Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / اسمبلی کی اقلیتی بہبود کمیٹی میں مسلم تحفظات کی قرارداد؟

اسمبلی کی اقلیتی بہبود کمیٹی میں مسلم تحفظات کی قرارداد؟

تحفظات : کون تائید میں اور کون مخالف
اسمبلی کی اقلیتی بہبود کمیٹی میں مسلم تحفظات کی قرارداد؟
حکومت پر دباؤ بنانے کا سنہری موقع،مسلم ارکان کی سنجیدگی کا امتحان، 20جولائی کے اجلاس پر مسلمانوں کی نظریں
حیدرآباد۔/14جولائی، ( سیاست نیوز) مسلمانوں کیلئے 12فیصد تحفظات کے وعدہ پر حکومت کی سنجیدگی کے اظہار کا بہترین موقع حکومت کو 20جولائی کو حاصل ہوگا۔ قانون ساز اسمبلی اور کونسل کی اقلیتی بہبود کمیٹی کا اجلاس 20جولائی کو مقرر ہے جس میں 12فیصد تحفظات کے حق میں متفقہ طور پر قرارداد منظور کرتے ہوئے حکومت کو بھیجی جاسکتی ہے جو نہ صرف کمیٹی کی جانب سے تحفظات کیلئے حکومت کو سفارش ہوگی بلکہ حکومت پر وعدہ پر عمل آوری کے سلسلہ میں دونوں ایوانوں کی جانب سے دباؤ بنے گا۔ دونوں ایوانوں کی اقلیتی بہبود کمیٹی میں  ٹی آر ایس، کانگریس اور مجلس کے ارکان شامل ہیں لہٰذا متفقہ قرارداد کی منظوری میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی کیونکہ تینوں جماعتوں نے تحفظات کے حق میں اپنے موقف کا پہلے ہی اظہار کردیا ہے۔ حکومت نے حال ہی میں رکن اسمبلی بودھن عامر شکیل کی صدارت میں ایوان کی کمیٹی تشکیل دی ہے جس کا تعارفی اجلاس گذشتہ دنوں منعقد ہوا جبکہ 20جولائی کو ہونے والا اجلاس بزنس کے اعتبار سے پہلا اجلاس ہوگا جس میں اقلیتی اسکیمات پر عمل آوری کا جائزہ لیا جائے گا۔ اگر یہ کمیٹی اپنے پہلے اجلاس کے ایجنڈہ میں 12فیصد تحفظات کی قرارداد کو سرفہرست رکھتی ہے تو اس سے نہ صرف مسلمانوں میں کمیٹی کی قدر و منزلت میں اضافہ ہوگا بلکہ تمام ارکان کی تحفظات کے حق میں سنجیدگی کا بھی اظہار ہوگا۔ اُمور مقننہ سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ ایوان کی کمیٹی کو کسی بھی متعلقہ مسئلہ پر حکومت کو سفارشات پیش کرنے کا اختیار حاصل ہے اور ایوان کی کمیٹیوں کے قیام کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ وہ اُن کے مفوضہ اُمور کی انجام دہی کی نگرانی کریں۔ حکومت نے اقلیتی بہبود سے متعلق جو اعلانات کئے اور جن اسکیمات کا آغاز کیا وہ اس کمیٹی کے دائرہ کار میں آتے ہیں لہذا اقلیتی بہبود کمیٹی کو 12فیصد مسلم تحفظات پر قرارداد کی منظوری میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیئے۔ اگر یہ کمیٹی تحفظات کے حق میں قرارداد منظور کرتی ہے تو یقینی طور پر یہ سابقہ کمیٹیوں کے مقابلہ نہ صرف ایک ریکارڈ ہوگا بلکہ ایک صحت مند روایت کا آغاز ہوسکتا ہے۔ ایوان کی ہر کمیٹی مختلف اُمور پر حکومت کو رپورٹ اور سفارشات پیش کرتی ہے اور اس پر عمل آوری کیلئے حکومت پابند ہے کیونکہ مقننہ کو عاملہ پر برتری حاصل ہے اور ایوان مقننہ میں حکومت کے اعلانات اور بیانات پر نظم و نسق عمل آوری کا پابند ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ایوان اسمبلی میں ایک سے زائد مرتبہ مسلم تحفظات پر اپنے وعدہ کا اعادہ کیا۔ ایسے میں اقلیتی بہبود کمیٹی تحفظات کے حق میں حکومت کو قرارداد کی شکل میں سفارش پیش کرتے ہوئے اس سمت میں پیش قدمی کیلئے اخلاقی طور پر دباؤ بناسکتی ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر ایوان کی کمیٹی اپنے پہلے ہی اجلاس میں قرارداد منظور کرے گی تو اس سے حکومت کو ہی فائدہ ہوگا اور تحفظات کیلئے منتظر مسلمانوں کا حکومت پر اعتماد نہ صرف بحال بلکہ مستحکم ہوگا۔ مسلمانوں کو اس سلسلہ میں اُمید ہے کہ ایوان کی کمیٹی کے صدرنشین عامر شکیل اور ارکان محمد فاروق حسین اور محمد سلیم قرارداد کی منظوری میں اہم رول ادا کریں گے۔ ان ارکان کی اقلیتوں کے مسائل سے دلچسپی سے ہر کوئی واقف ہے اور اگر یہ ارکان قرارداد کی منظوری کیلئے کامیاب پہل کریں گے تو یہ مسلمانوں کے حق میں بہتر خدمت تصور کی جائے گی۔ مقننہ کمیٹی کے فیصلوں اور سفارشات کی حکومت کے پاس کافی اہمیت ہوتی ہے۔ الغرض 20جولائی کو ہونے والے اقلیتی بہبود کمیٹی کے اجلاس پر مسلمانوں کی نظریں رہیں گی اور کمیٹی اور اس کے ارکان کا امتحان بھی رہے گا۔ اسی دوران مسلمانوں کا یہ احساس ہے کہ چیف منسٹر کو تحفظات کے حق میں پیشرفت کرنے کیلئے پارٹی میں اندرونی طور پر نمائندگی اور دباؤ کی ضرورت ہے۔ ٹی آر ایس میں یہ دیکھا گیا ہے کہ عوامی نمائندے اور حکومت میں شامل افراد مسلم تحفظات کے مسئلہ پر چیف منسٹر سے نمائندگی کے موقف میں نہیں ہیں۔ ہر کسی کو پارٹی اور حکومت میں اپنے موقف کی برقراری اور اپنے اپنے نشانہ کی تکمیل کی فکر لاحق ہے۔ پارٹی کے قائدین اگرچہ تحفظات کے حق میں کھل کر اظہار خیال کررہے ہیں لیکن قیادت پر دباؤ بڑھانے کیلئے ان قائدین نے انفرادی یا اجتماعی طور پر کوئی کوشش نہیں کی۔ ٹی آر ایس کا اقلیتی سل موجود ہے لیکن اس کی جانب سے بھی آج تک تحفظات کے حق میں قرارداد منظور کرتے ہوئے پارٹی صدر کے سی آر کو روانہ نہیں کی گئی۔ قائدین کو حکومت میں سرکاری عہدوں کے حصول کی دوڑ دھوپ میں دیکھا جارہا ہے کیونکہ وہ گذشتہ دو برسوں سے سرکاری نامزد عہدوں کی آس میں مختلف وزراء کے پاس پیروی میں مصروف ہیں۔ انہیں یہ اندیشہ ہے کہ اگر وہ تحفظات کے مسئلہ کو چھیڑنے کی کوشش کریں گے تو انہیں سرکاری نامزد عہدوں سے محروم ہونا پڑیگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانوں کے وسیع تر مفاد کو دیکھتے ہوئے ٹی آر ایس قائدین تمام 10اضلاع پر مشتمل کیڈر کا کنونشن طلب کرتے ہوئے مسلم تحفظات کے حق میں قرارداد پیش کریں اور اپنے شخصی مفادات پر ملت کے مفاد کو ترجیح دیں اور یہی ان کی حقیقی کامیابی تصور کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT