Wednesday , November 21 2018
Home / Top Stories / اسپیشل ڈائرکٹر کیخلاف کارروائی میں جوں کا توں موقف رکھنے کی ہدایت

اسپیشل ڈائرکٹر کیخلاف کارروائی میں جوں کا توں موقف رکھنے کی ہدایت

سی بی آئی کارروائیوں کے خلاف سپریم کورٹ میں راکیش آستھانہ اور دیویندر کمار کی علیحدہ درخواستیں

نئی دہلی 23 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) دہلی ہائی کورٹ نے سی بی آئی کو اپنے اسپیشل ڈائرکٹر راکیش آستھانہ کے خلاف کی جانے والی فوجداری سماعت پر جوں کا توں حالت برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ آستھانہ نے رشوت ستانی کے ایک مقدمہ میں اپنے خلاف ایف آئی آر کی اجرائی کو اس عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے وضاحت کی کہ رواں تحقیقات پر کوئی التواء جاری نہیں کیا جاسکتا۔ جسٹس نجمی وزیری نے آستھانہ کے علاوہ رشوت ستانی کے مقدمہ میں گرفتار شدہ سی بی آئی کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ دیویندر کمار کی الگ الگ درخواستوں پر سی بی آئی، اس کے ڈائرکٹر الوک کمار ورما اور جوائنٹ ڈائرکٹر اے کے شرما سے جواب طلب کیا ہے۔ محکمہ پرسونل اینڈ ٹریننگ کو بھی نوٹس جاری کی گئی ہے جو سی بی آئی کا انتظامی ادارہ بھی ہے۔ صرف آستھانہ کی درخواست پر ہی سی بی آئی کو جوں کا توں موقف برقرار رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ عدالت عالیہ نے آستھانہ اور کمار دونوں ہی کو مقدمہ کے دستاویزی اور موبائیل ریکارڈس محفوظ رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے آئندہ سماعت 29 اکٹوبر کو مقرر کی گئی ہے۔ دوران سماعت سی بی آئی نے کہاکہ آستھانہ کے خلاف سنگین نوعیت کے الزامات ہیں۔ یہ ایجنسی اس مسئلہ کی تحقیقات کررہی ہے اور ایف آئی آر میں مزید جرائم شامل کئے جاسکتے ہیں۔ آستھانہ کے وکیل صفائی و سینئر قانون داں امریندر شرن نے کہاکہ سی بی آئی کے اسپیشل ڈائرکٹر کے خلاف یہ غیر قانونی ایف آئی آر درج کئے جانے کو چیلنج سے متعلق مقدمہ ہے۔ کیوں کہ صرف ملزم کے بیان کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کیا گیا ہے۔ دیویندر کمار کی طرف سے ایک سینئر وکیل دیان کرشنن رجوع ہونے اور اپنے موکل کے خلاف درج کردہ ایف آئی آر کالعدم کرنے کی استدعا کی۔ آستھانہ اور کمار نے الگ الگ درخواست دائر کی تھی۔ آستھانہ نے اپنی درخواست میں استدعا کی تھی کہ ان کے خلاف انتقامی کارروائی نہ کرنے سی بی آئی کو عدالتی ہدایت کی جائے۔ آستھانہ آج عدالت سے رجوع ہوئے تھے، جس سے چند گھنٹوں قبل کمار نے اپنی درخواست پیش کی تھی جس پر فوری سماعت سے عدالت نے اتفاق کرلیا تھا۔ دونوں درخواست گذاروں نے چیف جسٹس راجندر مینن کے اجلاس پر اپنا مدعا پیش کیا جس کو اُنھوں نے بغرض سماعت جسٹس وزیری کے اجلاس پر منتقل کیا۔ سی بی آئی نے اپنے ڈی ایس پی دیویندر کمار کو اس ادارہ کے دوسرے سب سے بڑے افسر آستھانہ سے متعلق رشوت ستانی کے الزامات کے ضمن میں گزشتہ روز گرفتار کیا تھا۔ کمار نے جو گوشت برآمد کرنے والے سرکردہ تاجر معین قریشی کے مقدمہ میں بھی ماخوذ تھے۔ ایک بزنس مین ستیش سانا کے بیان کے ریکارڈنگ میں جعلسازی و دھوکہ دہی کے الزامات کے تحت گرفتار کئے گئے تھے۔ باور کیا جاتا ہے کہ ستیش سان نے اس کیس میں راحت کے لئے اُنھیں رشوت دی تھی۔ سانا نے مبینہ طور پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ اس سال جون میں اُنھوں نے اپنے اس معامہ میں تلگودیشم کے رکن راجیہ سبھا سی ایم رمیش سے بات چیت کی تھی جنھوں نے سی بی آئی کے ڈائرکٹر تبادلہ خیال کے بعد یہ یقین دلایا تھا کہ اُنھیں پوچھ گچھ کے لئے پھر کبھی طلب نہیں کیا جائے گا۔ سانا نے کہاکہ ’’جون کے بعد سے سی بی آئی نے مجھے طلب نہیں کیا تھا اور اس میں اس تاثر میں تھا کہ میرے خلاف جاری تحقیقات ختم ہوچکی ہیں‘‘۔ لیکن سی بی آئی نے اب الزام عائد کیا ہے کہ کمار نے سی وی سی (سنٹرل ویجلنس کمشنر) کو سی بی آئی ڈائرکٹر الوک ورما کے خلاف آستھانہ کی طرف سے لگائے گئے بے بنیاد الزامات کو ٹھوس بنانے سوچے سمجھے منصوبہ کے مطابق یہ من گھڑت بیان دیا تھا۔ اُنھوں نے کہاکہ آستھانہ کے زیرقیادت خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے دیگر ارکان کے مبینہ رول کا سی بی آئی کی طرف سے جائزہ لیا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ ایک ایسے حیرت انگیز اقدام کے طور پر سی بی آئی نے اپنے خصوصی ڈائرکٹر آستھانہ کے خلاف رشوت ستانی کا مقدمہ درج کیا تھا۔ ماضی میں ایسے کسی اقدام کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ آستھانہ نے اس ضمن میں ورما کے خلاف شکایت کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT