Wednesday , November 21 2018
Home / Top Stories / اسپیشل ڈائرکٹر سی بی آئی کے خلاف رشوت کا مقدمہ

اسپیشل ڈائرکٹر سی بی آئی کے خلاف رشوت کا مقدمہ

ایف آئی آر درج ۔ تاجر معین قریشی سے 2 کروڑ روپئے لینے کا الزام
نئی دہلی ۔ /21 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام ) ملک کی اہم تحقیقاتی ایجنسی سی بی آئی نے ایک غیرمعمولی اقدام میں اپنے ہی خصوصی ڈائرکٹر راکیش استھانہ کو رشوت خوری اسکام میں ملوث ہونے کا نیا ایف آئی آر درج کیا ہے ۔ 1984ء بیاچ گجرات کیڈر کے آئی پی ایس آفیسر مسٹر راکیش استھانہ پر الزام ہے کہ انہوں نے غیرقانونی رقومات کی منتقلی اور رشوت ستانی کے الزام میں ملوث اور کئی کیسوں کا سامنا کرنے والے تاجر معین قریشی کے کیس کو کمزور کرنے 2 کروڑ روپئے وصول کئے تھے ۔ اگرچیکہ سی بی آئی نے اپنے ایف آئی آر میں شکایت کنندہ عہدیدار کا نام شامل نہیں کیا ہے ۔ سی بی آئی کے اندر بدعنوانیوں کا یہ تازہ کیس سامنے آیا ہے ۔ ایجنسی کے اعلیٰ عہدیداروں سی بی آئی ڈائرکٹر الوک ورما اور راکیش استھانہ کے درمیان داخلی جنگ چھیڑ گئی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق ایجنسی نے یہ ایف آئی آر درمیانی آدمی منوج کمار کی گرفتاری کے بعد جاری کیا ہے ۔ اس درمیانی آدمی نے اقبالی بیان میں کہا تھا کہ استھانہ کو 2 کروڑ روپئے ادا کئے گئے ہیں ۔ منوج کمار نے مسلسل یہ اعتراف کیا کہ اس نے مسٹر معین قریشی کی جانب سے رشوت کی یہ رقم ادا کی ہے ۔ قبل ازیں راکیش استھانہ نے سی بی آئی ڈائرکٹر الوک ورما کے خلاف شکایت درج کروائی اور الزام عائد کیا کہ وہ رشوت کیس میں مداخلت کررہے ہیں ۔ اس رشوت کیس میں آر جے ڈی لیڈر لالو پرساد یادو کے ارکان خاندان ملوث ہیں لیکن سی بی آئی نے استھانہ کے الزامات کو مستر د کردیا تھا ۔ راکیش استھانہ کو اس کیس کے علاوہ دیگر کئی کیسوں میں جو 5200 کروڑ کے اسکام کا کیس بھی ہے ملوث ہونے کا الزام ہے ۔ قبل ازیں ان کا نام سندیشرا بر ادرس کیس میں سامنے آیا تھا ۔ ودودھرا کے تاجر سندیشرا برادرس اس وقت ملک کے باہر ہیں اور سی بی آئی تحقیقات سے بچ رہے ہیں ۔
’ را ‘ کے عہدیدار پر بھی نظر
ایف آئی آر میں را کے اسپیشل ڈائرکٹر سامنت کمار گوئل کا نام بھی شامل کیا گیا ہے تاہم انہیں ملزم نہیں بنایا گیا ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ اس کیس کے دور رس اثرات ہوسکتے ہیں اور اس سے حکومت کی امیج بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی ۔

TOPPOPULARRECENT