Tuesday , February 20 2018
Home / شہر کی خبریں / اسمبلی نشستوں کی تعداد میں امکانی اضافے پر ٹی آر ایس میں خوشی کی لہر

اسمبلی نشستوں کی تعداد میں امکانی اضافے پر ٹی آر ایس میں خوشی کی لہر

بی جے پی قائدین کی دہلی کو طلبی پر اُمیدوں کو تقویت، ٹی آر ایس کی انتخابی حکمت عملی کی تیاریاں شروع
حیدرآباد۔ یکم فبروری (سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی جانب سے تلنگانہ کی اسمبلی نشستوں میں اضافہ کے امکانات کے پیش نظر تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے اپنی انتخابی حکمت عملی کی تیاری کا آغاز کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکز نے آندھراپردیش تنظیم جدید قانون میں دونوں ریاستوں کو دیئے گئے تیقنات پر توجہ مرکوز کی ہے اور دونوں ریاستوں میں اسمبلی نشستوں کی تعداد میں اضافہ کی کارروائی شروع کی ہے۔ اس سلسلہ میں مذاکرات کے لیے تلنگانہ کے بی جے پی قائدین کو نئی دہلی طلب کیے جانے کی اطلاع ہے۔ بی جے پی تلنگانہ میں نشستوں میں اضافہ کے ذریعہ اپنے لیے بہتر امکانات تلاش کررہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پارٹی کے ریاستی قائدین سے رپورٹ طلب کی گئی کہ موجودہ 119 نشستوں کو بڑھاکر 153 کرنے سے پارٹی کی نشستوں میں کس حد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ قائدین نے اس سلسلہ میں ایک سروے کی بنیاد پر رپورٹ تیار کرلی ہے۔ تلنگانہ میں بی جے پی کے ارکان کی تعداد 5 ہے اور وہ آئندہ انتخابات میں کم از کم بادشاہ گر کا موقف اختیار کرنے کا خواب دیکھ رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ نشستوں میں اضافہ کا انحصار بی جے پی کی کامیابی کے امکانات پر ہوگا۔ دوسری طرف بی جے پی قائدین کی نئی دہلی طلبی کی اطلاع نے ٹی آر ایس کے حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے۔ ٹی آر ایس گزشتہ تین برسوں سے مرکز پر دبائو بنارہی ہے کہ اسمبلی کی موجودہ نشستوں میں اضافہ کیا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ نشستوں میں اضافہ کی صورت میں برسر اقتدار پارٹی کو اقتدار کے دوبارہ حصول میں آسانی کی امید ہے۔ پارٹی قائدین کا کہنا ہے کہ اگر نشستوں کی تعداد 153 کی جاتی ہے تو زائد تعداد میں پارٹی قائدین کو ٹکٹ دیئے جاسکتے ہیں۔ 119 نشستوں تک محدود ہونے کی صورت میں کئی سینئر قائدین ٹکٹ سے محروم ہوسکتے ہیں۔ اسی دوران 2019ء میں پارٹی ٹکٹ کیلئے دوڑ دھوپ کرنے والے قائدین نے مرکزی حکومت سے امیدیں وابستہ کرلی ہیں۔ انہیں امید ہے کہ نشستوں کی تعداد میں اضافہ کی صورت میں آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کی خواہش پوری ہوسکتی ہے۔ ٹی آر ایس کے ذرائع نے بتایا کہ پارٹی قیادت کو یقین ہے کہ اگر مرکز نشستوں کی تعداد میں اضافہ نہ کرے تب بھی پارٹی کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ موجودہ نشستوں کے ساتھ انتخابات کی صورت میں پارٹی بآسانی اکثریت حاصل کرسکتی ہے اور نشستوں کی تعداد میں اضافہ سے ارکان کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے آئندہ انتخابات کے امیدواروں کے سلسلہ میں ابھی سے حلقہ واری سطح پر رپورٹ طلب کی ہے۔ 119 نشستوں کے بجائے وہ امکانی 153 نشستوں کے اعتبار سے سروے کا اہتمام کررہے ہیں تاکہ اچانک تعداد میں اضافہ پر امیدواروں کے انتخاب میں دشواری نہ ہو۔ اطلاعات کے مطابق چیف منسٹر نے گزشتہ چند دن سے فارم ہائوس میں قیام کے دوران پارٹی کی انتخابی حکمت عملی پر بااعتماد رفقاء سے مشاورت کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT