Sunday , October 21 2018
Home / Top Stories / اسٹوڈنٹ لیڈر کنہیا ‘ شیلا کا اگلے سال لوک سبھا الیکشن میں مقابلہ متوقع

اسٹوڈنٹ لیڈر کنہیا ‘ شیلا کا اگلے سال لوک سبھا الیکشن میں مقابلہ متوقع

کنہیا کمار کی خواہش ہے کہ وہ اپنے آبائی ضلع بیوسرائے‘ بہار سے مقابلہ کریں ‘ اور ذرائع کا کہنا ہے کہ شیہلا رشید مغربی اترپردیش کے کسی لوک سبھا حلقہ کا جائزہ لے رہی ہیں۔
نئی دہلی۔سال2016کے دوران جواہرلا ل نہرو یونیورسٹی ( جے این یو) میں احتجاج کے دوران سرخیوں میں آنے والے دو اسٹوڈنٹ لیڈران کنہیا کمار اور شیہلا رشید کے متعلق اشار ے مل رہے ہیں کہ دونوں سال2019کے لوک سبھا الیکشن میں مقابلہ کریں گے۔

کنہیا اور شیہلا جو نیشنل ڈیموکرٹیک الائنس( این ڈی اے) حکومت کی پالیسیوں کے کٹرے مخالفین میں شامل ہیں کا کہنا ہے کہ وہ 2019کے لوک سبھا انتخابات کے لئے بی جے پی کے خلاف سماجی اور سیاسی بڑے گروپس کو متحد کرنے کے لئے کام کررہے ہیں‘ جس میں آزالیبرل فورس بھی شامل ہونگے‘ اور گجرات کے دلت لیڈر جگنیش میوانی کی جیت کا بھی حوالہ دیا۔کنہیا نے ایچ ٹی کو دئے انٹرویو میں کہاکہ’’ وہ کبھی بھی انتخابی مقابلہ کو موقع نہیں چھوڑیں گے‘‘۔

کمار نے کہاکہ’’ اگر بہار میں راشٹرایہ جنتا دل ( آر جے ڈی)‘ کانگریس اور لفٹ متحد ہوجائیں گے اور وہ مجھ سے اپنا متحدہ امیدوار بننے کو کہیں گے اور میرے الیکشن کے لئے پیسہ اکٹھاکریں گے تو میں امیدوار بن سکتا ہوں‘‘۔انہوں نے کہاکہ’’ میرا یقین منظم سیاست پر ہے ۔

اگر میں الیکشن لڑونگا تو مرکزی پارٹی سے لڑوں گا۔ یہ صاف ہے۔ انفرادی طور پر اس ضمن میں کچھ ہونے والا نہیں ہے‘‘۔کنہیا کمار جو جے این یو اسٹوڈنٹ یونین لیڈر بھی تھے بائیں بازو کی سی پی ائی کے اے ائی ایس ایف سے ان کاتعلق ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ وہ ریاست بہار کے اپنے آبائی بیگوسرائے سے مقابلہ کریں۔

’’ میرا سی پی ائی سے گہرا تعلق ہے ‘میرے گھر والے سی پی ائی سے جڑے ہوئے ہیں۔ میر ے علاقے کو چھوٹا ماسکواور چھوٹا لینینی کہتے ہیں۔ سی پی ائی اقتدار میں تھی مگر پچھلے دو اسمبلی انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلی مرتبہ 2014میں یہاں سے لوک سبھا سیٹ پر بی جے پی کو جیت حاصل ہوئی‘‘۔ سابق نائب صدر جے این یو اسٹوڈنٹ یونین شیہلا رشیدکا تعلق سی پی ائی ۔

ایم ایل جس کا تعلق طلبہ تنظیم اے ائی ایس اے سے ہے نے کہاکہ وہ اس سے قبل منتخب ہوئے ہیں اور الیکشن لڑنے میں انہیں کو دقعت نہیں ہے۔’’ حالات موقف ہوں اور مقابلے کی گنجائش بنتی ہے تو کسی ایک حلقے سے ضرور مقابلہ کرونگی‘‘۔

شیہلا جس کا تعلق سری نگر سے ہے نے کہاکہ ابھی انہوں نے ’’کسی پارٹی یا حلقے کا انتخاب نہیں کیاہے‘‘۔مقبولیت کے اساس پر وہ مغربی اترپردیش کے کسی حلقہ کا جائزہ لے رہی ہیں۔شیہلا نے کہاکہ’’ اگر اپوزیشن جماعتوں کا احساس ہے کہ جمہوریت خطرے میں ہے‘ تو پھر اس کے حقائق کو منظرعام پر لانے میں اہم رول ادا کریں گے۔ یہ آسان ہے اس لئے میں یہاں پر نہیں ہوں‘ کیونکہ یہ اہمیت کا حامل ہے ‘ اس لئے‘‘

Top Stories

TOPPOPULARRECENT