Sunday , June 24 2018
Home / شہر کی خبریں / اسمبلی کا وقت ضائع کرنے کی برسر اقتدار جماعت ذمہ دار

اسمبلی کا وقت ضائع کرنے کی برسر اقتدار جماعت ذمہ دار

کسی بھی عنوان پر سنجیدہ اجلاس سے راہ فراری ، صدر بی جے پی کشن ریڈی کا الزام

کسی بھی عنوان پر سنجیدہ اجلاس سے راہ فراری ، صدر بی جے پی کشن ریڈی کا الزام
حیدرآباد۔/13نومبر، ( سیاست نیوز) بی جے پی کے ریاستی صدر جی کشن ریڈی نے الزام عائد کیا کہ اسمبلی کی کارروائی میں خلل اور وقت ضائع کرنے کیلئے خود برسر اقتدار پارٹی ذمہ دار ہے۔ میڈیا پوائنٹ پر اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کشن ریڈی نے کہا کہ عوامی مسائل پر طویل مباحث اور شام میں اسمبلی اجلاس طلب کرنے کا دعویٰ کرنے والی حکومت عملی طور پر اپنے دعوؤں کی نفی کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا دیکھا گیا کہ خود وزراء اور برسراقتدار پارٹی کے ارکان اسمبلی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وزیر مقننہ کا کام اپوزیشن جماعتوں سے تعاون حاصل کرتے ہوئے ایوان کی کارروائی کو آگے بڑھانا ہے لیکن وزیر اُمور مقننہ ہریش راؤ خود اپوزیشن کو مشتعل کرتے ہوئے کارروائی میں رکاوٹ کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی جمہوریت میں اس طرح کی روایت اچھی علامت نہیں۔ کشن ریڈی نے کہا کہ گزشتہ تین دن سے کسی نہ کسی عنوان پر حکومت ایوان کی کارروائی چلانے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے جانے والے مسائل کا جواب دینے کے بجائے اسے سیاسی رنگ دیا جارہا ہے۔ کشن ریڈی کے مطابق دس منٹ کارروائی ملتوی کرنے کے نام پر گھنٹوں ایوان کی کارروائی ملتوی کی جارہی ہے۔ اس سلسلہ میں حکومت کو اپنے موقف کی وضاحت کرنی چاہیئے۔ بی جے پی صدر نے کہا کہ تلگودیشم پارٹی نے جامع سماجی سروے کے موقع پر نظام آباد کے رکن پارلیمنٹ کی جانب سے دو مقامات پر نام درج کرانے کا جو مسئلہ اٹھایا اسے غیر ضروری ہوا دی جارہی ہے۔ حکومت کیلئے کافی تھا کہ وہ اس سلسلہ میں وضاحت کرتی اور اس طرح کی غلطی کی تردید کرتی لیکن چونکہ رکن پارلیمنٹ چیف منسٹر کی دختر ہیں لہذا اسے اپوزیشن کی آواز دبانے کیلئے استعمال کیاجارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کی کارروائی کے پہلے دن تلگودیشم ارکان کو معطل کرتے ہوئے حکومت نے یہ پیام دیا تھا کہ وہ کارروائی چلانے میں سنجیدہ ہے لیکن گزشتہ تین دن سے ایوان کی صورتحال اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ حکومت اسمبلی میں عوامی مسائل پر مباحث میں سنجیدہ نہیں، شاید اسے اس بات کا اندیشہ ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے جانے والے مسائل اس کیلئے مشکلات کا سبب بن سکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT