Wednesday , September 19 2018
Home / شہر کی خبریں / اسپیڈ بریکرس کسی کے لیے رحمت تو کسی کے لیے زحمت

اسپیڈ بریکرس کسی کے لیے رحمت تو کسی کے لیے زحمت

حیدرآباد ۔ 12 ۔ ستمبر : دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں بے ہنگم ٹریفک نہ صرف ٹریفک پولیس بلکہ عوام کے لیے بھی ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے ۔ دوسری جانب ہمارے شہر میں خطرناک حد تک تیز رفتار گاڑیاں ( موٹر سیکلس اور کاریں ) چلانے والوں کی کوئی کمی نہیں خاص پر صبح کے اوقات میں کم عمر لڑکے بھی موٹر سیکلس بڑی ہی تیز رفتاری سے دوڑاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن قدم قدم پر موجود اسپیڈ بریکرس بار بار ان کی رفتار توڑ دیتے ہیں ۔ دونوں شہروں میں گلی گلی میں آپ کو ہر 10 قدم پر اسپیڈ بریکر ضرور دکھائی دیں گے اور ان پر سے گذرنے والے موٹر رانوں ، موٹر نشینوں اور سیکل سواروں یہاں تک کہ آٹو ڈرائیورس کے چہروں پر ناگواری کے آثار نمایاں دکھائی دیں گے لیکن راقم الحروف نے اسپیڈ بریکرس کے فوائد اور نقصانات کے بارے میں کچھ لوگوں سے بات کی جن میں اکثر نے اسے بہت بڑی مصیبت قرار دیا ۔ انجینئرنگ کے ایک طالب علم عفان نے جو چندرائن گٹہ کے رہنے والے ہیں نے بتایا کہ سڑکوں پر قدم قدم پر اسپیڈ بریکرس ہیں جس کے نتیجہ میں بار بار اسپیڈ کم کرنی پڑتی ہے ورنہ گاڑی کے خراب ہونے یا پھر گرجانے کا خوف لاحق رہتا ہے ۔ شیخ عبدالکریم نے جو اپنی گاڑی میں فرنیچر منتقل کرتے ہیں بتاتے ہیں کہ شہر میں اسپیڈ بریکرس بہت زیادہ ہیں گاڑی بہت احتیاط سے چلانی پڑتی ہے ۔ ورنہ گاڑی کے الٹ جانے کا خطرہ لاحق رہتا ہے ۔ ان کے خیال میں جب وہ شہر کے مختلف محلہ جات میں پھرتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے وہ زبردستی اُٹھ بیٹھ کررہے ہوں ۔ ان حالات میں وہ گاڑی سست رفتار سے چلانے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں ۔ اظہر نامی ایک نوجوان نے بتایا کہ اسپیڈ بریکرس سے جہاں موٹر سیکلس خراب ہورہی ہیں وہیں کمر ، گردوں ، ریڑھ کی ہڈی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ خاص پر Spondylitis سے متاثرہ لوگوں کے لیے اسپیڈ بریکر وبال جان بن جاتے ہیں ۔ ممتاز گلوکار خان اطہر نے بتایا کہ اسپیڈ بریکر دراصل کمر توڑنے کا کام کررہے ہیں ۔ گلزار حوض تا یاقوت پورہ مسافرین کو ان کی منزل پر پہنچانے والے آٹو ڈرائیور سلیم کے خیال میں اسپیڈ بریکرس کے باعث انہیں آٹو بہت احتیاط سے چلانا پڑتا ہے ۔ چونکہ گاڑی میں بہت زیادہ سواریاں ہوتی ہیں اس لیے اونچا اسپیڈ بریکر آجائے تو رفتار فوری کم کرنا ضروری ہوجاتا ہے ورنہ ایک بڑا حادثہ پیش آسکتا ہے ۔ اسپیڈ بریکرس کی خامیاں بیان کرنے والے ان افراد میں سے ملے پلی کے رہنے والے طالب علم عرفان نے جو آئی ٹی شعبہ میں مہارت رکھتے ہیں بتایا کہ ہمارے شہر میں ہر 5 تا 10 قدم پر اسپیڈ بریکرس ہیں ۔ اسپیڈبریکرس سے حادثات کا جوکھم کم ہوجاتا ہے لیکن غیر سائنٹفک انداز میں تعمیر کردہ یا نصب کردہ اسپیڈ بریکرس کے باعث عوام کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ قارئین ! جی ایچ ایم سی مین روڈس پر اسکولوں ، ہاسپٹلوں اور بازاروں کے قریب اسپیڈ بریکرس نصب کرتی ہے اور اس کے لیے سائنٹفک انداز کو ملحوظ رکھا جاتا ہے تاہم ہمارے شہر میں جو اسپیڈ بریکرس ڈالے گئے ہیں ۔ انہیں کسی بھی طرح اسپیڈ بریکرس نہیں کہا جاسکتا بلکہ یہ تو اچھے خاصے انسانوں کو مختلف بیماریوں میں مبتلا کرنے اور گاڑیوں کے پرزوں کی طرح انسانی جوڑوں کو ڈھیلے کرنے کا خطرناک ذریعہ بنے ہوئے ہیں ۔ ایک طرف اسپیڈ بریکرس کے مخالفین ہے دوسری جانب ہم نے ایسے لوگوں سے بھی ملاقات کی جنہوں نے قدم قدم پر اسپیڈ بریکرس کی مدافعت کی اور کہا کہ اس سے حادثات میں کمی ہوتی ہے ۔ اس لیے کہ آج کل نوجوان اور کم عمر لڑکے بہت تیز گاڑیاں چلا رہے ہیں اگر اتفاق سے کوئی معصوم بچے ان کی زد میں آجائیں تو بہت بڑا سانحہ پیش آسکتا ہے ۔ سنتوش نگر کے مولانا انعام الحسن کا کہنا ہے کہ گلیوں میں تک کمسن لڑکے تیز رفتار گاڑیاں چلاتے ہیں جب کہ ان گلیوں سے بچے اسکول جاتے ہیں ۔ اسپیڈ بریکرس کے باعث وہ حادثات سے بچ جاتے ہیں ورنہ ان لڑکوں کی اسپیڈ کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی جان کے بھی دشمن ہیں ۔ بہرحال 1906 سے امریکی ریاست نیوجرسی میں جس نے بھی اسپیڈ بریکر کی شروعات کی ٹریفک حادثات میں کمی کا سہرا اس کے سر بھی جاتا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ شہر میں اسپیڈبریکرس ضرور نصب کئے جائیں لیکن ربر کے اسپیڈ بریکر بھی استعمال کئے جاسکتے ہیں ۔ ویسے بھی ہمارے شہر کی سڑکیں ایسی ہیں کہ یہاں اسپیڈ بریکرس کی ضرورت نہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT