Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے ڈپازٹس پر شرح سود میں تخفیف

اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے ڈپازٹس پر شرح سود میں تخفیف

فکسڈ ڈپازٹس پر بھی منفی اثر ، عوام کے نقصان کا فائدہ کی منتقلی پر استفسارات
حیدرآباد۔18نومبر(سیاست نیوز) بینکوں میںبھاری رقومات جمع ہونے کے بعد اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے شرح سود میں تخفیف کے ذریعہ عوام کو جو نقصان پہنچایا ہے اس کا فائدہ کہاں جائے گا؟ بینکوں میں جمع ہورہی دولت کے سبب بینکوں کو شرح سود میں تخفیف کیلئے مجبور ہونا پڑا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے جو شرح سود میں تخفیف کی ہے اس کا اثر فکسڈ ڈپازٹ پر دیکھا جائے گا۔ایک سال کی مدت کیلئے 5لاکھ روپئے کے فکسڈ ڈپازٹ پر پہلے 7.15فیصد سود ادا کیا جاتا تھا اور اس اعتبار سے ایک سال میں ایف ڈی کروانے والوں کو ایک سال میں 36720بطور سود حاصل ہوا کرتے تھے لیکن اب شرح سود میں تخفیف کے بعد 5لاکھ کی رقم ایک سال کی مدت کیلئے جمع کروائے جانے پر7.05فیصد شرح سود حاصل ہوگا جو کہ 36192.92روپئے ہوگا اس طرح سالانہ 528روپئے کا نقصان ہوگا۔ 455دن کیلئے کروائے جانے والے فکسڈ ڈپازٹ کیلئے سابق میں 7.05فیصد سود ادا کیا جاتا تھا اور 5لاکھ کی رقم پر جمع کروانے والے کو سالانہ 45512.74کی اضافی رقم بطور سود حاصل ہوتی تھی لیکن اب 455دن کے ڈپازٹ پر 6.9فیصد سود ادا کیا جائے گااور جمع کروانے والے کو سالانہ 44511.11روپئے حاصل ہوں گے اس طرح انہیں 999روپئے کا سالانہ نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ 2سال تک کی مدت کیلئے جمع کروائے جانے والے 5لاکھ پر اب تک 7.1فیصد سود ادا کیا جاتا تھا اور اس اعتبار سے 75570.99کی سودی آمدنی حاصل ہوا کرتی تھی لیکن اب اس میں تخفیف کے بعد 2سال کی مدت کیلئے جمع کروائے جانے والے فکسڈ ڈپازٹ پر 6.95فیصد سود ادا کیا جائے گا اور یہ آمدنی گھٹ کر 73876.57ہو جائے گی۔ اس طرح 2سال کی مدت کیلئے ایف ڈی کروانے والوں کو 1694روپئے کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔حکومت کی جانب سے 1000اور500کے نوٹوں کی تنسیخ کے بعد لوگ ان نوٹوں کو بینکو ںمیں جمع کروا رہے ہیں اور عوام کی جانب سے جمع کروائے جانے والی ان رقومات کے سبب بینکوں میں نقد جمع سلک میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT