Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / اسمبلی کی اقلیتی بہبود کمیٹی میں تحفظات کا مسئلہ زیر بحث آئے گا

اسمبلی کی اقلیتی بہبود کمیٹی میں تحفظات کا مسئلہ زیر بحث آئے گا

سیاست کی تحریک کا اثر
اسمبلی کی اقلیتی بہبود کمیٹی میں تحفظات کا مسئلہ زیر بحث آئے گا
متفقہ قرارداد کی تحریک پیش کرنے محمد سلیم کا اعلان، مسلم ارکان اسمبلی اور ٹی آر ایس اقلیتی قائدین پر عوامی دباؤ میں اضافہ

حیدرآباد ۔ 15۔ جولائی (سیاست نیوز) مسلم تحفظات کیلئے 20 جولائی کو ہونے والے مقننہ کمیٹی کے اجلاس میں متفقہ قرارداد کی منظوری کی راہ ہموار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے وعدہ کی تکمیل کیلئے ایوان کی کمیٹی حکومت کو سفارشات پیش کرسکتی ہے۔ ٹی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل محمد سلیم نے ایوان کی اقلیتی بہبود کمیٹی میں اس مسئلہ کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ کمیٹی کے صدرنشین عامر شکیل کو تحفظات پر عمل آوری کے حق میں متفقہ قرارداد کی تجویز پیش کریں گے۔ 12 فیصد مسلم تحفظات کے مسئلہ پر سیاست کی جانب سے چلائی جارہی تحریک کے سبب مسلم عوامی نمائندوں اور برسر اقتدار پارٹی کے قائدین پر عوامی دباؤ میں اضافہ ہونے لگا ہے ۔ اقلیتی بہبود کمیٹی نے قرارداد کی منظوری سے متعلق سیاست کی تجویز پر مسلمانوں میں زبردست ردعمل دیکھا گیا اور ہر ضلع سے تعلق رکھنے والے عوام نے ٹی آر ایس قائدین اور مسلم ارکان اسمبلی اور کونسل کو متفقہ قرارداد کی منظوری کے حق میں توجہ دلائی ۔ بتایا جاتا ہے کہ ایوان کی کمیٹی کے صدرنشین عامر شکیل کو مسلمانوں نے کمیٹی کے اجلاس میں قرارداد منظور کرنے کی ترغیب دی۔ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ایسے وقت جبکہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ تحفظات پر عمل آوری کا بارہا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اقلیتی بہبود کمیٹی کو چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داری کی تکمیل کرتے ہوئے قرارداد منظور کرے۔ ایوان کی اقلیتی بہبود کمیٹی میں صدرنشین عامر شکیل کے علاوہ 11 ارکان ہیں جن میں 4 کا تعلق مسلم اقلیت سے ہے جبکہ دیگر ارکان میں پی مدھوکر ، ڈی ونئے بھاسکر ، پی شیکھر ریڈی ، ای اسٹیفنسن ، جی کملاکر اور سمپت کمار شامل ہیں۔ کمیٹی میں تحفظات کی مخالفت کرنے والی پارٹیوں کی نمائندگی نہیں ہے لہذا قرارداد کو بآسانی منظور کیا جاسکتا ہے ۔ ٹی آر ایس کے رکن کونسل محمد سلیم نے کہا کہ وہ اجلاس میں قرارداد کی منظوری کا مطالبہ کریںگے اور کرسی صدارت سے قرارداد کی پیشکشی کو یقینی بنائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ چیف منسٹر خود بھی تحفظات کی فراہمی کے حق میں ہیں اور انہوں نے ایک سے زائد مرتبہ اپنے تیقن کو دہرایا ہے۔ محمد سلیم نے کہا کہ متفقہ قرارداد کی منظوری کے بعد اسے چیف منسٹر کے حوالے کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم تحفظات کو یقینی بنانے کیلئے جو طریقہ کار ہے، اس پر عمل آوری کی خواہش کی جائے گی۔ اسمبلی میں قرارداد منظور کرتے ہوئے مرکز کو روانہ کرنے کے بجائے بی سی کمیشن کے قیام کی سفارش کی اجازت دی۔ انہوں نے کہا کہ تحفظات کیلئے جو بھی قانونی اور دستوری طریقہ کار ضروری ہیں، ان پر عمل کیا جانا چاہئے ۔ محمد سلیم نے کہا کہ 12 فیصد مسلم تحفظات سے نہ صرف تعلیمی پسماندگی کا خاتمہ ہوگا بلکہ ملازمتوں میں مسلمانوں کی نمائندگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو سیاسی میدان میں بھی تحفظات کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے حقوق کیلئے اسمبلی ، کونسل اور پارلیمنٹ میں آواز اٹھاسکیں۔ اسی دوران ٹی آر ایس کے کئی اقلیتی قائدین نے ایوان کی کمیٹی میں قرارداد کی تائید کی اور کہا کہ اس سے حکومت پر مسلم تحفظات پر عمل آوری کیلئے دباؤ بڑھے گا ۔ پارٹی کے قائدین اس مسئلہ پر کھل کر اظہار خیال کرنے سے کترا رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ پارٹی کا اقلیتی سیل غیر متحرک ہوچکا ہے اور اس کی تشکیل جدید ہونی چاہئے ۔ اقلیتی سیل نے شہر اور اضلاع کے سرگرم قائدین کو شامل کرتے ہوئے اقلیتوں کے مسائل پر حکومت سے نمائندگی کی جاسکتی ہے۔ پارٹی کے ایک سینئر قائد نے بتایا کہ اقلیتی سیل کی تشکیل جدید کیلئے چیف منسٹر سے نمائندگی کی جاچکی ہے اور یہ اقلیتی شعبہ حکومت اور عوام کے درمیان رابطے کا کام انجام دے سکتا ہے ۔ الغرض مسلم تحفظات کے حق میں عوامی نمائندوں اور ٹی آر ایس قائدین پر عوام کی جانب سے توجہ دہانی میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ 20 جولائی کے اجلاس تک کمیٹی کے دیگر مسلم ارکان بھی تحفظات کے حق میں قرارداد کی تائید کیلئے آمادہ ہوجائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT