Thursday , November 15 2018
Home / Top Stories / اسٹوڈنٹ لیڈر عمر خالد پر فائرنگ

اسٹوڈنٹ لیڈر عمر خالد پر فائرنگ

دہلی میں ہجومی تشدد کیخلاف جلسہ سے خطاب سے قبل واقعہ
نئی دہلی۔13 اگست (سیاست ڈاٹ کام) جے این یو کے اسٹوڈنٹ لیڈر عمر خالد آج پارلیمنٹ کے قریب کانسٹیٹیوشن کلب پر ایک حملہ میں بال بال بچ گئے۔ وہاں بندوق کے ذریعہ گولی چلائی گئی تھی۔ پولیس اور عینی شاہدین نے کہا کہ حملہ آور نے اپنا ہتھیار چھوڑ کر مقام واقعہ سے فرار ہوگیا۔ پولیس ذرائع نے کہا کہ ہتھیار ضبط کرلیا گیا ہے۔ جوائنٹ کمشنر پولیس نیو دہلی رینج اجئے چودھری نے کہا کہ پولیس ان تحقیقات میں مصروف ہے کہ آیا گولی چلائی گئی یا نہیں چلائی گئی تھی۔ کیوں کہ اس مسئلہ پر الجھن برقرار ہے کہ فی الواقعی کیا ہوا تھا۔ اس واقعہ میں ملوث افراد کی تعداد کیا ہے۔ عمر خالد نے پیش آئے واقعہ پر کہا کہ رفیع مارگ پر جہاں ماڈلنکر آڈیٹوریم اور ایم پی کوارٹرس بھی ہیں۔ چائے نوشی کے بعد کامپلکس کے باہر جارہے تھے کہ کسی نے ان پر گولی چلائی۔ اخباری نمائندوں سے انہوں نے کہا کہ ’’میں چائے نوشی کے بعد واپس ہورہا تھا کہ پیچھے سے ایک شخص آیا۔ مجھے ڈھکیل کر گرادیا اور مجھ پر فائرنگ کرنے کی کوشش کی تھی۔ میں اپنی جان بچانے کے لیے دوڑنے لگا اور وہ بھی وہاں سے بھاگ گیا۔‘‘ عمر نے کہا کہ انہوںنے حملہ آور کا چہرہ نہیں دیکھا انہوں نے کہا کہ ’’میں نہیں جانتا کہ آیا یہ کسی گروپ کی کارستانی تھی یا پھر کوئی دوسرے بھی حملہ آور کے ساتھ تھے۔ یہ بھی دلچسپ ہے کہ میں اس وقت ہجومی تشدد کے خلاف منعقدہ تقریب میں شرکت کے لیے روانہ ہورہا تھا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ہر طرف ڈرخوف کا ماحول ہے۔ اگر آپ حکومت کے خلاف بولیں گے تو آپ کے ساتھ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔‘‘ اس دوران چند عینی شاہدین نے دعوی کیا کہ عمر خالد جب کلب کے باب الداخلہ پر پہونچے ہی تھے کہ دو گولیاں چلائی گئیں۔ وہ وہاں ’خوف سے آزادی، کے زیر عنوان ایک کانفرنس سے خطاب کے لیے پہونچے تھے۔ جس کا اہتمام ایک ’نفرت کیخلاف اتحاد‘ نامی تنظیم نے کیا تھا۔ مقررین میں سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پرشانت بھوشن، دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند اور ایچ سی یو کے متوفی طالبعلم روہت ویمولہ کی والدہ رادھیکا بھی شامل تھیں۔ عمر خالد کے ساتھ موجود ان کے ایک دوست سیف نے کہا کہ وہ چائے نوشی کے لیے گئے تھے کہ تین افراد ان کے قریب پہونچے ایک نے عمر خالد کو دبوچ لیا جس کی انہوں نے مزاحمت کی کسی نے انہیں زمین پر گرادیا اور ان پر فائرنگ کی کوشش کی لیکن فوری طور پر فائر کر نہ سکا کیوں کہ لوگ اس کا تعاقب کرنے لگے تھے۔ ڈپٹی کمشنر پولیس (نئی دہلی) مدھر ورما نے کہا کہ سی سی ٹی وی کی جانچ کی جارہی ہے۔ یہ واقعہ دوپہر 2:30 بجے پیش آیا۔

TOPPOPULARRECENT