Tuesday , December 12 2017
Home / اضلاع کی خبریں / اسوہ رسولﷺکو نمونہ حیات بنانے کی تلقین

اسوہ رسولﷺکو نمونہ حیات بنانے کی تلقین

نظام آباد /18 جنوری ( پریس نوٹ ) عبدالحلیم خان ڈپٹی کلکٹر ریٹائرڈ نے ہمہ مسلکی تنظیم اصلاح معاشرہ ازالہ منکرا کے مذاکرہ اصلاح معاشرہ کی عملی تدابیر منعقدہ اصلاح معاشرہ لائبریری متصلمسجد خلیل بودھن روڈ نظام آباد پر اظہار خیال کیا کہ مسلمان رسول اللہ ﷺ کے ذات کو آئیڈیل بنائے ۔ محلہ واری سطح پر سیرت سنٹرس مقرر کئے جائیں اور آپ ﷺ کی زندگی ، آپ ﷺ دعوت کو نسب العین بنائے ۔ قرآن حکیم و حدیث شریفہ میں اس کے ذرائع موجود ہیں ۔ عبدالقوی اسسٹنٹ پروفیسر تلنگانہ یونیورسٹی نے کہا کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی تمہارے بہترین نمونہ ہے ۔ ہم اپنے ہر کام کو اعمال کو اچھے ہیں یا برے ہیں رسول اللہ ﷺ کی مہر ہونا چ اہئے ۔ آپ ﷺ سے محبت اپنی جان سے زیادہ و ، یہ نجات کیلئے ضروری ہے ۔ عبدالحفیظ کنٹرولر آر ٹی سی ریٹارڈ نے کہا کہ اصلاح کی تدابیر میں نفس فرد سے شروع کی جائے ۔ اس کے بعد خاندان اور معاشرہ کی اصلاح ممکن ہوجائے گی ۔ جناب محمد نعیم الدین خادم اصلاح معاشرہ و سابق خادم الحجاج نے کہا کہ عملی تدابیر اختیار کرنا وعظم و بیان سے زیادہ ضروری ہے ۔ پرنٹ میڈیا و الیکٹرانک میڈیا ایک حد تک بیداری پیدا کرتے ہیں ۔ اسلام کی تلعیمات میں ہمیں یہ سمجھنا ضروری ہیکہ سارا نظام عملی ہے ۔ سوائے کلمہ طیبہ کے دل و زبان سے ماننا و اقرار کرنا ہے ۔ عمل صالحات تمام کے تمام عملی ہیں ۔ فرائض ، نظام روزہ ، حج زکواۃ ، اخلاق و آداب زندگی اور نہی عن المنکر یہ سب عملی کام ہیں ۔ بولنے سے اصلاح ہونا کافی نہیں چونکہ رسول اللہ ﷺ کی ساری زندگی عملی ہے اور ممبر و محراب تک محدود نہیں تھی ۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مدنی معاشرہ سب کا سب نیک تھا ۔ برائی صفر تھی اور آج وقت کے گذرنے کے ساتھ برائی اور بگاڑ عام ہوچکا ہے ۔ تقریباً 90 فیصد ہے ۔ ہمہارا سارا نظام ہمہ مسلکی تنظیم اصلاح معاشرہ نے تمام تنظیموں اور اداروں کے مقاصد اور نسب العین اور ایجنڈہ سے ا صلاح معاشرہ کا نصاب تیار کیا ہے یہ تقریباً عملی ہے ۔ اہل علم اس کا مطالعہ کریں ۔ جس میں بچوں کو صباحی تعلیم ، اخلاق و آداب زندگی ، فرائض ان سے کو روزانہ عملی مظاہروں سے تربیت دی جاتی ہے ۔ خواتین میں گھر گھر ملاقاتوں کے ذریعہ سے خاتون معلمات ان کی عملی تربیت و تعلیم کا انتظام کرتے ہیں ۔ مردوں میں نوجوانوں میں مولانا حضرت متبع محلہ ، بازار دیہاتوں میں ملاقاتوں ے ذریعہ سے تلقین و تربیت دیتے ہیں ۔ غریب غرباء اور دین سے دور مالدار حضرات کو اصلاح و تربیت کیلئے تین دن ، دس دن ، تیس دن اور سو دن کی پانچ پانچ یا دس دس افراد کی جماعتیں محلہ بازار اور دیہاتوں میں ملاقاتوں کے ذریعہ سے اور غیر مسلموں سے بھی ملاقاتوں کے ذریعہ نہی عن ا لمنکر اور مسلمانوں میں حقوق اللہ ، حقوق العباد اور نہی عن المنکر کا فرض ادا کرتے ہیں اور مساجد کی خدمت کی تربیت کی جاتی ہے اور اسکولس و کالجس کے بچوں کو اصلاح معاشرہ کیلئے تعلیم و تربیت کا فارمولہ جو رسول اللہ ﷺ بتائے ہیں ۔ جب بچہ سات سال کا ہوجائیں تو نماز کی عادت ڈالو اور 10 سال کا ہو جائے تو نماز نہ پڑھے تو مارو اور بستر الگ کردو ( ترمذی ) عمل کروایا جاتا ہے ۔ جناب عثمان ، نصیر بیگ ، حافظ توفیق نے انتظامات کئے ۔ مولانا مظہر الحق نے دعاء کی ۔ اس موقع پر کثیر تعداد موجود تھی ۔

TOPPOPULARRECENT