Friday , November 24 2017
Home / کھیل کی خبریں / اسٹار بلے باز یوراج سنگھ کو قدیم فارم میں واپسی کا یقین

اسٹار بلے باز یوراج سنگھ کو قدیم فارم میں واپسی کا یقین

آسٹریلیا کے خلاف ٹی 20 میچس کیلئے ٹیم میں شمولیت پر مسرت کا اظہار ‘ سلیکٹرس سے اظہار تشکر
کولکتہ 20 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) آئندہ سال آسٹریلیا کے خلاف ٹوئنٹی 20 میچس کیلئے ٹیم انڈیا میں واپس طلب کئے جانے کے بعد اسٹار بلے باز یوراج سنگھ کا کیرئیر ایسا لگتا ہے کہ ایک بار پھر عروج پر آئیگا ۔ یوراج سنگھ نے کہا کہ وہ ایک حقیقی مشکل ترین مرحلہ سے گدرنے کے بعد ایک بار پھر ٹیم انڈیا کے ڈریسنگ روم میں جگہ حاصل کرنے کیلئے بے چین ہیں۔ انہوں نے یہاں ایک تقریب کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی میں جو مرحلہ آیا تھا وہ انتہائی خوفناک تھا اور یہ مزید بدترین نہیں ہوسکتا تھا ۔ تاہم وہ اس سے بھی طاقتور انداز میں باہر آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم میں واپسی کا دباؤ ہمیشہ رہتا ہے ۔ دباؤ بین الاقوامی کرکٹ میں ہمیشہ ہوتا ہے ۔ لوگ ہمیشہ آپ سے امید کرتے ہیں کہ آپ اپنے سابقہ ریکارڈز اور فارمس کو دہرائیں۔ یوراج سنگھ 2011 کے ورلڈ کپ میں مین آف دی ٹورنمنٹ کا ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد کینسر کے عارضہ کا شکار ہوگئے تھے انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے وقت گذرتا جائیگا ان کا پرانا فارم واپس آجائیگا ۔انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ان کا فارم واپس ہوگا ۔ انہیں سلیکٹرس نے سے جو اعتماد حاصل ہوا ہے ‘ ٹیم انتظامیہ اور پرستاروں سے جو یقین ملا ہے

اس سے انہیں امید ہے کہ وہ بھی بہتر اور مثبت نتائج حاصل کرینگے ۔ آئندہ سال ہندوستان میں ہونے والے ورلڈ ٹوئنٹی 20 کو دیکھتے ہوئے یوراج سنگھ کو آسٹریلیا کے خلاف تین ٹوئنٹی 20 میچس کیلئے ٹیم میں شامل کیا گیا ہے ۔ آخری مرتبہ یوراج سنگھ نے 2014 کے ورلڈ ٹوئنٹی 20 کے فائنل میں سری لنکا کے خلاف ٹیم انڈیا کی نمائندگی کی تھی ۔ اس میچ میں یوراج سنگھ نے 21 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے صرف گیارہ رن بنائے تھے ۔ یوراج سنگھ نے تاہم ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار واپسی کی تھی اور اچھے اسکورس کرتے ہوئے سلیکٹرس کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے ۔ انہوں نے رانجی ٹرافی کے جاریہ سیزن میں سات میچس میں حصہ لیتے ہوئے 398 راز اسکور کئے تھے ۔ جاریہ وجئے ہزار ونڈے ٹورنمنٹ میں بھی انہوں نے بہترین مظاہرہ کیا ہے اور پانچ میچس میں انہوں نے 341 رنز اسکور کئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ دیڑھ سال سے کرکٹ سے دور تھے ایسے میں ڈومیسٹک کرکٹ کھیلتے ہوئے خود کو تیار کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں رہ گیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT