریکارڈ تیار کیا تھا ۔ دنیا بھر میں کوئی بادشاہ نے ایسے کام نہیں کئے جو انہوں نے کیا ہے ۔ نظام کے دور حکومت میں جتنے بھی اچھے کام ہوئے تھے ان کاموں کو سابق حکمرانوں نے خراب کیا ہے ۔ دنیا کے تمام شاہی حکمرانوں میں نظام واحد بادشاہ تھے جنہوں نے عدل و انصاف کے لیے حیدرآباد میں ہائی کورٹ کا قیام عمل میں لایا تھا ۔ تاریخ میں ایسی مثال کہیں نہیں ملتی ۔ جل جنگل زمین کی تحریک جب شروع ہوئی تھی اس وقت حضور نظام نے ہیمن ڈارف کمیشن تشکیل دیتے ہوئے ایک لاکھ ایکڑ اراضی عادل آباد کے قبائیلوں میں تقسیم کی تھی ۔ آندھرا پردیش سے تقابل کیا جائے تو تلنگانہ کا ریونیو قانون جداگانہ ہونے کا چیف منسٹر کے سی آر نے دعویٰ کیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT