Saturday , December 16 2017
Home / Top Stories / اسٹار ہوٹلس اور ریسارٹس کرنسی کی تبدیلی کے مراکز بن گئے

اسٹار ہوٹلس اور ریسارٹس کرنسی کی تبدیلی کے مراکز بن گئے

غیر قانونی تجارت عروج پر، ٹولیوں کی بینک عہدیداروں سے ساز باز، محکمہ انکم ٹیکس اور پولیس کی کڑی نظر

حیدرآباد۔22نومبر(سیاست نیوز) دونوں شہروں کے بڑے ہوٹلس اور شہر کے نواحی علاقوں میں موجود ریسارٹس میں کرنسی کی تبدیلی کے ریاکٹ عروج پر ہیں۔ محکمہ انکم ٹیکس اور پولیس کی جانب سے ان ہوٹلس میں دیگر ریاستوں سے پہنچ کر قیام کرنے والوں اور ان سے ملاقات کرنے والوں پر نگاہیں رکھی جانے لگی ہیں کیونکہ انہیں موصولہ اطلاعات کے بموجب سیاستدانوں کے پاس جمع دولت کی تبدیلی میں مصروف لوگ ان ہوٹلوں میں قیام کرتے ہوئے بینک عہدیداروں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں اور بھاری رقومات منتقل کرنے میں کلیدی کردار ادا کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے فراہم کردہ اطلاعات کے بموجب شہر کی سرکردہ ہوٹلوں کے علاوہ نواحی علاقوں میں موجود ریسارٹس اور تفریحی مقامات کے ساتھ ان لوگوں پر نگاہیں مرکوز ہیں جو کرنسی کی تبدیلی کا کاروبار کرتے ہیں ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے ریاستوں کو کرنسی پہنچانے میں کی جانے والی تاخیر کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جا رہی ہے کہ پرانی کرنسی کے عوض فروخت کی جارہی نئی کرنسی کو دوبارہ کالے دھن کے سرغنوں کے پاس پہنچنے نہ دیا جائے۔ حیدرآباد اور نواحی علاقوں میں مہاراشٹرا‘ آندھرا پردیش ‘ ٹامل ناڈو کے علاوہ کرناٹک کے بعض شہروں سے سیاستدانوں کے پرانے کرنسی نوٹ پہنچ رہے ہیں جن کی تبدیلی کیلئے سرگرم ٹولیاں بھاری رقومات کے ساتھ پہنچنے والوں سے رابطہ کررہی ہیں۔ محکمہ انکم ٹیکس اور پولیس کی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے کی جانے والی اس کاروائی کے دوران بھاری رقومات کی ضبطی ممکن ہے اور کہا جا رہاہے کہ بعض مصدقہ اطلاعات کا محکمہ انکم ٹیکس انتظار کررہا ہے تاکہ ان سرگرمیوں میں ملوث افراد کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا جاسکے۔ ریاست تلنگانہ میں بھاری رقومات کی تبدیلی اور ان معاملات میں پڑوسی ریاست کے بینک عہدیداروں کے ساتھ تلنگانہ کے بینکرس کے ملوث ہونے کے واقعات نے ایجنسیوں کے شبہات کو تقویت پہنچائی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سیاستداں اپنی پرانی کرنسی میں موجود غیر محسوب رقومات کو اپنے با اعتماد رفقاء کے توسط سے تبدیل کروانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کاموں میں ان کی مدد کررہے افرا د کو کمیشن کا لالچ دیا جا رہا ہے لیکن اگر اس طرح کی حرکت کرتے ہوئے وہ پکڑے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں انہیں 7سال تک کی سزاء کے ساتھ رقومات کی ضبطی ممکن ہے۔ مرکزی خفیہ ایجنسیوں کے علاوہ محکمہ انکم ٹیکس کے ساتھ کسٹمس اینڈ ایکسائز کے عہدیداروں کے تال میل سے آئندہ چند یوم کے دوران بڑے پیمانے پر کاروائیوں کا امکان ہے اور بتایا جاتا ہے کہ جو لوگ سیاسی جماعتوں سے وابستہ ہیں ان کے بیرونی دورو ں پر بھی نگاہیں مرکوز ہیں کیونکہ وہ اپنے بیرونی دوروں کا بھی رقومات کی منتقلی کیلئے استعمال کر سکتے ہیں۔حیدرآباد میں بیرونی کرنسی کی غیر مجاز فروخت کرنے والوں کی تفصیلات بھی اکٹھا کی جانے لگی ہے اور ان کی جانب سے بینکوں کے کھاتوں کے استعمال کا جائزہ لیا جا رہاہے تاکہ کسی قسم کے شبہات کی صورت میں ان سے بھی پوچھ تاچھ کی جا سکے۔

TOPPOPULARRECENT