Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / اسٹیٹ بنک آف انڈیا میں اسٹیٹ بنک آف حیدرآباد کے انضمام کی مخالفت

اسٹیٹ بنک آف انڈیا میں اسٹیٹ بنک آف حیدرآباد کے انضمام کی مخالفت

تلنگانہ ریاست کے موقف کو مرکز سے واقف کروایا جائے گا ، وزیر فینانس ایٹالہ راجندر
حیدرآباد۔17اگسٹ ( سیاست نیوز ) حکومت تلنگانہ نے اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد کے اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں انضمام کی مخالفت کا فیصلہ کیا ہے او ر اس سلسلہ میں ریاستی وزیر فینانس مسٹر ای راجندر نے بتایا کہ حکومت اس سلسلہ میں ضرور اقدام کرے گی اور ریاست کے موقف سے مرکزی حکومت کو واقف کروایا جائے گا۔ مسٹر ایٹالہ راجندر نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد کی اپنی علحدہ شناخت ہے اور اس بینک کا قیام 1956سے قبل عمل میں آیا تھا اور ریاست دکن حیدرآباد کا بینک تھا اسی لئے اسے اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں ضم نہیں کیا جانا چاہئے ۔ گذشتہ ماہ مرکزی کابینہ نے ملک کے 5 بینکوں کو اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں ضم کرنے کے فیصلہ کو منظوری دی تھی جن میں اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد کے علاوہ بھارتیہ مہیلا بینک اور اسٹیٹ بینک آف ترونکورس و دیگر شامل ہیں ۔ اسٹیٹ بینک آف ترونکورس کے اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں انضمام کے فیصلہ کے خلاف ریاست کیرالہ میں ریاستی اسمبلی نے قرار داد منظور کرتے ہوئے اس کی مخالفت کی۔ مسٹر ای راجندر نے اس سلسلہ میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں قرار داد کی منظوری کے متعلق تا حال کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے لیکن وہ اس سلسلہ میں چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے مشاورت کے بعد قطعی فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ کی جانب سے اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد کے موقف کی برقراری کیلئے ضروری اقدامات کئے جائیں گے۔ریاستی وزیر فینانس نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ ریاستی حکومت کو اس مسئلہ پر کوئی قطعی فیصلہ کرنا چاہئے اور بہت جلد حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایس بی ایچ کی اپنی منفرد شناخت کی برقراری ناگزیر ہے اور یہ بینک تلنگانہ ریاست کا بینک ہے اس کے متعلق مرکز کے مجوزہ انضمام کے فیصلے کی وہ مخالفت کر رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT