Thursday , June 21 2018
Home / شہر کی خبریں / اسمبلی میں گرما گرم مباحث کے دوران حالات کشیدہ

اسمبلی میں گرما گرم مباحث کے دوران حالات کشیدہ

حیدرآباد۔/22جنوری، ( سیاست نیوز) ریاستی قانون ساز اسمبلی میں آندھرا پردیش کی تنظیم جدید مسودہ بل 2013ء پر جاری گرما گرم مباحث کے دوران ایوان کی صورتحال اچانک کچھ دیر کیلئے انتہائی کشیدہ ہوگئی اور سیما آندھرا تلگودیشم ارکان اسمبلی و تلنگانہ راشٹرا سمیتی ارکان کے مابین ہاتھا پائی کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ دونوں جماعتوں کے ارکان اپنی شدی

حیدرآباد۔/22جنوری، ( سیاست نیوز) ریاستی قانون ساز اسمبلی میں آندھرا پردیش کی تنظیم جدید مسودہ بل 2013ء پر جاری گرما گرم مباحث کے دوران ایوان کی صورتحال اچانک کچھ دیر کیلئے انتہائی کشیدہ ہوگئی اور سیما آندھرا تلگودیشم ارکان اسمبلی و تلنگانہ راشٹرا سمیتی ارکان کے مابین ہاتھا پائی کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ دونوں جماعتوں کے ارکان اپنی شدید برہمی کے عالم میں ایک دوسرے پر ہاتھا پائی کرنے کیلئے آگے بڑھ گئے۔ تاہم بعض ارکان کے بیچ بچاؤ کے باعث ہاتھا پائی ہوتے ہوتے ٹل گئی۔ احتجاجی ارکان تلگودیشم ( سیما آندھرا ) اسپیکر کے پوڈیم کے پاس پہنچ کر شدید احتجاج کررہے تھے۔ اسی دوران تلنگانہ راشٹرا سمیتی ارکان نے کہا کہ حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے ایک قبائیلی رکن اسمبلی و وزیر قبائیلی بہبود کے حقیقی و واضح موقف سے سبق سیکھیں اور عقل لالیں۔ جس کے ساتھ ہی سیما آندھرا تلگودیشم ارکان ٹی آر ایس ارکان پر اُلجھ پڑے اور مارپیٹ کرنے کیلئے ہاتھ اُٹھا ہی رہے تھے کہ بعض دیگر ارکان نے برہم ارکان اسمبلی کو بیچ بچاؤ کرکے ہٹادیا۔ ایوان میں ہنگامہ آرائی گڑبڑ اور کشیدہ حالات اسوقت پیدا ہوئے جب وزیر قبائیلی بہبود مسٹر بالا راجو ( جو وشاکھاپٹنم سے تعلق رکھتے ہیں ) نے ریاست کی تقسیم کے مسئلہ پر اور پارٹی ہائی کمان کے فیصلہ پر تفصیلی اظہار خیال کرتے ہوئے ایک موقع پر اپنے موقف سے واقف کروایا، اور کہا کہ حقیقی طور پر وہ متحدہ آندھرا کے حامی ضرور ہیں لیکن کانگریس پارٹی کے ایک پابند ڈسپلن ورکر کی حیثیت سے کانگریس ہائی کمان کے فیصلہ کی ہرگز مخالفت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

بلکہ بھرپور تائید کرتے ہوئے تلنگانہ مسودہ بل کی مکمل حمایت کریں گے۔ انہوں نے دوران اظہار خیال کہاکہ سیاسی مفادات کیلئے بعض پارٹیاں اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے آج ریاست میں بھیانک صورتحال پیدا کررہی ہیں۔ وزیر موصوف نے پرزور الفاظ میں کہا کہ کانگریس پارٹی ہائی کمان نے جو فیصلہ کیا ہے اس فیصلہ پر اٹل ہے۔ لیکن تلگودیشم پارٹی نے علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کیلئے اپنی تائید کا اظہار کرتے ہوئے باقاعدہ طور پر مکتوب مرکزی حکومت کو روانہ کیا تھا۔ جب مرکزی حکومت نے تلنگانہ تشکیل دینے کیلئے اسمبلی میں بحث کیلئے بل روانہ کیا تو تلگودیشم پارٹی پریشان کن صورتحال سے دوچار ہوگئی اور آج سیما آندھرا کے ساتھ مساویانہ انصاف کی باتیں کرتے ہوئے اپنے موقف کو تبدیل کرکے آج ریاست میں زبردست بحران و کشیدہ حالات بنانے کی ذمہ دار تلگودیشم پارٹی ہی ہے۔ ان ریمارکس کے ساتھ ہی سیما آندھرا تلگودیشم ارکان اسمبلی نے سخت احتجاج کرتے ہوئے اسپیکر پوڈیم کے پاس پہونچ کر زبردست احتجاج شروع کردیا اور ایوان میں ہنگامہ آرائی و گڑبڑ شروع ہوگئی۔ اسی دوران وزیر فینانس مسٹر اے رام نارائن ریڈی نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ایک قبائیلی طبقہ کے رکن اسمبلی کو اپنے اظہار خیال کا موقع دیں اور رکاوٹ پیدا نہ کریں۔

اس کے ساتھ ہی تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے قائد مقننہ پارٹی مسٹر ای راجندر اور ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ ایک قبائیلی طبقہ کے رکن نے پارٹی فیصلہ کی مخالفت نہ کرتے ہوئے تلنگانہ مسودہ بل کی تائید کرنے کا اعلان کیا لیکن تلگودیشم پارٹی نے اپنی تائید کرنے کیلئے مکتوب حوالہ کرکے اپنے موقف سے انحراف کیا۔ لہذا احتجاجی سیما آندھرا تلگودیشم ارکان کو مشورہ دیا کہ وہ اپنا احتجاج ختم کرکے اپنے قائد کو تائید کیلئے منوائیں۔ جس کے ساتھ ہی سیما آندھرا تلگودیشم ارکان شدید برہمی کے عالم میں ٹی آر ایس ارکان سے اُلجھ گئے اور ٹی آر ایس ارکان بھی تلگودیشم ارکان پر اُلجھتے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھ لینے کا چیلنج کیا۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر نے ایوان کی کارروائی کو کچھ دیر کیلئے ملتوی کردیا۔ پھر دوبارہ ایوان کی کارروائی کا آغاز ہواتب بھی تلگودیشم ارکان نے اپنے احتجاج کو جاری رکھا۔ ڈپٹی اسپیکر نے دونوں ہی جماعتوں کے قائدین مقننہ پارٹی سے اپنے ارکان کو خاموش کرانے اور وزیر قبائیلی بہبود کو بحث جاری رکھنے کا موقع فراہم کرنے کی اپیل کی۔ اس طرح ایوان میں اس مسئلہ پر کافی دیر تک ہنگامہ آرائی ، شور شرابہ ، گڑبڑ اور ایک دوسرے کے خلاف جوابی نعرہ بازی کا سلسلہ جاری رہا۔ تاہم بعد ازاں ڈپٹی اسپیکر اسمبلی نے اپنا سخت موقف اختیار کرتے ہوئے سخت لہجہ میں احتجاجی ارکان سے خاموش رہنے کی اپیل کی۔ تب ایوان میں نظم بحال ہوا، اور دوبارہ وزیر قبائیلی بہبود مسٹر بالا راجو نے اپنا اظہار خیال مکمل کرکے اپنی بحث ختم کی۔

TOPPOPULARRECENT