اسپیکر اسمبلی کے خلاف ریونت ریڈی کی الزام تراشی افسوسناک

کانگریس بس یاترا عوامی تائید سے محروم ، گورنمنٹ وہپ وینکٹیشورلو کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔ 4 اپریل (سیاست نیوز) قانون ساز کونسل میں گورنمنٹ وہپ بی وینکٹیشورلو نے رکن اسمبلی ریونت ریڈی پر سخت تنقید کی اور کہا کہ کانگریس کے لیے ریونت ریڈی کرایہ کا ڈھول ہیں جو حکومت کے خلاف بے بنیاد الزام تراشی میں مصروف ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بی وینکٹیشورلو نے کہا کہ تلنگانہ عوام ریونت ریڈی کے گمراہ کن پروپگنڈے کا شکار نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھوپال پلی میں کانگریس پارٹی کی بس یاترا کے موقع پر ریونت ریڈی اور جی وینکٹ رمنا ریڈی نے اسمبلی اسپیکر مدھوسودھن چاری پر تنقید کی ہے۔ اسپیکر کے خلاف بے بنیاد الزامات اور من مانی باتیں کہی گئیں 140 سالہ تاریخ رکھنے والی کانگریس پارٹی میں ریونت ریڈی کا گزشتہ دنوں داخلہ ہوا ہے۔ لیکن ریونت ریڈی کے ذریعہ کانگریس قائدین عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جس طرح تلگودیشم پارٹی میں بلاک میلنگ کی ذریعہ ریونت ریڈی برقرار رہے کانگریس میں بھی اسی روش پر قائم ہیں۔ اس ایوان میں اتم کمار ریڈی، جانا ریڈی اور بھٹی وکرامارکا رکن ہیں اسی کے اسپیکر کے خلاف الزام تراشی پر کانگریس قائدین کی خاموشی افسوسناک ہے۔ گورنمنٹ وہپ نے کہا کہ کانگریس کی بس یاترا کو عوامی تائید حاصل نہیں ہورہی ہے جس کے باعث پارٹی بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ بھوپال پلی میں اسپیکر اسمبلی کے حلقہ میں 300 افراد بھی ریالی میں شریک نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ دستوری عہدے پر فائز اسپیکر کے خلاف نچلی سطح کے الزامات عائد کرنا ریونت ریڈی کی تہذیب کو ظاہر کرتا ہے۔ ریونت ریڈی کو کمزور طبقات کی ترقی پسند نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسپیکر کو نشانہ بنایا گیا۔ گورنمنٹ وہپ نے کہا کہ بھوپال پلی میں مدھوسودھن چاری کی جانب سے کیے گئے ترقیاتی اقدامات کے سبب اسے مثالی میونسپلٹی کا درجہ حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر کے خلاف الزام تراشی کو عوام نے پسند نہیں کیا۔ بھوپال پلی میں چیف منسٹر نے دو مرتبہ دورہ کرتے ہوئے مختلف ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا ہے۔ ڈبل بیڈروم مکانات کی تعمیر میں ریاست بھر کے لیے بھوپال پلی مثالی حلقہ ہے۔ وینکٹیشورلو نے کہا کہ ریونت ریڈی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ کا دعوی کررہے ہیں لیکن انہیں واضح کرنا چاہئے کہ استعفیٰ کا مکتوب کہاں ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس کے سابق رکن اسمبلی جی وینکٹ رمنا ریڈی 400 ایکڑ اراضی پر قابض ہیں اور کیروسین اور پیٹرول میں ملاوٹ کے کاروبار میں ملوث ہیں۔ ایسے قائدین کو اسپیکر پر تنقید کا کوئی حق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کی قیادت میں حکومت تمام طبقات کی بھلائی کے اقدامات کررہی ہے۔ مشن بھگیرتا کے تحت ہر گھر کو صاف پینے کے پانی فراہم کرنے کا منصوبہ ہے جبکہ غریب لڑکیوں کی شادی کے لیے کلیان لکشمی اور شادی مبارک جیسی اسکیمات متعارف کی گئیں۔ انہوں نے کانگریس قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ دستوری عہدوں پر فائز افراد سے متعلق لب کشائی سے گریز کریں۔

TOPPOPULARRECENT